TrueHadith

اس بارے میں کہ حدیث سن کر کیا الفاظ نہ کہے جائیں

Jami' TirmidhiHadith 2587

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ وَسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَغَيْرِهِ رَفَعَهُ قَالَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلَی أَرِيکَتِهِ يَأْتِيهِ أَمْرٌ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي کِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرَوَی بَعْضُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ عَلَی الِانْفِرَادِ بَيَّنَ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ مِنْ حَدِيثِ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ وَإِذَا جَمَعَهُمَا رَوَی هَکَذَا وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمُهُ أَسْلَمُ

قتیبہ ، سفیان بن عیینہ، حضرت محمد بن منکدر اور سالم ابونضر، عبیداللہ بن ابی رافع سے وہ اپنے والد ابورافع سے اور ان کے علاوہ راوی اسے مرفوعا نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تم لوگوں میں کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تخت پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس کوئی ایسی بات آئے جس کا میں نے حکم دیا یا جس سے میں نے منع کیا تو وہ کہے میں نہیں جانتا۔ ہم تو جو چیز قرآن میں پائیں گے اس کی پیروی کریں گے۔ یہ حدیث حسن ہے۔ بعض اس حدیث کو سفیان سے وہ ابن منکدر سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔ پھر سالم ابونضر، عبیداللہ بن ابی رافع سے وہ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ابن عیینہ اس حدیث کو صرف ابن منکدر سے بیان کرتے وقت فرق واضح کر دیتے اور جب دونوں (ابن منکدر اور سالم ابونضر) سے بیان کرتے تو اسی طرح بیان کرتے۔ ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولی ہیں۔ ان کا نام اسلم ہے۔

Muhammad ibn Munkadir and Saalim Abu Nadr reported from, Ubaydullah ibn Abu Rafi (RA) from Abu Rafi, and others tracing it up to the Prophet (SAW) that he said: Let me not find one of you reclining on his couch while he receives a saying in which I have commanded something or forbidden something and he says, “I do not know. That which we find in Allah’s Book we follow.” [Ibn Majah 13]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2588

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا هَلْ عَسَی رَجُلٌ يَبْلُغُهُ الْحَدِيثُ عَنِّي وَهُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی أَرِيکَتِهِ فَيَقُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَکُمْ کِتَابُ اللَّهِ فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلَالًا اسْتَحْلَلْنَاهُ وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا حَرَّمَ اللَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، معاویة بن صالح، حسن بن جابر لخمی، حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جان لو کہ عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ کسی شخص کو میری کوئی حدیث پہنچے گی اور وہ تکیہ لگائے ہوئے اپنی مسند پر بیٹھا ہوا کہے گا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (کافی) ہے۔ پس ہم جو کچھ اس میں حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور جو حرام پائیں گے اسے حرام سمجھیں گے جبکہ (حقیقت یہ ہے کہ) جسے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام کیا وہ بھی اسی چیز کی طرح ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

Sayyidina Miqdam ibn Mad ikarib (RA) reported that the Prophet (SAW) said, “Know that a man will receive a hadith from me while he is reclining on his couch and he will say, “Between us and you is Allah’s Book. What we find in it to be permissible, we will regard it as permissible and what we find in it to be disallowed, we will regard it to be disallowed, and that which Allah’s Messenger (SAW) disallowed is like which Allah has disallowed.” [Ibn Majah 12,Ahmed 17194] --------------------------------------------------------------------------------

Permalink