TrueHadith

کوئی زانی زنا کرتے ہوئے حامل ایمان نہیں رہتا

Jami' TirmidhiHadith 2549

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَکِنَّ التَّوْبَةَ مَعْرُوضَةٌ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا زَنَی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَکَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ کَالظُّلَّةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذَلِکَ الْعَمَلِ عَادَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا خَرَجَ مِنْ الْإِيمَانِ إِلَی الْإِسْلَامِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ مَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ کَفَّارَةُ ذَنْبِهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَی اللَّهِ إِنْ شَائَ عَذَّبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَهُ رَوَی ذَلِکَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَخُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

احمد بن منیع، عبیدة بن حمید، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی زانی مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا اور کوئی چور مومن ہوتے ہوئے چوری نہیں کرتا لیکن توبہ قبول ہوتی ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس، عائشہ، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے اور اس پر سائے کی طرح رہتا ہے جب وہ اس گناہ سے نکلتا ہے تو ایمان واپس لوٹ آتا ہے۔ ابوجعفر محمد بن علی فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے مراد زانی کا ایمان سے اسلام کی طرف جانا ہے۔ متعدد طریق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زنا اور چوری کے بارے میں فرمایا کہ جو آدمی ان میں سے کسی کا ارتکاب کرے (یعنی زنا یا چور) پھر اس پر حد قائم کی جائے تو وہ (حد) اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ اور جس نے یہ گناہ کیا (یعنی زنا یا چوری) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو یہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو بخش دے۔ یہ حدیث حضرت علی بن ابی طالب، عبادہ بن صامت اور خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔

Sayyidina Abu Huraira (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “No adulterer commits adultery while he is a believer, and no thief commits theft while he is a believer, but repentance is accepted.” [Bukhari 2475]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 2550

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْکُوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَی عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَکْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ إِلَی شَيْئٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا کَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوْ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ

ابوعبیدة بن ابی السفر، احمد بن عبداللہ ہمدانی، حجاج بن محمد، یونس بن ابواسحاق، ابواسحاق ہمدانی، ابوجحیفة، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کسی ایسے کام کا مرتکب ہو کہ اس پر حد لازم آئی اور اس کو جلد ہی دنیا میں سزا دے دی گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے کہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور اگر کوئی کسی ایسے فعل کا مرتکب ہوا جس کی وجہ سے اس پر حد جاری ہوتی ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو چھپا لیں اور اسے معاف فرما دیں تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ لطف وکرم والا ہے کہ کسی بات کو معاف کرنے کے بعد لوٹائے (یعنی دوبارہ سزا دے) ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے زنا یا چوری یا شراب پینے کے مرتکب کو کافر قرار دیا ہو۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that the Prophet (SAW) said, “If anyone is awarded the ‘Hadd’ then he has received his punishment in this world, for, Allah is too Just to punish His slave in the Hereafter a second time (for the same crime). As for him, who has attracted the hadd and Allah has concealed his crime and pardoned him, Allah is most Kind to return to something once He has forgien it.” [Ibn Majah 2604]

Permalink