TrueHadith

میت پر چلائے بغیر رونا جائز ہے

Jami' TirmidhiHadith 927

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ قَالَ و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُکِرَ لَهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ عَلَيْهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَکْذِبْ وَلَکِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يُبْکَی عَلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

قتیبہ، مالک، اسحاق، معن، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، ابن محمد بن عمرو بن حزم، حضرت عمرہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ ابن عمر کہتے ہیں کہ میت کو زندہ آدمی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی مغفرت فرمائے انہوں نے یقینا جھوٹ نہیں بولا لیکن یا تو وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک یہودی عورت کی میت کے پاس سے گذرے۔ لوگ اس کی موت پر رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

Amrah narrated that Sayyidah Ayshah (RA) was told that Ibn Umar (RA) said, The dead will be punished for the weeping of the survivors.” She (Sayyidah Ayshah ) said, “May Allah forgive Abu Abdur Rahman. Surely he has not lied, but has forgotten or is mistaken. Only that Allah’s Messenger (SAW) had passed by a Jewess (dead) over whom they were weeping. He had said : They are weeping while she is being punished in her grave.” [Ahmed24812]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 925

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَمْ يَکْذِبْ وَلَکِنَّهُ وَهِمَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَاتَ يَهُودِيًّا إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْکُونَ عَلَيْهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَرَظَةَ بْنِ کَعْبٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِلَی هَذَا وَتَأَوَّلُوا هَذِهِ الْآيَةَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ

قتیبہ، عباد بن عباد، محمد بن عمر، یحیی بن عبدالرحمن، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میت پر اس کے رشتہ داروں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے حضرت عائشہ نے فرمایا اللہ ان پر رحم فرمائے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا بلکہ انہیں وہم ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات ایک یہودی کے لیے فرمائی تھی کہ وہ مر گیا تھا پھر آپ نے فرمایا کہ میت پر عذاب ہورہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اس باب میں حضرت عباس، قرظہ بن کعب، ابوہریرہ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے اور یہ حدیث حضرت عائشہ ہی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ بعض اہل علم کا اس روایت پر عمل ہے اور انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر کی ہے کہ اللہ فرماتا ہے۔ (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 25۔فاطر : 18) کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

Sayyidina Ibn Umar reported that the Prophet (SAW) said, “The dead is punished because of the weeping of his family over him. Sayyidah Ayshah (RA) said, “May Allah have mercy on him. The dead is not punished, but he has misunderstood. Allah’s Messenger (SAW) only said about a Jew who had died that the dead is being punished and his folk are weeping over him.” [Ahmed288, Bukhari 1286, Muslim 928, Nisai 1853]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 926

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَی ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ فَوَجَدَهُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَکَی فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَتَبْکِي أَوَلَمْ تَکُنْ نَهَيْتَ عَنْ الْبُکَائِ قَالَ لَا وَلَکِنْ نَهَيْتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ صَوْتٍ عِنْدَ مُصِيبَةٍ خَمْشِ وُجُوهٍ وَشَقِّ جُيُوبٍ وَرَنَّةِ شَيْطَانٍ وَفِي الْحَدِيثِ کَلَامٌ أَکْثَرُ مِنْ هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن لیلی، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے صاحبزادے ابراہیم کے پاس لے گئے وہ اس وقت نزع کی حالت میں تھے۔ آپ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور رونے لگے۔ عبدالرحمن نے عرض کیا آپ بھی روتے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ بیوقوفی اور نافرمانی کی دو آوازوں سے منع کیا ہے ایک تو مصیبت کے وقت کی آواز جب چہر نوچا جائے اور گریبان چاک کیا جائے دوسری شطان کی طرف رونے کی آواز (یعنی نوحہ) امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated : The Prophet (SAW) took the hand of Abdur Rahman ibn Awf (RA) and went with him to his son Ibrahim (RA) . He found him dying. So, the Prophet (SAW) took him in his lap and wept. Abdur Rahman ibn Awf said, “Do you weep? Have you not disallowed us to weep?” He said, “No. But, I disallowed from two foolish noises-clawing at the face and weeping and tearing garments, and wailing and shrieking like the devil.”

Permalink