TrueHadith

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب

Jami' TirmidhiHadith 3701

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْکُوفِيُّ وَيُکْنَی أَبَا الْحَکَمِ

محمود بن غیلان، ابوداؤد حفری، سفیان، یزید بن ابی زیاد، ابن ابی نعم، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن رضی اللہ اور حسین رضی اللہ عنہ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ سفیان بھی جریر اور ابن فضیل سے اسی کی مانند روایت کرتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح حسن ہے اور ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “Hasan and Husayn are the chief of the youth of paradise.” [Ahmed 10999]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3702

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَی شَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ قَالَ فَکَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَی وَرِکَيْهِ فَقَالَ هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

سفیان بن وکیع وعبد بن حمید، خالد بن مخلد، موسیٰ بن یعقوب زمعی، عبداللہ بن ابی بکر بن زید بن مہاجر، حسن بن اسامہ بن زید، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں کسی کام سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر کچھ لپیٹے ہوئے تھے مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا تھا۔ جب میں کام سے فارغ ہوا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے پر حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں میرے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) narraterd: I went to the Prophet (SAW) one night in connection with a need. The Prophet came out wrapped in something. I do not know what it wag. When I had finished what I had to, I asked, ‘What is this you are wrapped into?” He uncovered it and they were Hasan and Husayn (RA) on his back. He said, “They are my children-children of my daughter. 0 Allah, I love them, so do love them, and love whoso loves them,”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3703

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ انْظُرُوا إِلَی هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنْ الدُّنْيَا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

عقبہ بن مکرم بصری عمی، وہب بن جریر بن حازم، ان کے والد، محمد بن ابی یعقوب، حضرت عبدالرحمن ابی نعم فرماتے ہیں کہ ایک عراقی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مچھر کے خون کے متعلق پوچھا کہ اگر کپڑے کو لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ فرمانے لگے دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے، اور انہی لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند (حضرت حسین) کو قتل کیا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حسن وحسین دونوں میرے دنیا کے پھول ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ شعبہ اس حدیث کو محمد بن ابی یعقوب سے نقل کرتے ہیں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔ ابن ابی نعم سے عبدالرحمن بن ابی نعم بجلی مراد ہیں۔

Abdur Rahman ibn Abu Nu’m reported that a man of Iraq asked Ibn Umar about blood of a mosquito that stains a garment. Ibn Umar (RA) said, “Look at him. He asks about blood of a mosquito while they have killed the son° of Allah’s Messenger(SAW) had heard Allah’s Messenger (SAW) say. Surely, Hasan and Husayn are my two flowers in this world.” [Ahmed 5572, Bukhari 3753]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3704

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ حَدَّثَنَا رَزِينٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي سَلْمَی قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْکِي فَقُلْتُ مَا يُبْکِيکِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ وَعَلَی رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ فَقُلْتُ مَا لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

ابوسعید اشج، ابوخالد احمر، رزین، حضرت سلمی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی تو وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی پر خاک تھی، میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ابھی حسین کا قتل دیکھ آیا ہوں۔ یہ حدیث غریب ہے۔

Sayyidah Salmaa reported that she went to Sayyidah Umm Salamah (RA) and found her weeping. She asked her what made her weep. She said, “I saw Allah’s Messenger (RA) in my dream. There was dust on his head and beard. I asked him, ‘What is wrong with you, 0 Messenger of Allah?’ He said, ‘I have just witnessed Husayn’s murder.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3705

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ أَهْلِ بَيْتِکَ أَحَبُّ إِلَيْکَ قَالَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَکَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ

ابوسعید اشج، عقبہ بن خالد، یوسف بن ابراہیم، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ اہل بیت میں سے سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہیں؟ فرمایا حسن وحسین سے۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے تھے کہ میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ اور پھر انہیں سونگھتے اور اپنے ساتھ چپٹاتے۔ یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) was asked, ‘Which one of the people of your house is dearest to you?” He said, “Hasan and Husayn.” He would say to Sayyidah Fatimah (RA), “Call for me my two sons.’ Then, he would sniff them and hug them.

Permalink