TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت بطور تحریم نہیں ہے۔

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940710)

وعن عائشة رضي الله عنها أن امرأة قالت يا رسول الله إني ولدت غلاما فسميته محمدا وكنيته أبا القاسم فذكر لي أنك تكره ذلك . فقال ما الذي أحل اسمي وحرم كنيتي ؟ أو ماالذي حرم كنيتي وأحل اسمي ؟ . رواه أبو داود . وقال محيي السنة غريب .

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میرے ایک لڑکا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اس کو پسند نہیں فرماتے یعنی بتانے والے نے مجھ کو یہ بتلایا کہ آپ نے اپنا نام اور کنیت ایک ساتھ اختیار کیے جانے کو حرام قرار دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایسی کیا چیز ہے جس نے میرے نام پر نام رکھنے کو تو حلال و جائز رکھا ہے اور میری کنیت پر کنیت مقرر کرنے کو حرام کیا ہے یا یہ فرمایا کہ ایسی کیا چیز ہے جس نے میری کنیت پر کنیت رکھنے کو تو حرام کیا ہے اور میرے نام پر نام رکھنے کو حلال رکھا ہے؟ ابوداؤد) اور محی السنہ نے کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حدیث کے آخری الفاظ کے سلسلے میں راوی نے یہ فرمایا کہ کے ذریعہ اپنے شک کو ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو پہلے نام کی حلت اور بعد میں کنیت کی حرمت کو ذکر کیا یا پہلے کنیت کی حرمت کو اور بعد میں نام کی حلت کو ذکر فرمایا۔تاہم دونوں صورتوں میں معنی و مطلب ایک ہی ہیں مفہوم و مقصد کے درمیان کوئی فرق و تفاوت نہیں ہے! اصل بات یہ ہے کہ محدث جب کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو اس بات کو پوری احتیاط رکھتا ہے کہ اس حدیث کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح سنے ہیں یا جس طرح اس تک پہنچے ہیں اسی طرح بعینیہ ان کو نقل کرے چونکہ اس موقع پر راوی کو الفاظ حدیث کے سلسلے میں شک ہو اس لیے اس نے مذکورہ طرح سے بیان کیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت بطریق تحریم یعنی حرام ہونے کے طور پر نہیں ہے بلکہ مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940711)

وعن محمد بن الحنفية عن أبيه قال قلت يا رسول الله أرأيت إن ولد لي بعدك ولد أسميه باسمك وأكنيه بكنيتك ؟ قال نعم . رواه أبو داود

" اور حضرت محمد بن حنفیہ اپنے والد ماجد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے بتائیے کہ اگر میں آپ کے وصال کے بعد میرے یہاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یا کسی اور بیوی سے کوئی بچہ پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں!(ابوداؤد) تشریح یہ حدیث بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تھا اس کے بعد یہ جائز ہے اس مسئلہ پر علماء کے جو اختلافی اقوال ہیں پیچھے نقل کیے جا چکے ہیں۔

-

Permalink