TrueHadith

اپنے بڑوں کے سامنے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940787)

وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يبلغني أحد من أصحابي عن أحد شيئا فإني أحب أن أخرج إليكم وأنا سليم الصدر . رواه أبو داود

" اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا، میرے صحابہ میں سے کوئی شخص کسی کے بارے میں مجھ تک کوئی (ایسی ) بات نہ پہنچائے (جس سے اس کی برائی ظاہر ہوتی ہو یعنی میرے پاس آ کر کسی کے بارے میں یہ نہ کہے کہ فلاں آدمی نے یہ برا کام کیا ہے یا یہ بری بات کہی ہے یا وہ اس بری عادت میں مبتلا ہے) کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں گھر سے نکل کر تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو (کہ میرے دل میں تم میں سے کسی کی طرف سے کوئی ناراضگی ، غصہ اور بغض نہ ہو۔ (ابوداؤد) تشریح اس ارشاد گرامی میں امت کے لیے یہ تعلیم ہے کہ کوئی آدمی اپنے کسی بڑے مثلا حاکم و سردار اور بزرگ و شیخ کے سامنے کسی شخص کی برائی بیان نہ کرے تاکہ بغض عداوت اور ناراضگی و خفگی کی صورت پیدا نہ ہو۔ حدیث کے آخری جز کے مطلب یہ لکھا ہے کہ اس اشاد کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا اپنی اس خواہش و آرزو کا اظہار فرمایا کہ آپ اپنے صحابہ سے خوش و راضی رہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوں۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940788)

وعن عائشة قالت قلت للنبي صلى الله عليه وسلم حسبك صفية كذا وكذا تعني قصيرة فقال لقد قلت كلمة لو مزج بها البحر لمزجته . رواه أحمد والترمذي وأبو داود

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں (ایک دن مجھے کیا سوجھی کہ) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ بیٹھی کہ صفیہ کے تئیں بس آپ کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں اس بات سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے قد کی کوتاہی کا ذکر کرنا تھا رسول اللہ نے میری یہ بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگواری کے ساتھ فرمایا تم نے اپنی زبان سے ایک ایسی بات نکالی ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملایا جائے تو بلاشبہ یہ بات دریا پر غالب آ جائے (احمد، ترمذی، ابوداؤد) تشریح حضرت صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ تھیں ان کا قد چھوٹا تھا چنانچہ ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے اس عیب کا ذکر کریں اور اس طرح انہوں نے مذکورہ الفاظ اپنی زبان سے ادا کیے ظاہر ہے کہ یہ غیبت تھی جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مبتلا ہوئیں اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور مذکورہ ارشاد گرامی کے ذریعہ گویا ان پر یہ واضح کیا کہ تم نے جو بات کہی ہے وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے اس قدر ہیبت ناک ہے کہ اگر بالفرض اس کو کسی دریا میں ملا دیا جائے تو دریا اس کے سامنے ہیچ ہو جائے اور یہ چند الفاظ اس دریا کی وسعت و عظمت کے باوجود اس پر غالب آ جائیں اور اس کو متغیر کر دیں اور جب ان الفاظ کے مقابلہ میں دریا کا یہ حال ہے تو سوچو کہ تمہارے اعمال کا کیا حشر ہو سکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے اس درجہ کے عیب کو بقصد حقارت بیان کرنا فلاں شخص کو تاہ قد ہے غیبت ہے۔ جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا کذ اکذا کے ذریعہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے بعض عیوب یعنی ان کے قد کی کوہی کنایۃ بیان کرنا مقصود تھا جب کہ ایک شارح نے کہا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ان الفاظ کذا کذا کے ذریعہ دراصل اپنی بالشت کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تو گویا بالشت بھر کی ہیں، نیز یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لفظ کذا کو مکرر لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے اس عیب کو زبان اور اشارہ دونوں ذریعوں سے بیان کرنا تھا چنانچہ ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہلے تو اپنی زبان سے کہا ہوگا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا ٹھگنی ہیں اور پھر اپنی بالشت کا اشارہ کر کے اپنی بات کو موکد کیا کہ وہ بہت ہی ٹھگنی ہیں ملا علی قاری نے اس طرح کی بات کی ہے۔

-

Permalink