TrueHadith

دو آدمیوں کے درمیان گھس کر بیٹھنے کی ممانعت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940641)

وعن عبد الله بن عمرو عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يحل لرجل أن يفرق بين اثنين إلا بإذنهما . رواه الترمذي وأبو داود .

" اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ دو بیٹھے ہوئے آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر جدائی ڈالے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر دو آدمی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہوں تو کسی تیسرے شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان گھس کر بیٹھ جائے کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ دونوں آدمی آپس میں محبت و تعلق رکھتے ہوں، اور راز دارانہ طور پر ایک دوسرے سے کوئی بات چیت کرنا چاہتے ہوں اگر کوئی تیسرا آدمی ان کے درمیان حائل ہو جائے گا تو اس کا وہاں بیٹھنا ان پر شاق گزرے گا، علماء نے یہ وضاحت کی ہے کہ اگر یہ معلوم ہو کہ یہ دونوں بیٹھے ہوئے آدمی آپس میں محبت و تعلق رکھتے ہیں تو ان کے درمیان نہ بیٹھے اور اگر یہ معلوم ہو کہ ان دونوں کے درمیان اتحاد و محبت کا علاقہ نہیں ہے تو اس صورت میں ان کے درمیان بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اور اگر ان دونوں کے درمیان تعلق مبہم ہو یعنی یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ ان کے درمیان محبت کا علاقہ ہے کہ نہیں یا سرے سے یہ معلوم ہی نہ ہو تو اس صورت میں احتیاط کا پہلو یہ ہوگا کہ ان کے درمیان نہ بیٹھے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940642)

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا تجلس بين رجلين إلا بإذنهما . رواه أبو داود .

" اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے سے بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھو الا یہ کہ ان کی اجازت حاصل ہو۔ (ابوداؤد)

-

Permalink