TrueHadith

لگاتار تین بار سے زائد چھینکنے والے کو جواب دینا ضروری نہیں ہے۔

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940681)

وعن عبيد بن رفاعة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال شمت العاطس ثلاثا فإن زاد فشمته وإن شئت فلا . رواه أبو داود والترمذي وقال هذا حديث غريب .

" اور حضرت عبید بن رفاعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ چھینکنے والے کی لگاتار تین چھینک تک جواب دیا جائے اور اگر کوئی تین بار سے زائد چھینکے تو اس صورت میں اختیار ہے کہ چاہے اس کو جواب دیا جائے اور چاہے نہ دیا جائے اس روایت کو امام ابوداؤد اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940682)

وعن أبي هريرة قال شمت أخاك ثلاثا فإن زاد فهو زكام . رواه أبو داود وقال لا أعلمه إلا أنه رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم .

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اپنے مسلمان بھائی کی چھینک کا تین بار تک جواب دو اگر وہ اس سے زائد چھینکے تو سمجھو کہ اس کو زکام ہو گیا ہے اس روایت کو ابوداؤد اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ حضرت ابوہریرہ نے رضی اللہ عنہ اس حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا ہے۔ تشریح امام ابوداؤد کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول نہیں ہے بلکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے اور اگر اس روایت کو حدیث موقوف یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول کہا جائے تو بھی یہ روایت حدیث مرفوع یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے حکم میں ہو گی کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تین کے عدد کا تعین شارع علیہ السلام سے سنے بغیر نہیں کر سکتے۔

-

Permalink