TrueHadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ رضی اللہ عنہ سے بے تکلفی

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940823)

وعن عوف بن مالك الأشجعي قال أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبة من أدم فسلمت فرد علي وقال ادخل فقلت أكلي يا رسول الله ؟ قال كلك فدخلت . قال عثمان بن أبي عاتكة إنما قال أدخل كلي من صغر القبة . رواه أبو داود

" اور حضرت عوف ابن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے دوران ایک دن میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ چمڑے کے خیمے میں تشریف فرما تھے میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اندر آ جاؤ میں نے مزاح کے طور پر عرض کیا یا رسول اللہ میں سب کا سب اندر آ جاؤں یعنی سارے جسم کو اندر لے آؤں؟ آپ نے فرمایا ہاں سب بدن کو اندر لے آؤ چنانچہ میں خیمہ کے اندر داخل ہو گیا حضرت عثمان ابن ابوعاتکہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہ کیا میں سب کا سب اندر آ جاؤں اس مناسبت سے کہی تھی کہ خیمہ چھوٹا تھا۔ (ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح محبت و شفقت کا تعلق رکھتے تھے کہ صحابہ آپ کے ساتھ بے تکلف ہو جاتے تھے اور اس بے تکلفی کے موقع پر آپ سے ظریفانہ بات بھی کر لیتے تھے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940824)

وعن النعمان بن بشير قال استأذن أبو بكر على النبي صلى الله عليه وسلم فسمع صوت عائشة عاليا فلما دخل تناولها ليلطمها وقال لا أراك ترفعين صوتك على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يحجزه وأبو بكر مغضبا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم حين خرج أبو بكر كيف رأيتني أنقذتك من الرجل ؟ . قالت فمكث أبو بكر أياما ثم استأذن فوجدهما قد اصطلحا فقال لهما أدخلاني في سلمكما كما أدخلتماني في حربكما فقال النبي صلى الله عليه وسلم قد فعلنا قد فعلنا . رواه أبو داود

" اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ سے گھر آنے کی اجازت طلب کی جبھی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز کو سنا جو ذرا زور سے بول رہی تھی پھر جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑا اور طمانچہ مارنے کا ارادہ کیا اور کہا کہ خبردار آئندہ میں تمہیں رسول اللہ کی آواز سے اونچی آواز میں بولتے ہوئے نہ دیکھوں ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مارنے سے) روکنا شروع کیا اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں باہر نکل کر چلے گئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے چلے جانے کے بعد فرمایا تم نے دیکھا میں نے تمہیں اس آدمی یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے کس طرح بچا لیا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے خفگی کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمندگی کی وجہ سے کئی دن تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہیں آئے پھر ایک دن انہوں نے دروازے پر حاضر ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگی اور اندر آئے تو دیکھا کہ دونوں (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) صلح کی حالت میں ہیں انہوں نے دونوں کو مخاطب کر کے کہا تم دونوں مجھ کو اپنی صلح میں شریک کر لو جس طرح تم نے مجھ کو اپنی لڑائی میں شریک کیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا بے شک ہم نے ایسا ہی کیا بے شک ہم نے ایسا ہی کیا یعنی تمہیں اپنی صلح میں شریک کر لیا۔ (گویا آپ نے اپنی بات کو موکدہ کرنے کے لیے یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا) ابوداؤد۔ تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ جملہ بطور مزاح تھا جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ دیکھا میں نے تمہیں اس شخص کے ہاتھ سے کس طرح نجات دلائی گویا آپ نے تمہارے باپ کہنے کی بجائے اس شخص کہہ کر بقصد مزاح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں اجنبی قرار دیا۔

-

Permalink