TrueHadith

بچوں کی صحیح تربیت وتادیب کی اہمیت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940907)

وعن جابر بن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأن يؤدب الرجل ولده خير له من أن يتصدق بصاع . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب وناصح الراوي ليس عند أصحاب الحديث بالقوي

" اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بخدا انسان کا اپنے بیٹے کو ادب کی ایک بات سکھانا ایک صاع غلہ خیرات کرنے سے بہتر ہے ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے راوی ناصح محدثین کے نزدیک قوی یعنی قابل اعتماد نہیں ہے۔ تشریح " ادب " سے شرعی تربیت و تادیب ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت کی نظر میں بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے لہذا یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صحیح تعلیم و تربیت سے بہرہ مند فرمائیں اور صحیح تعلیم و تربیت وہی ہے جو دینی تعلیم اسلامی اخلاق اور شرعی آداب و قواعد پر مشتمل ہے۔ترمذی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن واضح رہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کرنا جائز ہے جیسا کہ محدثین کا متفقہ فیصلہ ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940908)

وعن أيوب بن موسى عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما نحل والد ولده من نحل أفضل من أدب حسن . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان وقال الترمذي هذا عندي حديث مرسل

" اور حضرت ایوب بن موسی اپنے والد حضرت موسی اور وہ ایوب کے دادا حضرت ابن سعید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کوئی باپ اپنے بیٹے کو نیک ادب اور صحیح تربیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دیتا۔ ترمذی نے کہا ہے کہ میرے نزدیک یہ حدیث مرسل ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے جو چیز سب سے زیادہ قیمتی اور سب سے زیادہ مفید ہو سکتی ہے وہ صحیح تعلیم و تربیت ہے اور نیک تادیب ہے۔

-

Permalink