TrueHadith

خوشبودار پھول کا تحفہ واپس نہ کرو

Mishkat SharifHadith (internal ref #1930232)

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من عرض عليه ريحان فلا يرده فإنه خفيف المحمل طيب الريح " . رواه مسلم (2/183) 3017 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يرد الطيب . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو خوشبودار پھول تحفہ کے طور پر دیا جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اول تو وہ سبکسار (یعنی بہت ہلکا احسان) ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ایک اچھی خوشبو ہے ( مسلم) تشریح : یہی حکم کہ اسے واپس نہ کیا جائے ہر اس تحفہ کا ہے جو بظاہر کم تر ہونے کی وجہ سے زیادہ احسان نہ رکھتا ہو مگر نفع وخوشگواری کے اعتبار سے بہت مفید اور نافع ہو تا کہ جس شخص نے وہ تحفہ دیا ہے اس کی دل شکنی نہ ہو ٢) اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کے تحفے کو واپس نہیں کیا کرتے تھے ( بخاری)

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1930245)

وعن أبي عثمان النهدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إذا أعطي أحدكم الريحان فلا يرده فإنه خرج من الجنة " . رواه الترمذي مرسلا

اور حضرت ابوعثمان نہدی تابعی کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو خوشبودار پھول بطور تحفہ وہدیہ دیا جائے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرے کیونکہ وہ پھول جنت سے آیا ہے اس روایت کو امام ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح وہ پھول جنت سے آیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ خوشبودار پھول کی ایک فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس کی جڑ جنت سے آئی ہے اس طرح اس میں سے جو خوشبو آتی ہے وہ گویا جنت کی خوشبو ہے پھر یہ کہ پھول کا تحفہ بہت سبکسار (یعنی بہت کم احسان رکھتا ہے) جیسا کہ گذشتہ صفحات میں اس کی وضاحت بیان کی جا چکی ہے۔ لہذا جب کسی کو خوشبو دار پھول دیا جائے تو اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔

-

Permalink