TrueHadith

قرآن محض خوش آوازی کا نام نہیں

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920723)

عن جابر قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نقرأ القرآن وفينا الأعرابي والأعجمي قال : " اقرؤوا فكل حسن وسيجيء أقوام يقيمونه كما يقام القدح يتعجلونه ولا يتأجلونه " . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تشریف لائے جب کہ ہم قرآن کریم پڑھ رہے تھے ہم میں دیہاتی لوگ اور عجمی بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ پڑھو! تم میں سے ہر شخص اچھا پڑھتا ہے یاد رکھو ایک ایسی جماعت پیدا ہونے والی ہے جس کے افراد قرآن کریم کو اس طرح سیدھا کریں گے جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے اور اس کا بدلہ جلد ہی دنیا ہی میں حاصل کرنا چاہیں گے۔ آخرت کے لیے کچھ نہ چھوڑیں گے۔ (ابوداؤد، بیہقی) تشریح عجمی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اہل عرب میں سے نہ ہوں چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ جس مجلس کا ذکر کر رہے ہیں اس میں ایسے صحابہ بھی تھے جن کا تعلق عرب سے نہیں تھا بلکہ وہ فارسی و حبشی تھے جیسے حضرت سلمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال وغیرہ رضی اللہ عنہم اگرچہ اس مجلس میں موجود دیہاتی لوگوں کی قرات عجمی لوگوں کی قرات کی مانند نہیں تھی مگر اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم میں سے سب کی قرات اچھی اور لائق ثواب ہے کیونکہ تم نے دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دی ہے اگر تم نے اپنی زبانوں اور اپنی آوازوں کو آراستہ نہیں کیا ہے تو اس میں تمہارے لئے کوئی ضرر نہیں ۔ جب کہ تمہارے بعد ایک ایسی جماعت پیدا ہونے والی ہے جس کے افراد قرآن کو اس طرح سیدھا کریں گے جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے یعنی اپنی آوازوں کو اور قرآنی کلمات والفاظ کو خوب سنواریں گے اور مخارج کی ادائیگی میں بہت زیادہ تکلف سے کام لیں گے اور ان کی یہ تمام سعی کوشش آخرت کے لئے نہیں ہو گی بلکہ اپنی شہرت، اپنی عزت و فخر و غرور اور دنیا کو دکھانے سنانے کے لئے ایسا کریں گے۔ لہٰذا حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہی ہے کہ ایسے لوگ محض دنیاوی فائدہ کے لئے قرآن پڑھیں گے آخرت کے ثواب سے کچھ غرض نہیں رکھیں گے اس طرح دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں گے، یا یوں کہئے کہ دین کو دنیا کے بدلے میں بیچیں گے۔ حاصل یہ کہ قرآن پڑھنے کے بارہ میں خلوص، غور و فکر اور معانی آیات میں استغراق ہی کو اولیت کا مقام حاصل ہونا چاہئے محض مخارج والفاظ کی صحیح ادائیگی اور خوش آوازی وخوش گلوئی کے ساتھ پڑھنا ہی کچھ کام نہیں آئے گا۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920724)

وعن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " اقرؤوا القرآن بلحون العرب وأصواتها وإياكم ولحون أهل العشق ولحون أهل الكتابين وسيجي بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجع الغناء والنوح لا يجاوز حناجرهم مفتونة قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم " . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم قرآن کریم اہل عرب کی طرح اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو اہل عشق اور اہل کتاب کے طریق کے مطابق پڑھنے سے بچو میرے بعد ایک جماعت پیدا ہو گی جس کے افراد راگ اور نوحہ کی طرح آواز بنا کر قرآن پڑھیں گے۔ ان کا حال یہ ہو گا کہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا (یعنی ان کا پڑھنا قبول نہیں ہو گا) نیز ان کی قرات سن کر خوش ہونے والوں کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ (بیہقی ، رزین) تشریح اہل عرب بلاتکلف اور برجستہ قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ ان کی آواز ان کے دل کی امنگ سے ہم آہنگ ہوتی ہے ان کے سامنے موسیقی وغیرہ کی طرح کے قواعد نہیں ہوتے ، نہ وہ خواہ مخواہ کا تکلف کر کے اپنی آواز اور اپنا لہجہ بنا کر کوشش کرتے ہیں اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ہر مسلمان کو چاہئے وہ قرآن کریم اسی خالص لہجہ اور آواز میں پڑھے جو قرآن کی عظمت شان اور حقیقت کے مطابق ہے اور وہ اہل عرب کا لہجہ ہے۔ اس جملہ بلحون العرب واصواتہا میں لفظ اصوا تھا عطف تفسیر کے طور پر ہے۔ اہل عشق اور اہل کتاب کے طریقہ کے مطابق الخ سے یہ مراد ہے کہ جس طرح عشاق اور شعراء اپنی نظمیں وغزلیں اور اشعار آواز بنا کر اور ترنم و سر کے ساتھ پڑھتے ہں اور موسیقی اور راگ کے قواعد کی رعایت کرتے ہیں تم اس طرح قرآن کریم نہ پڑھو چونکہ یہود و نصاریٰ بھی اپنی کتابوں کو اسی طرح غلط طریقوں سے پڑھتے تھے اس لئے ان کی مانند پڑھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ ان کے قلوب فتنہ میں مبتلا ہوں۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ حب دنیا میں مبتلا ہوں گے اور لوگ چونکہ ان کی آوازوں کو اچھا کہیں گے اس لئے وہ اور زیادہ گمراہی میں پھنسے ہوں گے اسی طرح ان کی آوازوں کو سن کر خوش ہونے والے اور ان کو اچھا کہنے والے بھی ایک غلط بات اور غلط کام کو اچھا سمجھنے کی وجہ سے ضلالت میں مبتلا ہوں گے۔

-

Permalink