TrueHadith

آسان حساب اور سخت حساب ؟

Mishkat SharifHadith (internal ref #1950123)

عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ليس أحد يحاسب يوم القيامة إلا هلك . قلت أو ليس يقول الله ( فسوف يحاسب حسابا يسيرا ) فقال إنما ذلك العرض ولكن من نوقش في الحساب يهلك . متفق عليه . ( متفق عليه )

" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ تباہ ہو جائے گا ( یعنی جو بھی شخص سخت حساب اور دار وگیر سے دوچار ہوگا اس کا بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا نیز یہاں " تباہ ہونے " سے مراد عذاب میں مبتلا ہونا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ( جب میں نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشاد ایک کلیہ کے طور پر سنا تو میرے ذہن میں اشکال پیدا ہوا اور اسی اشکال کو دور کرنے کے لئے ) میں نے عرض کیا کہ " کیا اللہ تعالیٰ نے اہل نجات کے حق میں یہ نہیں فرمایا کہ ( فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا) 84۔ الانشقاق : 8) یعنی ( جس شخص کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا " پس قریب ہوگا کہ اس کا حساب آسان ہو " ( اور جب حساب آسان ہوگا او اس کے تباہ ہونے کے کیا معنی ہوں گے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے اس اشکال کو دور کرنے کے لئے ) فرمایا ۔ " یہ آسان حساب صرف پیش کرنا اور بیان محض ہے لیکن جس سے حساب میں مناقشہ کیا جائے گا ( یعنی جس کو سخت باز پرس اور داروگیر سے گزرنا پڑے گا ) اور وہ یقینا تباہ ہوگا ۔ " ( بخاری ومسلم ) تشریح : " آسان حساب صرف پیش کرنا اور بیان محض ہے " کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ پس قریب ہوگا کہ اس کا حساب آسان ہو ۔ " تو آسان حساب ہونے سے مراد ہے کہ اس کے اچھے اور برے اعمال اس کو بتلا دیے جائیں گے مثلا اس سے کہا جائے گا کہ تو نے یہ کیا ہے ، وہ کیا ہے ، اور برے اعمال پر مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جس شخص کے حساب میں داروگیر اور باز پرس کا دخل ہو جائے گا ، اس سے ایک ایک چیز اور ہر چھوٹے بڑے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا ، اور اس پر محاسبہ ومواخذہ کی سخت کاروائی نافذ کی جائے گی تو اس شخص کا عذاب سے بچنا ممکن نہیں ہوگا پس وہ تباہ ہو جائے گا ، اور حقیقت میں حساب یہی ہے ۔ اس بات کو ایک دوسرے نقطہ نظر سے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں جو کچھ فرمایا ہے وہ اس کلیہ کو ظاہر کرتا ہے کہ جو بھی شخص حساب کے مرحلہ سے گزرے گا وہ یقینا عذاب میں مبتلا ہوگا لیکن قرآن کی مذکورہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حساب کے مرحلہ سے گزرنے والوں میں سے بعض لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا اس سے گویا قرآن کی آیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد گرامی میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے ؟ لہذا اس ظاہری تضاد کو رفع کرنے کے لئے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آیت کریمہ میں " حساب " سے مراد صرف عرض ہے یعنی ان لوگوں کے سامنے ( کہ جن کو نجات یافتہ قرار دینا مقصود ہوگا ان کے اعمال کی فہرست کھول کر رکھ دی جائے گی ، چنانچہ انہوں نے جو برے اعمال کئے ہوں گے وہ ان کا اعتراف واقرار کریں گے اور حق تعالیٰ اپنا فضل وکرم ظاہر کرتے ہوئے ان کے ساتھ درگزر کا معاملہ فرمائے گا اس کے برخلاف حدیث میں " حساب " سے مراد واقعی محاسبہ ومواخذہ اور داروگیر ہے جس کو " حساب میں مناقشہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس محاسبہ وداروگیر کی بنیاد اظہار عدل ہوگا ۔ بزار وغیرہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس شخص نے یہ تین اچھی باتیں ہوں گی اس سے اللہ تعالیٰ آسان حساب لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ( اور وہ تین اچھی باتیں یہ ہیں کہ تم اس شخص کو ( اخلاقی جسمانی اور مالی مدد پہنچاؤ جو تمہیں اپنی مدد سے محروم رکھے تم اس شخص کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرو جو تمہارے اوپر ظلم کرے اور تم اس شخص کے ساتھ حسن سلوک کرو جو تمہارا مقاطعہ کرے ۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1950135)

وعنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في بعض صلاته اللهم حاسبني حسابا يسيرا قلت يا نبي الله ما الحساب اليسير ؟ قال أن ينظر في كتابه فيتجاوز عنه إنه من نوقش الحساب يومئذ يا عائشة هلك . رواه أحمد .

" اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض نماز میں یہ دعا مانگتے سنا کہ اللہم حاسبنی حسابا یسیرا اللہ! میرے اعمال کا آسان حساب لیجیو! ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ) میں ( یہ سنا تو ) عرض کیا کہ اے خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آسان حساب کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا صورت ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " آسان حساب کی یہ صورت ہوگی کہ بندہ اپنے اعمال نامے کو دیکھ لے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمادے گا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! حقیقت یہ کہ اس دن جس شخص کے حساب میں مناقشہ یعنی کاوش کی گئی تو ( بس سمجھ لو کہ ) وہ برباد ہوگیا ، یعنی وہ مستوجب عذاب ہونے سے بچ نہیں سکتا ۔ " ( احمد) تشریح : " بعض نماز " سے یا تو یہ مراد ہے کہ آپ نے یہ دعا بس نماز میں مانگی تھی ، وہ فرض نمازوں میں سے کوئی نماز تھی ، یا نوافل میں سے کوئی نفل نماز تھی اور یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا نماز کے کسی ایک حصہ یعنی ابتداء قیام میں ، یا رکوع میں ، یا قومے میں ، یا سجدے میں اور یا قعدے میں مانگی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ دعا مانگنا یا تو امت کی تعلیم کے لئے تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خدا سے آسان حساب کی دعا مانگا کریں تاکہ وہ اصل حساب کی سختیوں اور مواخذہ کی ہولناکی وشدت سے بچ جائیں اور ان پر خدا کا فضل واحسان ہو جائے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا لوگوں کو خواب غفلت سے ہوشیار کرنے کے لئے مانگی ، کہ دیکھو چین واطمینان کی چادر تان کر مت سو جاؤ ، اس دن کا خیال کرو جب اپنے اعمال کے ساتھ خدائے جبار وقہار کی عدالت میں پیش ہونا ہے ، اگر وہاں سخت مواخذہ میں گرفتار ہوگئے تو پھر عدل خداونی کسی حال میں معاف نہیں کرے گا ، عذاب میں مبتلا ہو کر رہوگے ، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ابھی سے اپنے اعمال کی دنیا کو سنوار لو ، اتنا تو کر لو کہ کچھ منہ لے کر اس کی بارگاہ میں پیش ہو سکو اور اس کے فضل واحسان کے مستحق بن سکو ! اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خوف الہٰی کا غلبہ ہوا ، احوال قیامت اور حساب کتاب کی ہولناکی کے خیال نے خشیت خداوندی اور خوف الہٰی سے دل وجان کو لرزاں کر دیا ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی ۔ " مناقشہ " کے معنی ہیں جانچ کر حساب لینا ، کوڑی کوڑی کا جھگڑا کرنا پس " حساب میں مناقشہ کرنا " یہ ہے ایک ایک عمل اور ہر عمل کے ایک ایک جزو کی پوری پوری چھان بین ہو ، ہر فعل کی اچھی طرح جانچ پڑتال ہو اور رتی رتی کا حساب لیا جائے ظاہر ہے کہ اصل حساب یہی ہے اور اس حساب میں کوئی بھی بندہ پورا نہیں اتر سکتا ، جو بھی شخص اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے محروم رہا اور اس کو آسان حساب کے بجائے اس سخت حساب سے دوچار کیا گیا تو وہ عذاب میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ " بندہ اپنے اعمال نامے کو دیکھ لے گا الخ" یعنی جو بندے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کے سائے میں ہوں گے ان کے ساتھ حساب کی صورت یہ ہوگی کہ ان کے سامنے ان کے اعمال نامے کھول ڈال دیئے جائیں گے اور اس کو دکھا دیا جائے گا کہ دیکھ تو نے یہ فلاں فلاں گناہ کا ارتکاب کیا بندہ ندامت وشرمندگی کے ساتھ گناہوں کا اعتراف واقرار کرے گا ۔ اور تب اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں سے درگزر فرما دے گا اور اس کو اپنی عنایت سے بخشش ومغفرت کا پروانہ عطا فرما دے گا اور اگر لفظ ینظر کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع کی جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال نامے کو ایک نظر دیکھ لے گا اور پھر اس سے درگزر فرمادے گا ۔

-

Permalink