TrueHadith

آنکھوں کی بیماری میں عیادت کرنے کا مسئلہ

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920030)

وعن زيد بن أرقم قال : عادني النبي صلى الله عليه و سلم من وجع كان يصيبني . رواه أحمد وأبو داود

حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری عیادت فرمائی جب کہ میری آنکھوں میں درد تھا۔ (احمد، ابوداؤد ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس شخص کی عیادت کرنا سنت ہے جو آنکھیں دکھنے یا آنکھ کی دوسری بیماری میں مبتلا ہو جب کہ ایک روایت کا جو جامع صغیر میں منقول ہے یہ مفہوم ہے کہ " تین بیماریاں ایسی ہیں جن میں بیمار کی عیادت نہ کی جائے (١) آنکھیں دکھنے میں (٢) داڑھ کے درد میں (٣) دنبل (پھوڑے) میں" ۔ چونکہ ان دونوں حدیثوں میں تعارض ہے اس لیے ان دونوں میں اس تاویل کے ذریعہ تطبیق پیدا کی جائے گی کہ " ان بیماریوں میں بیمار کی عیادت وہ لوگ نہ کریں جن کے لیے بیمار کو تکلیف کرنا پڑے یا ان کا آنا بیمار کے لیے گراں ہو کیونکہ اگر وہ لوگ ایسے بیمار کی عیادت کے لیے جائیں گے تو آنکھ دکھنے یا آنکھ کی دوسری بیماری کی شکل میں بیمار کو اپنی آنکھ کھولنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یا داڑھ دکھنے کی صورت میں اسے گفتگو کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہو گی اسی طرح اگر دنبل ہو گا تو وہ ان کی وجہ سے ٹھیک طریقہ سے بیٹھنے پر مجبور ہو گا اور ظاہر ہے پھوڑے کے وجہ سے اس کے لیے کسی ایک اور ٹھیک ہئیت پر بیٹھنا بہ زیادہ تکلیف کا باعث ہو گا۔ ہاں اگر ایسے لوگ عیادت کے لیے جائیں جن کی وجہ سے بیمار کو تکلیف نہ کرنا پڑے یا ان کا جانا بیمار پر گراں نہ گزرے تو ان بیماریوں میں بھی عیادت کے لیے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہاں جو حدیث نقل کی جا رہی ہے وہ آخری صورت پر محمول ہو گی اور جامع صغیر کی روایت پہلی صورت پر محمول کی جائے گی۔

-

Permalink