وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الملحمة العظمى وفتح القسطنطينة وخروج الدجال في سبعة أشهر . رواه الترمذي وأبو داود
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جنگ عطیم کا واقع ہونا، قسطنطنیہ کا فتح ہونا اور دجال کا نکلنا، یہ سب سات ماہ کے اندر ہوگا ۔ (ترمذی، ابوداؤد ) تشریح " جنگ عظیم " سے مراد ، بعض حضرات کے نزدیک وہ جنگ ہے جس کے بارے میں پہلے فرمایا جا چکا ہے کہ لڑائی کے خاتمہ پر جب لوگ اپنے عزیز واقا رب کے جانی نقصان کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ سو سے ایک زندہ بچا ہے اور باقی موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں مگر زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس جنگ سے مراد اس شہر کی فتح ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اسمائے الٰہی کی برکت یعنی تہلیل وتکبیر کے نعرہ کے ذریعے فتح ہو جائے گا اور کشت وخون کی نوبت تک نہیں آئے گی جیسا کہ پیچھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا۔ مذکورہ بالا تینوں چیزوں کے وقوع پذیر ہونے کے تعلق سے جو سات مہینے کی مدت ذکر فرمائی گئی ہے وہ ان دونوں شہروں اور فتنہ دجال کی طرف مسلمانوں کے متوجہ ہونے کے اعتبار سے فرمائی گئی ہے ، ورنہ جہاں تک ان دونوں شہروں کے فتح ہونے کا اعتبار ہے تو مذکورہ جنگ عظیم اور فتح قسطنطنیہ کا وقوع پذیر ہونا یکے بعد دیگر بغیر کسی تاخیر کے ہوگا اور ان دونوں کے بعد دجال کا خروج ہو جائے گا۔
-
وعن عبد الله بن بسر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بين الملحمة وفتح المدينة ست سنين ويخرج الدجال في السابعة . رواه أبو داود وقال هذا أصح
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جنگ عظیم اور مذکورہ شہر یعنی قسطنطنیہ کے فتح ہونے کی درمیانی مدت چھ سال ہوگی اور ساتویں سال دجال نکلے گا۔ اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔ تشریح اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ عظیم فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال یہ تینوں واقعات سات سال کے اندر ہوں گے جب کہ پہلی حدیث میں اس مدت کو سات ماہ بیان کیا گیا ہے، اس اعتبار سے دونوں حدیثوں کے درمیان زبردست تضاد اور اختلاف ہے لہٰذا اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے کہ تعارض بالکل ثابت ہے کہ ایک حدیث میں وضاحت کے ساتھ سات ماہ کی مدت بیان کی گئی ہے اور ایک حدیث میں سال کی مدت اور دونوں حدیثوں کے مفہوم میں مطابقت پیدا کرنا ممکن نہیں ہے ، اس صورت میں اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں کہ ان دونوں حدیثوں کی حیثیت کو سامنے رکھ کر اس حدیث کو راجح قرار دیا جائے جو زیادہ صحیح ہو ، چنانچہ علماء اور محدثین نے لکھا ہے کہ پہلی حدیث میں کلام کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعض راوی فن حدیث کی اصطلاح میں مجروح اور مطعون ہیں اور یہ دوسری حدیث بالکل صحیح ہے جیسا کہ خود امام ابوداؤد نے وضاحت کی ہے پس حاصل یہ نکلا کہ مذکورہ بالا تینوں واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت سات ماہ کے بجائے سات سال زیادہ صحیح ہے۔
-
وعن ابن عمر قال يوشك المسلمون أن يحاصروا إلى المدينة حتى يكون أبعد مسالحهم سلاح وسلاح قريب من خيبر . رواه أبو داود
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ وقت آنے والا ہے جب مسلمانوں کا مدینہ میں محاصرہ کیا جائے گا یہاں تک کہ ان دور ترین مورچہ سلاح ہوگا ، اور سلاح خیبر کے نزدیک ایک مقام کا نام ہے۔ ( ابوداؤد ) تشریح لفظ " سلاح" سین کے زبر کے ساتھ ہے لیکن اس بنا پر کہ یہ لفظ اسم موخر ہے اور اس کی خبر ابعد ہے اس کو سین کے پیش کے ساتھ بھی نقل کیا جا سکتا ہے ، علاوہ ازیں ایک نسخہ میں یہ لفظ دو زبر (تنوین) کے ساتھ اور ایک نسخہ میں حاء کے زبر کے ساتھ منقول ہے ۔ بہرحال یہ ایک جگہ کا نام ہے جو خیبر کے پاس ہے اور خیبر کے مدینہ منورہ سے تقریبا ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حدیث کا مطلب یا تو یہ ہے کہ جب آخر زمانہ میں مسلمانوں کی کمزوری اور انتشار کا وقت ہوگا تو دشمنان دین واسلام کے حوصلے اتنے بڑھ جائیں گے کہ وہ مدینہ منورہ تک کا محاصرہ کرنے اور وہاں کے مسلمانوں کو گھیر لینے کی کوشش کریں گے اور ان کا اقتدار خیبر تک آ جائے گا۔ یا یہ کہ اس وقت جب مسلمان دشمنوں کے تسلط وقبضہ سے نکلنے کے لئے اپنے اپنے ملکوں اور علاقوں سے سے بھاگ بھاگ کر مدینہ آئیں گے تو مدینہ اور سلاح کے درمیان جمع ہوں گے اور یا یہ کہ اس وقت اطراف عالم سے بھاگ کر آنے والے مسلمانوں میں سے کچھ تو وہ ہوں گے جو مدینہ منورہ میں آ جائیں گے اور کچھ وہ ہوں گے جو اس مقدس شہر کی حفاظت ونگہبانی کی خاطر اس کے گرد مورچہ بنائیں گے اور ان مورچوں پر ڈٹے رہیں گے، چنانچہ ان مورچوں میں سب سے دور مورچہ جو ہوگا وہ سلاح کے مقام پر ہوگا یہ معنی حدیث کے آخری الفاظ کی مناسبت سے زیادہ صحیح ہیں۔
-