TrueHadith

جہاد میں معمولی درجہ کی شرکت بھی دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر

Mishkat SharifHadith (internal ref #1930912)

وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها " (2/363) 3792 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لغدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها "

اور حضرت سہل ابن سعد کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے ۔" ( بخاری ومسلم ) تشریح : یا تو یہ مطلب ہے کہ جہاد میں ایک دن کی لئے بھی چوکیداری جیسی معمولی خدمت کو انجام دینا اس مال سے بہتر ہے جو اللہ کے نام پر خرچ کیا جائے ، یا یہ مطلب ہے کہ جہاد میں محض ایک دن کی چوکیداری کے عوض جو اجر ملے گا وہ دنیا کی چیزوں سے کہیں زیادہ بہتر اور افضل ہے ۔" اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ایک صبح کے لئے ایک شام کے لئے خدا کی راہ میں شرکت جہاد کی غرض سے ) دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے ۔" (بخاری ومسلم) تشریح : مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محض ایک صبح کے لئے ایک شام کے لئے بھی جہاد میں شریک ہوا تو اس پر اس کو جو اجر ملے گا اور اس کی جو فضیلت حاصل ہوگی وہ دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی تمام نعمتیں فنا ہو جانے والی ہیں اور آخرت کی نعمت باقی رہنے والی ہے ۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1930939)

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " من لم يغز ولم يجهز غازيا أو يخلف غازيا في أهله بخير أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة " . رواه أبو داود (2/369) 3821 - [ 35 ] ( صحيح ) وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم " . رواه أبو داود والنسائي والدارمي

اور حضرت امامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس شخص نے نہ تو (بنفس خود) جہاد کیا اور نہ کسی مجاہد کا سامان درست کیا اور نہ کسی غازی کے (جہاد میں ہونے کے دوران اس کے ) اہل وعیال کے حق میں بھلائی کے ساتھ ان کا نائب بنا تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے پہلے دن کسی سخت مصیبت میں مبتلا کرے گا " (ابو داؤد) اور حضرت امامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین یعنی دشمنان اسلام سے تم اپنی جان اپنے مال اور اپنی زبان کے ذریعہ جہاد کرو ۔ (ابو داؤد ، نسائی ، درامی ) تشریح : جان ومال کے ذریعہ جہاد کرنا تو یہ ہے کہ حق وباطل کے درمیان ہونے والے معرکہ کے موقع پر میدان جنگ میں اپنی جان کو پیش کرے اور زخمی ہو اور اپنے مال کو جہاد کی ضروریات میں خرچ کرے زبان کے ذریعہ جہاد کرنا یہ ہے کہ دشمنان اسلام کے عقائد ونظریات اور ان کے بتوں کی مذمت کرے ان کے حق میں میں بدعا کرے کہ انہیں حق کے مقابلہ پر ذلت ورسوائی اور شکست کا سامنا کرنا پڑے ان کو قتل و قید کرنے یا اسی طرح کی اور چیزوں سے ڈرائے دھمکائے مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور ان کو مال غنیمت ملنے کی دعا کرے اور لوگوں کو جہاد میں شریک ہونے کی ترغیب دلائے ۔

-

Permalink