Mishkat Sharif — Hadith (internal ref #1920348)
وعن حبشي بن جنادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن المسألة لا تحل لغني ولا لذي مرة سوي إلا لذي فقر مدقع أو غرم مفظع ومن سأل الناس ليثري به ماله : كان خموشا في وجهه يوم القيامة ورضفا يأكله من جهنم فمن شاء فليقل ومن شاء فليكثر " . رواه الترمذي
حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ تو غنی کے لیے یعنی اس شخص کے لیے جو ایک دن کی خوراک کا مالک ہو اور نہ تندرست و توانا اور صحیح الاعضاء کے لیے مانگنا حلال ہے ہاں اس فقیر کے لیے مانگنا حلال ہے جسے فقر و فاقہ نے زمین پر ڈال دیا ہو اسی طرح اس قرض دار کے لیے بھی مانگنا حلال ہے جو بھاری قرض کے نیچے دبا ہو یاد رکھو جو شخص صرف اس لیے لوگوں سے مانگے کہ اپنے مال و زر میں زیادتی ہو تو قیامت کے دن اس کا مانگنا اس کے منہ پر زخم کی صورت میں ہو گا۔ نیز دوزخ میں اسے گرم پتھر اپنی خوراک بنائے گا اب چاہے کوئی کم سوال کرے چاہے کوئی زیادہ سوال کرے۔ (ترمذی) تشریح زمین پر ڈال دیا ہو، یہ کنایہ ہے شدت محتاجگی اور مفلسی نے زمین پر ڈال رکھا ہے کہ اٹھنے کی بھی سکت نہیں رکھتا۔ گویا مطلب یہ ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا صرف انتہائی محتاجگی ہی کے وقت جائز ہے حدیث کا آخری جملہ بطور تنبیہ و تہدید کے ارشاد فرمایا گیا ہے جیسا کہ کافروں ، ظالموں اور خدا کے باغیوں کے بارے میں بطور تہدید قرآن کریم کی یہ آیت ہے کہ ا یت (فَمَنْ شَا ءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَا ءَ فَلْيَكْفُرْ اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا) 18۔ الکہف : 29)۔ جو چاہے مومن ہو جائے اور جو چاہے کافر ہو جائے۔ ہم نے تو ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے۔
-