TrueHadith

جس شخص سے محبت وتعلق قائم رکھو اس کو اپنی محبت وتعلق سے باخبر رکھو

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940944)

وعن المقدام بن معديكرب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا أحب الرجل أخاه فليخبره أنه أحبه . رواه أبو داود والترمذي

" اور حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی سے دوستی و محبت رکھے تو چاہیے کہ وہ اس مسلمان کو بتا دے کہ وہ اس کو دوست محبوب رکھتا ہے۔ تشریح یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ جب اس مسلمان کو یہ معلوم ہوگا کہ فلاں شخص مجھ سے دوستی اور محبت رکھتا ہے تو وہ بھی اس سے دوستی محبت رکھے گا اور دوستی کے حقوق ادا کرے گا نیز اس کے حق میں دعا گو و خیر خواہ رہے گا۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940945)

وعن أنس قال مر رجل بالنبي صلى الله عليه وسلم وعنده ناس . فقال رجل ممن عنده إني لأحب هذا في الله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم أعلمته ؟ قال لا . قال قم إليه فأعلمه . فقام إليه فأعلمه فقال أحبك الذي أحببتني له . قال ثم رجع . فسأله النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بما قال . فقال النبي صلى الله عليه وسلم أنت مع من أحببت ولك ما احتسبت رواه البيهقي في شعب الإيمان . وفي رواية الترمذي المرء مع من أحب وله ما اكتسب

" اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک شخص گزرا جب کہ آپ کے پاس بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یہ جو آدمی ابھی سامنے سے گزرا ہے اس سے محض خدا کی رضا و خوشنودی کے لے محبت کرتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا تم نے اس کو بتا دیا ہے تم اس سے محبت رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو اور اس کے پاس جا کر اس کو بتا دو چنانچہ وہ شخص مجلس نبوی سے اٹھ کر اس کے پاس گیا اور اس کو بتایا کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں اس شخص نے جواب دیا کہ وہ ذات یعنی اللہ تم سے محبت کرے جس کی رضا و خوشنودی کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص لوٹ کر آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس شخص نے جواب میں کیا کہا؟ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا وہ جواب بتا دیا جو اس نے دیا تھا حضور نے فرمایا آخرت میں اس شخص کے ساتھ ہوؤ گے جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم محبت رکھنے بلکہ ہر عمل میں اس چیز پر اجر پاؤ گے جس کی اللہ کے لیے نیت کرو گے اور ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آدمی اس شخص کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے اور اس کو اس چیز پر اجر ملے گا جس کو وہ یہ ثواب کی نیت اختیار کرے گا۔ تشریح احتساب کے معنی ہیں اللہ سے ثواب کی امید رکھنا اور حسبہ اس لفظ کا اسم ہے اور اصل میں یہ لفظ حساب سے نکلا ہے جس کے معنی گننے شمار کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر کسی سے محبت کرنا ایسا فعل ہے جو اگر ثواب کی نیت سے ہو تو وہ حساب میں آتا ہو یعنی اس پر اجر مرتب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ محبت کرنے والے کو اس کی نیت کے مطابق ثواب عطا کرتا ہے۔

-

Permalink