TrueHadith

احصار اور حج فوت ہوجانے کا مسئلہ

Mishkat SharifHadith (internal ref #1921259)

وعن ابن عمر أنه قال : أليس حسبكم سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ إن حبس أحدكم عن الحج طاف بالبيت وبالصفا والمروة ثم حل من كل شيء حتى يحج عاما قابلا فيهدي أو يصوم إن لم يجد هديا . رواه البخاري

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارہ میں مروی ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ کیا تمہارے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سنت یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کافی نہیں کہ اگر تم میں سے کوئی شخص حج سے روکا جائے یعنی اس کو کوئی ایسا عذر پیش آ جائے جو حج کے رکن اعظم یعنی وقوف عرفات سے مانع ہو اور طواف و سعی سے مانع نہ ہو تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر کے ہر چیز سے حلال ہو جائے یعنی اس کے بعد اس کے لئے ہر وہ چیز حلال ہو جائے گی جو احرام کی حالت میں ممنوع تھی تآنکہ وہ اگلے سال حج کرے اور ہدی ذبح کرے اور اگر وہ ہدی ذبح نہ کر سکتا ہو تو روزہ رکھے۔ (بخاری) تشریح اس حدیث میں احصار کا حکم بیان کیا گیا ہے ! کچھ لوگوں نے اس بارہ میں خلاف سنت طرز عمل اختیار کیا ہو گا، اس لئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں متنبہ فرمایا اور کہا کہ اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ اگر کسی کو حج میں حصر و حبس کی صورت پیش آ جائے تو وہ عمرہ کے افعال ادا کر کے احرام کھول دے اور سال آئندہ اس حج کی قضا کرے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ فائت الحج اور محصر کے حکم میں تھوڑا سا فرق ہے فائت الحج کے لئے تو یہ حکم ہے کہ اگر وہ مفرد ہو یعنی اس نے صرف حج کا احرام باندھا ہو تو طواف و سعی کر کے احرام کھول دے اس پر صرف سال آئندہ اس حج کی قضا واجب ہے، عمرہ اور ہدی اس کے لئے واجب نہیں ہے۔ محصر کے لئے یہ حکم ہے کہ اگر وہ مفرد ہو اور اسے حرم پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں احصار کی کوئی صورت پیش آ جائے تو وہ پہلے ہدی کا جانور حرم بھیجے جب وہ جانور حرم میں پہنچ کر ذبح ہو جائے تو وہ احرام کھول دے اور آئندہ سال اس حج کی قضا کرے اور اس کے ساتھ ہی ایک عمرہ بھی کرے۔ لیکن حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس پر سال آئندہ صرف حج کرنا ہی واجب ہو گا عمرہ کرنا ضروری نہیں ہو گا، کیونکہ وہ صرف حج سے محصر ہوا ہے اور چونکہ ہدی کا جانور بھیج کر اس نے احرام کھولا تھا تو بس اس کے بدلہ اس کے ذمہ صرف حج ہی ہے، عمرہ نہیں ہے۔ اور اگر محصر قارن ہو (یعنی اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ہو) تو وہ بھی ہدی کا جانور حرم میں بھیجے اور وہاں اس جانور کے ذبح ہو جانے کے بعد احرام کھول دے، لیکن سال آئندہ اس پر اس حج کی قضا اور اس کے ساتھ دو عمرے واجب ہوں گے، اس پر ایک حج اور دو عمرے واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک حج اور عمرہ تو اصلی حج وعمرہ کے بدلہ ادا کرنا ہو گا، اور دوسرا عمرہ اس واسطے کہ اس سے حج اور عمرہ فوت ہوا اس لئے اس کی جزاء کے طور پر ایک عمرہ ادا کرنا ہو گا۔ اور اگر احصار کی صورت حرم پہنچنے سے پہلے راستہ میں پیش نہ آئے بلکہ حرم پہنچ کر پیش آئے کہ وہ کسی عذر کی وجہ سے وقوف عرفات سے تو عاجز رہے مگر طواف اور سعی کر سکتا ہو تو وہ طواف و سعی کرنے کے بعد یعنی عمرہ کے افعال ادا کر کے احرام کھول دے اور پھر آئندہ سال اس حج کی قضا کرے اور ہدی کا جانور ذبح کرے اور اگر ہدی کا جانور ذبح نہ کر سکتا ہو تو روزہ رکھے، مذکورہ حدیث میں یہی صورت بیان فرمائی گئی ہے۔ فائت الحج اگر قارن ہو تو پہلے وہ عمرہ کے لئے طواف و سعی کرے پھر حج فوت ہو جانے کے بدلہ میں طواف و سعی کرے اس کے بعد سر منڈائے یا بال کتروائے اور احرام کھول دے اس کے ذمہ سے قران کی قربانی ساقط ہو جائے گی۔ اور اگر وہ متمتع ہو گا تو اس کا تمتع باطل ہو جائے گا اور اس کے ذمہ سے تمتع کی قربانی بھی ساقط ہو جائے گی اگر وہ اس کی قربانی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہو تو اس کو جو چاہے کرے۔ جس طرح مفرد کا حج فوت ہو جانے کی صورت میں اس پر آئندہ سال صرف حج کی قضا ہی واجب ہوتی ہے اسی طرح قران اور تمتع کی صورت میں بھی اس پر آئندہ سال صرف حج کی قضا واجب ہو گی۔ عمرہ فوت نہیں ہوا کرتا۔ اس موقع پر یہ بات بھی جان لیجئے کہ عمرہ فوت نہیں ہوا کرتا کیونکہ وہ تو سال میں کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے علاوہ یوم عرفہ، یوم عیدالاضحیٰ اور ایام تشریق کے ، جب کہ حج کی ادائیگی تو اسی خاص زمانہ اور خاص وقت میں ہو سکتی ہے جو شریعت نے متعین کی ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1921260)

وعن عائشة . قالت : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على ضباعة بنت الزبير فقال لها : " لعلك أردت الحج ؟ " قالت : والله ما أجدني إلا وجعة . فقال لها : " حجي واشترطي وقولي : اللهم محلي حيث حبستني "

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج کے لئے روانہ ہونے والے تھے تو اپنی چچا زاد بہن ضباعہ بنت زبیر کے ہاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا کہ شاید تم ہمارے ساتھ حج کا ارادہ رکھتی ہو؟ اور ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ تم ہمارے ساتھ حج کے لئے چلو، ضباعہ نے عرض کیا کہ جی ہاں، میرا ارادہ تو ہے لیکن خدا کی قسم! میں اپنے کو بیمار پاتی ہوں یعنی مرض کی بناء پر میں بڑا ضعف محسوس کر رہی ہوں اگر میں چلتی ہوں تو نہیں جانتی کہ حج پورا بھی کر سکوں گی یا نہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم حج کا ارادہ کر لو ، اور جب احرام باندھو تو یہ شرط کر لو یعنی یہ کہو کہ ۔ اللہم محلی حیث حبستنی۔ اے اللہ! میرے احرام سے نکلنے کی جگہ وہ ہے جہاں میں بیماری کے سبب روک دی جاؤں۔ (بخاری ومسلم) تشریح میرے احرام سے نکلنے کی جگہ وہ ہے جہاں میں روک دی جاؤں، کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ مجھ پر مرض غالب ہو جائے اور وہاں سے میں خانہ کعبہ کی طرف آگے نہ چل سکوں اسی جگہ میں احرام کھول دوں گی۔ جن ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ احصار کی صرف ایک ہی صورت یعنی دشمن کا خوف ہے اور بیماری سے احصار نہیں ہوتا، ان کی دلیل یہی حدیث ہے کہ اگر مرض کی وجہ سے احرام کھول دینا مباح ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ضباعہ کو مذکورہ بالا شرط کرنے کا حکم نہ دیتے کیونکہ جب مرض کی وجہ سے احصار ہو ہی جاتا تو پھر شرط کا کیا فائدہ حاصل ہوتا۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک چونکہ یہ ہے کہ احصار مرض کی وجہ سے بھی ہو جاتا ہے اس لئے وہ حضرت حجاج بن عمرو انصاری کی حدیث کو اپنی دلیل قرار دیتے ہیں جو آگے آ رہی ہے، نیز ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت ابن عمر شرط کے منکر تھے جو لوگ شرط کے قائل تھے ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ یہی فرماتے تھے کہ کیا تمہارے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے؟ یعنی جب اس بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح حکم موجود ہے تو پھر شرط کو اختیار کرنے کا کیا معنیٰ۔ اب رہی یہ بات کہ جب مرض کی وجہ سے احرام کھول دینا مباح تھا تو پھر حضرت ضباعہ کو شرط کا حکم دینا کس مقصد سے تھا اور اس کا کیا فائدہ تھا؟ حنفیہ کہتے ہیں کہ ضباعہ کے حق میں شرط کا فائدہ یہ تھا کہ وہ احرام کی پابندیوں سے جلد آزاد ہو جائیں ، اس لئے کہ وہ اگر یہ شرط نہ کرتیں تو انہیں احرام سے نکلنے میں دیر لگتی بایں طور کہ جب ان کی ہدی کا جانور حرم پہنچ کر ذبح ہو جاتا تب ہی وہ احرام کھول سکتی تھیں، چنانچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ محرم کے لئے احرام کھلونا اس وقت تک درست نہیں ہے جب تک کہ اس کی ہدی حرم میں ذبح نہ ہو جائے۔ ہاں اگر وہ احرام باندھتے وقت یہ شرط کر لے کہ جس جگہ بھی مجھے احصار کی صورت پیش آ جائے گی میں وہیں احرام کھول دوں گا تو وہ محض احصار کی صورت پیش آ جانے پر، ہدی کا جانور ذبح ہوئے بغیر احرام سے باہر ہو سکتا ہے۔

-

Permalink