TrueHadith

وہ جانور جن کو حالت احرام اور حرم میں مارنا جائز ہے

Mishkat SharifHadith (internal ref #1921246)

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " خمس لا جناح على من قتلهن في الحل والإحرام : الفأرة والغراب والحدأة والعقرب والكلب العقور "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ پانچ جانور ہیں جن کو حرم میں اور حالت احرام میں مارنا گناہ نہیں ہے (١) چوہا۔ (٢) کوا (٣) چیل(٤) بچھو (۵) کٹ کھنا کتا۔ (بخاری ومسلم) تشریح الغراب (کوا) سے مراد الغراب الابقع (ابلق کوا) یعنی وہ سیاہ سفید کوا ہے جو اکثر مردار اور نجاسات کھاتا ہے۔ چنانچہ اگلی روایت میں اس کی وضاحت بھی ہے ۔ اس لئے وہ کوا مارنا جائز نہیں ہے جو کھیت کھلیاں کھاتا ہے اور جس کے پورے جسم کا رنگ تو سیاہ اور چونچ و پاؤں کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ کٹ کھنے کتے کے حکم کے میں وہ تمام درندے جانور شامل ہیں جو حملہ آور ہوتے ہیں، ایسے تمام جانوروں کو حرم میں اور احرام کی حالت میں مارنا جائز ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1921247)

وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم : الحية والغراب الأبقع والفأرة والكلب العقور والحديا "

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایذاء پہنچانے والے پانچ جانور ہیں جن کو حدود حرم سے باہر بھی اور حدود حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے (مارنے والا خواہ احرام کی حالت میں ہو خواہ احرام سے باہر ہو) سانپ، ابلق کوا، چوہا، کٹ کھنا کتا، چیل۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس کتے کو مارنا حرام ہے جس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، اسی طرح اس کتے کو بھی مارانا حرام ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو تو اس سے کوئی ضرر و نقصان بھی نہ پہنچتا ہو۔ مذکورہ بالا دونوں حدیث میں جن جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے مارنے کی اجازت صرف انہیں پر منحصر نہیں بلکہ یہی حکم ان تمام جانروں کا بھی ہے جن سے ایذاء پہنچتی ہو جیسے چیونٹی، پسو، چچری، اور کھٹمل وغیرہ۔ ہاں اگر جوئیں ماری جائیں گی تو پھر حسب استطاعت و توفیق صدقہ دینا واجب ہو گا۔

-

Permalink