TrueHadith

سنتوں کی تعداد اور ان کی پڑھنے کی فضیلت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1911132)

عَنْ اُمِّ حَبِےْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنّھَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی فِیْ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃٍ بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ فِیْ الْجَنَّۃِ اَرْبَعاً قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ ھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُّسْلِمٍ ےُّصَلِّیْ لِلّٰہِ کُلَّ ےَوْمٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعًا غَےْرَ فَرِےْضَۃٍ اِلَّا بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَےْتًا فِی الْجَنَّۃِ اَوْ اِلَّا بُنِیَ لَہُ بَےْتٌ فِی الْجَنَّۃِ۔(صحیح مسلم)

" حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی دن و رات میں بارہ رکعتیں نماز پڑھے تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے اور وہ بارہ رکعتیں یہ ہیں چار رکعت ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے اور دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کی فرض نماز کے بعد ، دو رکعت عشاء کی فرض نماز کے بعد اور دو رکعت فجر کی فرض نماز سے پہلے۔" (جامع ترمذی ) " اور صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت ام جیبہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلمان ہر دن میں اللہ جل شانہ کے لیے فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں (سنت ) پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے یا یہ فرمایا کہ " اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے۔" تشریح حدیث میں دن و رات کی سنتوں کی جو تعداد مذکورہ تفصیل کے ساتھ بتائی گئی ہے وہ تمام سنتیں مؤ کدہ ہیں اور فجر کی دونوں سنت رکعتیں سب سے زیادہ مؤ کدہ ہیں حتی کہ حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اور بعض حنفیہ حضرات نے ان کو واجب تک کہا ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے تو مغرب کی دونوں سنتوں کو بھی واجب کہا ہے لیکن اس حدیث کے پیش نظر ان کے قول کی تردید کی گئی ہے کہ وہ واجب نہیں بلکہ سنت ہیں۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1911133)

عَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ صَلَّےْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکْعَتَےْنِ قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَےْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَےْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِیْ بَےْتِہٖ وَرَکْعَتَےْنِ بَعْدَ الْعِشَآءِ فِیْ بَےْتِہٖ قَالَ وَحَدَّثَتْنِیْ حَفْصَۃُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ حِےْنَ ےَطْلُعُ الْفَجْرُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

" اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ظہر ( کی فرض نماز ) سے پہلے دو رکعتیں، اس کے بعد دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر (یعنی حضرت حفصہ جو عبداللہ ابن عمر کی بہن تھیں کے حجرے) میں مغرب ( کی فرض نماز) کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں نیز حضرت عبداللہ ابن عمر نے فرمایا۔ کہ حضرت حفصہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو ہلکی رکعتیں اس وقت پڑھا کرتے تھے جب فجر طوع ہوتی تھی۔" (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظہر سے پہلے کی سنتوں کے لیے " رکعتین (دو رکعتیں) کا استعمال فرمایا ہے جس کا ظاہری مطلب تو یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں لیکن اہل علم کا قول ہے کہ تثنیہ (دو ) جمع (چار) کے منافی نہیں ہے یعنی اگر یہاں " رکعتین" کے معنی بجائے دو رکعت کے چار رکعت مراد لیے جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اس توجیہ کے ذریعے اس حدیث میں اور اس حدیث میں کہ جس سے ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت سنتیں ثابت ہوتی ہیں تطبیق ہو جاتی ہیں (ملا علی قاری) حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت امام شافعی کی مستدل ہے کیونکہ ان کے نزدیک ظہر کی فرض نماز سے پہلے سنت دو رکعتیں ہیں مگر حنفیہ کے نزدیک چار رکعتیں ہیں حنفیہ مسلک کی مستدل بھی بہت سی احادیث مروی ہیں جو حضرت علی المرتضیٰ حضرت عائشہ اور حضرت ام حبیبہ وغیرہ سے منقول ہیں نیز حضرت امام ترمذی نے حنفیہ مسلک کے حق میں فرمایا ہے کہ اسی مسلک پر حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ میں سے اکثر اہل علم کا عمل ہے اور یہی قول سفیان ثوری، ابن المبارک اور اسحق کا بھی ہے نیز حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا قول بھی چار رکعتوں ہی کے بارے میں منقول ہے لیکن اس طرح کہ چار رکعتیں دو سلام کے ساتھ پڑھی جائیں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد کی ایک توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی چار رکعت سنتیں گھر میں پڑھا کرتے تھے لہٰذا ازواج مطہرات نے چار رکعتوں ہی کے بارے میں ذکر کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں تشریف لاتے تو وہاں تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھتے تھے اس لیے تحیۃ المسجد کی دو رکعتوں کو حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظہر کی سنتیں سمجھ کر فرمایا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ظہر کی فرض نماز سے پہلے دو رکعت سنتیں پڑھی ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں ظہر، مغرب اور عشاء کی سنتوں کا تذکرہ کیا ہے فجر کی سنتوں کا تذکرہ نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز نہیں پڑھتے تھے اس لیے فجر کی سنتیں خود ذکر نہیں کیں بلکہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ذکر کر دی تاکہ ان نمازوں کے ساتھ فجر کی سنتیں بھی معلوم ہو جائیں۔

-

Permalink