TrueHadith

صلہ رحم کی اہمیت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940845)

وعن عمرو بن العاص قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن آل فلان ليسوا لي بأولياء إنما وليي الله وصالح المؤمنين ولكن لهم رحم أبلها ببلالها . متفق عليه

" اور حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابوفلاں کی اولاد میرے دوست نہیں ہیں میرا دوست خدا ہے یا نیک بخت مومنین البتہ ان لوگوں سے میری قرابت داری ہے جس کو میں تر چیزوں سے تر کرتا رہتا ہوں ۔ تشریح " ابوفلاں کی اولاد " کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں صریح نام لیا تھا کہ راوی نے اس ارشاد گرامی کو بیان کرتے وقت اس نام کو صریح ذکر نہیں کیا بلکہ لفظ ابوفلاں کے ذریعہ اشارہ فرمایا اور صریح ذکر نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ راوی نے جس موقع پر اس ارشاد گرامی کو بیان کیا اس وقت اس نام کو صراحتہ ذکر کرنے سے کسی فتنہ کے اٹھ کھڑے ہونے کا خوف ہوگا، بخاری ومسلم کے اصل نسخوں میں بھی لفظ ابی کے بعد جگہ کو خالی چھوڑا گیا ہے کسی نام کو صراحتہ ذکر نہیں کیا گیا اور اس کی علت بھی وہی ہے رہی ہے یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں جس نام کو صراحتہ ذکر فرمایا تھا وہ کیا ہے؟ تو محقیقن نے کہا ہے کہ وہ ابولہب ہے اور بعض حضرات نے ابوسفیان یا حکم بن العاص بیان کیا ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا جو مفہوم ہے اس کا تعلق کسی خاص فرد کی اولاد سے نہیں ہے بلکہ آپ کی مراد عمومی طور پر اپنے قبیلہ و خاندان کے افراد ہیں جیسے کہ اہل قریش یا بنو ہاشم اور یاا نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں کی اولاد۔ " میرے دوست نہیں ہیں" سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ میری مالی امداد ومعاونت اور ان کو دینا دلانا اس سبب سے نہیں ہے کہ میں ان کو زیادہ محبوب رکھتا ہوں اور مجھ کو ان سے کچھ زیادہ روحانی و باطنی تعلق ہے بلکہ چونکہ وہ میرے قرابتی ہیں اس لیے میں قرابت کا حق ادا کرنے کے لیے ان کی مالی امداد کرتا رہتا ہوں ورنہ جہاں تک باطنی و روحانی تعلق اور محبت کا سوال ہے تو مجھ کو زیادہ تعلق اور زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو مومن صالح ہے خواہ وہ میرا قرابتی ہو یا غیر قرابتی چنانچہ میرا دوست خدا ہے یا نیک بخت مومنین میں نیک بخت سے جنس صلحاء یعنی تمام نیک وبخت مسلمان مراد ہیں اگرچہ بعض حضرات نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اور بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مراد قرار دیا ہے۔ " جس کو میں تر چیزوں سے تر کرتا رہتا ہوں " کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ چونکہ میری قرابت دار ہیں اس لیے میں ان کے ساتھ مدد و تعاون کا سلوک کرتا ہوں اور ان کو مال وغیرہ دیتا رہتا ہوں تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں دراصل تری اور نرمی چونکہ متفرق اجزاء اور اشیاء میں جوڑنے اور ملانے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں اور اس کے برخلاف خشکی اور سختی چونکہ اشیاء کے باہمی افتراق و انتظار کا سبب بنتی ہے اس لیے اہل عرب اپنے کلام میں بطور استعارہ لفظ بل یعنی تری اور نرمی کو صلہ رحم، ناتا جوڑنے کے معنی میں اور یبس یعنی خشکی کو ناتا توڑنے اور ترک تعلق کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940850)

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فأخذت بحقوي الرحمن فقال مه ؟ قالت هذا مقام العائذ بك من القطيعة . قال ألا ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك ؟ قالت بلى يا رب قال فذاك . متفق عليه

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا یعنی اللہ نے تمام مخلوقات کو ان کی پیدائش سے پہلے ان صورتوں کے ساتھ اپنے علم ازلی میں مقدر کر دیا جن وہ پیدا ہوں گے جب اس سے فارغ ہوا تو رحم یعنی رشتہ ناتا کھڑا ہو اور پروردگا کی کمر تھام لی ، پروردگار نے فرمایا کیا چاہتا ہے؟رحم نے عرض کیا کہ یہ کاٹے جانے کے خوف سے تیری پناہ کے طلبگار کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے یعنی میں تیرے روبرو کھڑا ہوں اور تیرے دامن عزت و عظمت کی طرف دست سوال دراز ہوں تجھ سے اس امر کی پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی شخص مجھ کو کاٹ دے اور میرے دامن عزت و عظمت کی طرف دست سوال دراز کیے ہوئے ہوں تجھ سے اس امر کی پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی شخص مجھ کو کاٹ دے اور میرے دامن کو جوڑنے کے بجائے اس کو تار تار کر دے۔ پروردگار نے فرمایا کہ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ جو شخص رشتہ داروں اور عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذریعہ ) تجھ کو قائم رکھے اور اس کو میں بھی اپنے احسان و انعام اور اجر و بخشش کے ذریعہ قائم برقرار رکھوں گا اور جو شخص رشتہ داری کے تعلق کو پامالی کا ذریعہ تجھ کو منقطع کر دے میں بھی اپنے احسان و انعام کا تعلق اس سے منقطع کر لوں ؟رحم نے عرض کیا کہ پروردگار بے شک میں اس پر راضی ہوں پروردگار نے فرمایا اچھا تو یہ وعدہ تیرے لیے ثابت و برقرار ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح " جب اس سے فارغ ہوا " کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ مخلوقات کو پیدا کر چکا اگرچہ ظاہری طور پر ان دونوں جملوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن اس میں ایک لطیف نکتہ ہے کہ لغوی طور پر فراغت کا حقیقی مفہوم اپنے تحقق کے لیے پہلے اشتغال کا متقاضی ہوتا ہے یعنی فراغت کا مفہوم اس صورت پر صادق آتا ہے کہ جب کسی کام میں مشغولیت رہی ہو اور اس کام کے علاوہ دیگر امور سے باز رکھتی ہے اس لیے کہا جائے گا کہ جب اس سے فارغ ہوا میں فراغت اپنے اس حقیقی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا ہے کیونکہ حق تعالیٰ اس سے پاک منزہ ہے کہ اس کو ایک کام دوسرے کام سے باز رکھے جیسا کہ ایک دعائے ماثورہ میں یوں آیا ہے، سبحان من لا تشغلہ شان عن شان،،۔ " حقو" دراصل اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ازار باندھا جائے اور چونکہ ازار کو باندھنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے دونوں کناروں کو ملا کر باندھنا اس اعتبار سے یہاں اس لفظ کا تثنیہ استعمال کرتے ہوئے بحقوی الرحمن فرمایا گیا یعنی وہ جگہ جہاں ازار کے دونوں کنارے باندھے جاتے ہیں ویسے لفظ، حقو، کا اطلاق خود ازار باندھنے کی جگہ اور کمر جیسی چیزوں سے پاک ومنزہ ہے اس لیے یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ یہ جملہ اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہے بلکہ اہل عرب کے ایک مخصوص اور اپنے بیان کا مظہر ہے اور یہاں جس بات کو بیان کرنا مقصود تھا ان کو انہی کے طرز کلام کی مثالی صورت میں واضح کیا گیا ہے چنانچہ اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی پناہ میں آنا چاہتا یا اس کی مدد کا خواہاں ہوتا جو اس کو سخت اضطراب و پریشانی میں ڈالنے والی ہوتی اور وہ پناہ یا مدد چاہنے کی اپنی ضروریات کو زیادہ اہمیت رکھتا اور تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا تو جس کی پناہ یا مدد درکار ہوتی اس کے حقو ازار پر دونوں ہاتھ مارتا تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو جائے اور یہ پوچھنے پر مجبور ہو کہ تیرا مقصد کیا ہے اور مجھ سے کیا چاہتا ہے چنانچہ رشتہ ناتے کا اپنے کاٹے جانے سے اللہ کی پناہ مانگنے کے مفہوم ہے جو کسی انسان کو پکڑنے کا ہوتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اہل عرب کے ہاں جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یداہ مبسوطتان یعنی اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں تو اس سے مراد اس کی نہایت سخاوت و فیاضی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے خواہ وہ واقعتا ہاتھوں والا ہو یا خلقی طور پر سرے سے اس کے ہاتھ ہی نہ ہوں اور خواہ وہ ایسی ذات ہو جس کے لیے ہاتھوں کا وجود ہی محال ہو جیسے حق تعالیٰ کی ذات حاصل یہ ہے کہ اس طرح کے طرز کلام اہل عرب میں محاورہ کے طور پر بہت مستعمل ہیں جن کے الفاظ اپنے حقیقی معنی کو ادا کرنے کے بجائے دوسرے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور چونکہ قرآن کریم کا نزول اور احادیث نبوی کا صدور اہل عرب ہی کے طرز کلام پر اور اسلوب بیان کے مطابق ہوا ہے اس لیے قرآن و حدیث کے ایسے مقام کہ جہاں اس طرح کے جملے آتے ہیں اور جن پر متشابہات کا اطلاق ہوتا ہے اور ان کی تاویل وضاحت کے لیے یہ بات ایک بنیاد کی حثییت رکھتی ہے ویسے اس امر کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ رحم یعنی رشتہ و ناطہ کوئی ذات و جسم تو ہے نہیں کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر حق تعالیٰ سے پناہ کا طلبگار ہو بلکہ حقیقت میں وہ ایک معنی ہے لہذا اس کے لیے کھڑے ہونے اور پناہ چاہنے کے الفاظ استعمال کرنا بطور تشبیہ و تمثیل ہی ہو سکتا ہے جس سے اس بات کو واضح کرنا مراد ہے کہ رحم گویا ایک ہستی یا ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو کھڑا ہو اور حق تعالیٰ کی عزت و عظمت اور اس کی کبریائی کا دامن پکڑ کر پناہ کا طلب گار ہو۔ اسی طرح کی بات نووی نے بھی بیان کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ رحم جس کو جوڑا جاتا ہے یا کاٹا جاتا ہے کوئی ذات یا جسم نہیں ہے بلکہ معانی میں سے ایک معنی ہے جو نہ کھڑا ہو سکتا ہے اور نہ اس سے کلام و گفتگو ہو سکتی ہے لہذا اس کے بارے میں مذکورہ ارشاد کی مراد دراصل رحم یعنی ناتے کی اہمیت کو ظاہر کرنا، ناتے کو جوڑنے والے کی فضیلت کو بیان کرنا اور ناتے کی مذمت کرنا ہے کیونکہ ناتے کو جوڑنا فی الجملہ واجب ہے اور اس کو توڑنا گناہ کبیرہ ہے اگرچہ صلہ رحم کے درجات متعین کر دیئے گئے ہیں جن میں سے بعض کو زیادہ اہمیت اور برتری حاصل ہے اور سب سے ادنی درجہ ترک مہاجرت یعنی میل ملاقات کو اختیار کرنا ہے کیونکہ صلہ رحم کا ایک ذریعہ کلام و ملاقات بھی ہے اگرچہ وہ محض سلام کی حد تک ہو۔ واضح رہے کہ صلہ رحم کے ان درجات کے درمیان تفاوت و اختلاف کی بنیاد مواقع و حالات اور ضرورت قدرت کے مختلف ہونے پر ہے چنانچہ بعض صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں رشتہ داری کے تعلق کی رعایت اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کی زیادہ اہمیت و ضرورت ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں زیادہ اہم ہے اور بعض میں مستحب لہذا اگر کسی شخص نے ناتا جوڑنے کے حق کو جزوی طور پر ادا کیا اور اس کو پورے طور پر ادا نہیں کر سکتا تو اس کو ناتا توڑنے والا نہیں کہیں گے لیکن اگر کسی شخص نے رشتہ داری کے حقوق میں سے کسی ایسے حق کو پورا کرنے میں کوتاہی کی جس کو پورا کرنے پر وہ قادر تھا نیز اس حق کو پورا کرنا اس لیے مناسب بھی تھا تو اس شخص کو ناتا جوڑنے والا کہا جائے گا۔

-

Permalink