TrueHadith

روزہ کی حالت میں سینگی کھچوانا جائز ہے

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920513)

وعن ابن عباس قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں بھری ہوئی سینگی کھنچوائی نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی حالت میں (بھی) بھری ہوئی سینگی کھنچوائی ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت شیخ جزری فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں روزے سے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھری ہوئی سینگی کھنچوائی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ مراد ابوداؤد کی ایک روایت کی روشنی میں اخذ کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ۔حدیث ( انہ صلی اللہ علیہ وسلم احتجم ھو صائما محرما)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت بھری ہوئی سینگی کھنچوائی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں روزہ سے تھے۔ بہرحال حضرت مظہر فرماتے ہیں کہ احرام کی حالت میں سینگی کھنچوانی جائز ہے بشرطیکہ کوئی بال نہ ٹوٹے ۔ اسی طرح حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ کا متفقہ طور پر مسلک یہ ہے کہ روزہ دار کو سینگی کھنچوانا بلا کراہت جائز ہے لیکن حضرت امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھری ہوئی سینگی کھینچنے اور کھنچوانے والا دونوں کا روزہ باطل ہو جاتا ہے مگر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920521)

وعن أنس قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : " اشتكيت عيني أفأكتحل وأنا صائم ؟ قال : " نعم " . رواه الترمذي وقال : ليس إسناده بالقوي وأبو عاتكة الراوي يضعف

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری آنکھیں دکھتی ہیں کیا میں روزہ کی حالت سرمہ لگا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے اور اس کے ایک راوی ابوعاتکہ ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ تشریح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے چنانچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا مکروہ نہیں ہے اگرچہ اس کا مزہ حلق میں محسوس ہو جب کہ حضرت امام احمد، اسحق اور سفیان رحمہم اللہ کے نزدیک مکروہ ہے امام مالک سے بعض لوگوں نے کراہت کا قول نقل کیا ہے اور بعض لوگوں نے عدم کراہت کا ۔ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس بارہ میں چونکہ اور بھی احادیث منقول ہیں اس لیے یہ سب مل کر قابل استناد و استدلال ہو جاتی ہیں۔

-

Permalink