وعن واثلة بن الأسقع قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " إن الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم " . رواه مسلم وفي رواية للترمذي : " إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من ولد إسماعيل بني كنانة "
اور حضرت واثلہ ابن اسقع رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں کنانہ کو چنا اور اولاد کنانہ سے قریش کو چنا اور اولاد قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چنا (مسلم) اور ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم علیہ السلام میں اسمٰعیل علیہ السلام کو برگزیدہ کیا اور اولاد اسمٰعیل میں ، بنی کنانہ کو برگزیدہ کیا ۔ تشریح : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نسلی ونسبی تعلق حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے ہے ، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بیٹے قیدار کی اولاد میں ایک شخص عدنان تھے ، انہی عدنان کی اولاد بن اسمٰعیل کے تمام مشہور قبائل پر مشتمل ہے ، اسی لئے عرب مستعربہ بنی اسمٰعیل کو عدنانی یا آل عدنان کہا جاتا ہے عدنان کے بیٹے معد اور معد کے بیٹے نزار تھے ، نزار کے جو چار مشہور بیٹے بتائے جاتے ہیں ان میں سے دو بیٹے ربیعہ اور مضر سب سے زیادہ نامور اور جزیرہ نما عرب کے بڑے قبائل کے مورث ہیں ، مضر کی اولاد میں آگے چل کر ایک شخص کنانہ ہوئے اور ان کی اولاد مضر کے قبائل میں سب سے زیادہ مشہور ومعروف قبیلہ پر مشتمل ہوئی ، کنانہ کے بیٹے نضر اور نضر کے بیٹے مالک اور مالک کے بیٹے فہر تھے ، یہی وہ فہر ہیں جن کا لقب قریش تھا ، فہر کی اولاد میں بہت سے قبائل ہوئے اور سب " قریش " کہلاتے ہیں یہ تمام قبائل مختلف علاقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ان کے درمیان نہ باہمی ربط واتفاق تھا اور نہ کوئی اجتماعی نظام تھا ۔ پھر ایک شخص قصی بن کلاب پیدا ہوئے ، انہوں نے بڑی محنت اور جدوجہد کرکے تمام قریش کو منظم کیا ، ان میں اجتماعیت اور بیداری کی روح پھونکی جس کی بدولت قریش نے نہ صرف مکہ معظمہ بلکہ تمام حجاز پر غلبہ واقتدار حاصل کرلیا ۔ اسی وجہ سے بعض حضرات یہ کہتے ہیں " قریش " اصل میں قصی بن کلاب کا لقب ہے ، کیونکہ یہ لفظ (قریش ) قرش سے نکلا ہے جس کے معنی جمع کرنے اور منظم کرنے کے ہیں ۔ ویسے زیادہ مشہور یہ ہے کہ " قریش " ایک سمندری جانور کا نام ہے جونہایت قوت اور زور رکھتا ہے ، اس کی تائید حضرت ابن عباس کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ قریش کا نام اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ قریش (قرش) ایک بڑی خطرناک مچھلی کا نام ہے جو سب مچھلیوں کو نگل لیتی ہے لیکن خود اس کو نہ کوئی مچھلی گزند پہنچاتی ہے نہ اس پر قابوپاتی ہے ۔ یہی وجہ تسمیہ قاموس میں بھی مذکور ہے ۔ظہور اسلام کے وقت قریش کی شاخوں میں سے جو شاخ سب سے زیادہ مشہور باعزت اور غالب تھی وہ بنوہاشم ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم میں پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ ابن عبد المطلب ابن ہاشم ابن عبدمناف ابن قصی ابن کلاب ابن مرۃ ابن کعب ابن لوی ابن غالب ابن فہر ابن مالک ابن نضر ابن کنانہ ابن خزیمہ ابن مدرک ابن الیاس ابن مضر ابن نزار ابن معد ابن عدنان ۔عدنان سے پہلے کا نسب نامہ زیادہ وثوق کے ساتھ نہیں بتایا جاسکتا ۔ اس کی تفصیل کی روشنی میں حدیث کامفہوم واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو سب سے زیادہ برگزیدگی وعظمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی ، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اپنے سلسلہ نسب کی تمام تر برگزیدگیوں اور عظمتوں کانچوڑ ہے ۔
-
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي : نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل وأحلت لي المغانم ولم تحل لأحد قبلي وأعطيت الشفاعة وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة " . متفق عليهوعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " فضلت على الأنبياء بست : أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لي الغنائم وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بي النبيون " . رواه مسلم
اور حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی ورسول کو عطانہیں ہوئیں ، ایک تو مجھ کو اس رعب کے ذریعہ نصرت عطا ہوئی ہے جو ایک مہینے کی مسافت کی دوری پر اثر انداز ہوتا ہے دوسرے ساری زمین کو میرے لئے مسجد اور " پاک کرنے والی " قرار دیا گیا ، چنانچہ میری امت کا ہر (وہ ) شخص (جس پر نماز واجب ہو) جہاں نماز کا وقت پائے (اگر پانی نہ ہو تو تیمم کرکے ) نماز پڑھ لے ، تیسرے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا چوتھے مجھ کو شفاعت عظمی عامہ کے مرتبہ فرمایا گیا اور پانچویں مجھ سے پہلے ہر نبی کو خاص طور پر اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جب کہ مجھ کو روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ( بخاری ومسلم ) تشریح : مجھ کو اس رعب کے ذریعہ نصرت عطا ہوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اسلام کے دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلہ پر مجھے اس خصوصیت کے ساتھ فتح ونصرت عطا فرماتا ہے کہ ان کے دلوں میں میرا رعب اور خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ مجھ سے ایک مہینہ کی مسافت کی دوری پر بھی ہوتے ہیں تو میرے نام ہی سے ان کی ہمت پست ہوجاتی ہے اور مارے رعب ودہشت کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ، ساری زمین کو میرے لئے مسجد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے پہلے کے رسولوں اور نبیوں کی شریعت میں ہر جگہ نماز پڑھنا اور عبادت کرنا درست نہیں تھا ان کی نمازوعبادت کے لئے جو جگہ عبادت خانہ کے طور پر متعین اور مخصوص ہوتی تھی بس وہیں نماز وعبادت ہوسکتی تھی لیکن مجھے یہ خصوصیت عطاء ہوئی کہ میں اور میری امت کے لوگ بیت الخلاء وغسل خانہ اور مقبرہ کے علاوہ پوری روئے زمین پر جس جگہ اور جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں الا یہ کہ کسی جگہ کی ناپاکی کا علم یقین کے ساتھ ہوجائے تو اس جگہ نماز پڑھنا جائز نہیں اسی طرح گذشتہ امتوں میں پانی کے بغیر پاکی حاصل نہیں ہوتی تھی لیکن ہمارے لئے یہ جائز قرار دیا گیا ہے کہ اگر کہیں پانی دستیاب نہ ہو یا پانی کے استعمال میں کوئی شرعی عذر حائل ہو تو پاک مٹی کے ذریعہ تیمم کرکے پاکی حاصل کی جاسکتی ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا کی وضاحت یہ ہے کہ مال غنیمت کے بارے میں گذشتہ امتوں میں جو یہ معمول تھا کہ حاصل ہونے والا مال غنیمت اگر جانوروں کے علاوہ کسی اور جنس کا ہوتا تو اس کو جمع کرکے ایک جگہ رکھ دیا جاتا اور پھر آسمان سے ایک آگ اترتی اور وہاں جمع شدہ تمام مال واسباب کو جلا کر واپس چلی جاتی اور اگر مال غنیمت مویشوں اور جانوروں کی صورت میں ہوتا تو اس کے حقدار صرف وہی لوگ ہوتے تھے جو اس کو دشمنوں سے چھنتے اور اس پر قبضہ کرتے تھے نبی اور رسول کو اس میں سے کچھ نہ ملتا لیکن ہمارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہ صرف یہ کہ خمس یعنی مال غنیمت کا پانچوں حصہ بلکہ صفی بھی لینا جائز کیا گیا ہے صفی اس چیز کو کہتے ہیں جو مال غنیمت میں سب سے اچھی ہو چنانچہ مال غنیمت میں جو چیز سب سے اچھی معلوم ہوتی تھی جیسے تلوار وغیرہ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے مخصوص فرمالیتے تھے مجھے کو شفاعت عظمی عامہ کے مرتبے سے سرفراز فرمایا گیا قیامت کے دن یہ مرتبہ خاص صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگا اور شفاعت کے جتنے بھی مواقع اور مقام ہوں گے وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی مرتبہ کے تحت ہوں گے اس بارے میں تفصیلی بحث باب شفاعتہ میں گذر چکی ہے مجھ کو روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا کہ بارے میں یہ ذہن نشین رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت صرف انسانوں کی تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت جنات کی طرف بھی ہوئی ہے اپنی رسالت کے ذریعہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین کے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام ہدایت پہنچایا اسی طرح جنات کی بھی ہدایت فرمائی اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول الثقلین کہا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی اس وقت تک جنات کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نہ ہوئی ہوبعد میں ہوئی ہو اور اسی وجہ سے اس حدیث میں جنات کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اور حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے چھ چیزوں کے ذریعہ دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے ، (١) مجھے جامع کلمات عطاء ہوئے (٢) دشمنوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے کے ذریعہ مجھے فتح ونصرت عطا فرمائی گئی (٣) مال غنیمت میرے لئے حلال ہوا (٤) ساری زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا ، (٥) ساری مخلوق کے لئے مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا (٦) اور نبوت ورسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا ۔ (مسلم ) تشریح : مجھے جامع کلمات عطاہوئے ۔" کا مطلب یہ ہے کہ دین کی حکمتیں اور احکام ، ہدایت کی باتیں ، اور مذہبی ودنیاوی امور سے متعلق دوسری چیزوں کو بیان کرنے کا ایسا مخصوص اسلوب مجھے عطا فرمایا گیا جو نہ پہلے کسی نبی اور رسول کو عطا ہوا اور نہ دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے فصیح وبلیغ کو نصیب ہوا ! اس اسلوب کی خصوصیت یہ ہے کہ تھوڑے سے الفاظ کے ایک چھوٹے سے جملہ میں معانی ومفہوم کا ایک گنجینہ پہناں ہوتا ہے ، پڑھئے اور لکھئے تو چھوٹی سی سطر بھی پوری نہ ہو ، لیکن اس کا فہم اور وضاحت بیان کیجئے تو کتاب کی کتاب تیار ہوجائے ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وارشادات میں اس طرح کے کلمات کی ایک بڑی تعداد ہے جن کو " جوامع الکلم " سے تعبیر کیا جاتا ہے ، ان میں سے چند کلمات کو بطور مثال یہاں نقل کیا جاتا ہے : ١انماالاعمال بالنیات ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ۔ ٢ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ ۔ بے فائدہ بات کو ترک کردینا آدمی کے اسلام کا حسن ہے ۔ ٣الدین النصیحۃ ۔ دین خیر خواہی کا نام ہے ٤العدۃ دین وعدہ ۔ وعدہ ، بمنزلہ دین کے ہے ۔ ٥المستشارموتمن جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانتدار ہے ۔ بعض علماء نے بڑی محنت اور دیدہ ریزی سے کام لے کر احادیث کے ذخائر میں سے اس طرح کی حدیثوں کو ، جو جوامع الکلم " میں سے ہیں چنا ہے (اور انکا مجموعہ تیار کیا ہے !بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ " مجھے جوامع الکلم یعنی جامع کلمات عطاہوئے ہیں ۔" میں جوامع الکلم سے " قرآن کریم " مراد ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا یہ اعجاز نمایاں ہے کہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑے بڑے مضمون پنہاں ہیں ، لیکن پہلی وضاحت ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ اسی مضمون کی ایک دوسری روایت میں " اختصہ لی الکلام " کے الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں اس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں " جوامع الکلم " سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اقوال مراد ہیں " اور نبوت ورسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا ، کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ، رسالت تمام ہوئی اب میرے بعد کوئی اور نبی ورسول نہیں آئے گا کیونکہ خدا کا دین مکمل ہوگیا ہے قیامت کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا اترنا بھی اسی دین کو مضبوط بنانے اور زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لئے ہوگا۔
-
وعن العباس أنه جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فكأنه سمع شيئا فقام النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر فقال : " من أنا ؟ " فقالوا : أنت رسول الله . فقال : " أنا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب إن الله خلق الخلق فجعلني في خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خير فرقة ثم جعلهم قبائل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعله بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا فأنا خيرهم نفسا وخيرهم بيتا " . رواه الترمذي
اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ایک دن ) کفار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہرزہ سرائی کرتے سنا تو (افسوس اور غصہ میں بھرے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ( اور بتایا کہ کفار یہ بکو اس کررہے ہیں کہ اگر اللہ میاں کو مکہ ہی کے کسی شخص کو اپنا نبی اور رسول بنانا تھا تو اس شہر کے بڑے بڑے صاحب دولت وثروت اور اونچے درجے کے سرداروں کو چھوڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کیوں کرتا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (نے یہ سنا تو واضح کرنے کے لئے نسلی ونسبی اور خاندانی عظمت وعزت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کیا ہے اور مرتبہ نبوت پر فائز ہونے کے لئے دوسروں کے مقابلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت واہمیت کیا ہے ) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو ، میں کون ہوں ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں میں اللہ کا رسول ہوں ، لیکن میری نسلی ونسبی اور خاندانی عظمت کیا ہے ، اس کو جاننے کے لئے سنو) میں عبداللہ بن عبد المطلب کا بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں اور عبد المطلب وہ ہستی ہیں جو عرب میں نہایت بزرگ ومعزز ، بڑے شریف وپاکباز اور انتہائی مشہور ومعروف تھے ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق (جن وانسان ) کو پیدا کیا تو مجھے اس مخلوق میں سے بہترین مخلوق (نوع انسانی ) میں پیدا کیا پھر اس بہترین مخلوق (نوع انسانی ) کے اللہ تعالیٰ نے دو طبقے کئے (ایک عرب دوسراعجم ) اور مجھے ان دونوں طبقوں میں سے بہترین طبقہ (عرب ) میں پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین طبقہ (عرب ) کو قبائل درقبائل کیا (یعنی اس طبقہ کو مختلف قبیلوں اور قوموں میں تقسیم کیا ) اور مجھے ان قبائل میں سے بہترین قبیلہ (قریش ) میں پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین قبیلہ (قریش ) کے مختلف گھرانے بنائے اور مجھے ان گھرانوں میں سے بہترین گھرانے (بنوہاشم ) میں پیدا کیا ، پس میں ان (تمام نوع انسانی اور تمام اہل عرب ) میں ذات وحسب کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر واعلی ہوں اور خاندان وگھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے اونچا ہوں (ترمذی) تشریح : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسلی ونسبی اور خاندانی عظمت وفضیلت کا اظہار کر کے گویا یہ واضح کیا کہ خدا کا آخری نبی بننے اور خدا کی آخری کتاب پانے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمت الہٰی اس کا لحاظ رکھتی تھی کہ مرتبہ نبوت ورسالت پر فائز ہونے والی ہستی حسب اور خاندان کے اعتبار سے بلند درجہ اور عالی حیثیت ہو لیکن انبیاء کی ذات کے لئے حسب ونسب کی عظمت وبرتری کا لازم ہونا کوئی بنیادی چیز نہیں ہے ، اس کا تعلق محض ان لوگوں کے خلاف اتمام حجت سے ہے جو حسب ونسب کی بڑائی اور خاندانی وجاہت کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں ، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جاہل اور بیوقوف کفار کہا کرتے تھے کہ اگر خدا کی آخری کتاب قران کو نازل کیا جانا تھا اور نبوت ورسالت قائم کی جانی تھی تو اس کے لئے عرب کے بڑے سرداروں میں سے کسی کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا !ور جہاں تک نفس نبوت کا تعلق ہے وہ خود اتنا بڑا شرف ہے جس کے سامنے کسی کی بھی بڑی سے بڑی وجاہت اور عظمت بے حیثیت چیز ہے ، اس کا حصول نہ حسب ونسب کی عظمت وبلندی پر موقوف ہے اور نہ کسی اور سبب وذریعہ پر بلکہ محض خدا کا فضل ہے کہ اس نے جس کو چاہا اس شرف ومرتبہ کے لئے منتخب فرمایا ، قرآن کریم میں ارشاد ہے اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ : اس کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کے لئے کس کو منتخب کرے ایک اور موقع پر فرمایا ۔ و اللہ یختص برحمتہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت (عنایت ) کے ساتھ جس کو منظور ہوتا ہے مخصوص فرما لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل (کرنے ) والے ہیں ۔ وکان فضل اللہ علیک عظیما ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (اپنی کتاب اور علم ونبوت عطا کر کے ) بڑے فضل سے نوازا۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت حضرت آدم علیہ السلام کے وجود پذیر ہونے سے بھی پہلے تجویز ہوگئی تھی :
-
وعن أبي هريرة قال : قالوا : يا رسول الله متى وجبت لك النبوة ؟ قال : " وآدم بين الروح والجسد " . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن ) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت نامزد ہوئے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت جب کہ آدم علیہ السلام روح اور بدن کے درمیان تھے (ترمذی) تشریح : مطلب یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مرتبہ نبوت ورسالت کے لئے اس وقت نامزد بھی ہوچکی تھی ۔ جب کہ حضرت آدم علیہ السلام کی روح ان کے پیکر خاکی سے متعلق بھی نہیں ہوئی تھی اور ان کا پتلا زمین پر بے جان پڑا تھا ۔ یہ جملہ دراصل اس بات سے کنایہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت حضرت آدم علیہ السلام کے وجود میں آنے سے بھی پہلے متعین ومقرر ہوچکی تھی ۔
-
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر . وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر " . رواه الترمذي
اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام بنی آدم کا سردار بنوں گا ، اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا (قیامت کے دن مقام محمود میں ) حمد کانیزہ میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا ، اس دن کوئی بھی نبی خواہ وہ آدم ہوں ، یہ کوئی اور ، ایسا نہیں ہوگا جو میرے نیزے کے نیچے نہیں آئے گا ۔ اور (قیامت کے دن ) سب سے پہلے میں زمین پھٹ کر اٹھوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا ۔ (ترمذی) تشریح : اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا ۔سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ میرا یہ کہنا شیخی مارنے ، اترانے اور خواہ مخواہ کی بڑائی جتانے کے طور پر نہیں ہے بلکہ پروردگار نے اس فضل وبرتری کی جو نعمت مجھے عطا فرمائی ھے اس کا اقرار واظہار کرنے ، اس نعمت پر شکر ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم واما بنعمۃ ربک فحدث کی بجا آوری کے لئے ہے ، علاوہ ازیں میں اس بات اظہار واعلان اس لئے بھی کررہا ہوں تاکہ لوگ میری قدرومنزلت اور میری حیثیت وعظمت کو جانیں اس پر اعتقاد رکھیں اور اس کے مطابق میری تو قیر وتعظیم اور میری محبت کے ذریعہ ایمان کو مضبوط بنائیں ۔ " لوائ" کے معنی جھنڈے اور پر چم کے ہیں لیکن نیزہ کو بھی کہتے ہیں " حمد " کا نیزہ میرے ہاتھ میں ہوگا سے مراد قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا میں نام آور ہونا ہے ، اگر ترجمہ یوں کیا جائے کہ حمد کا پر چم میرے ہاتھ میں ہوگا تو اس کی مراد بھی یہی ہوگی کیونکہ جس طرح اہل عرب کسی معاملہ میں اپنی شہرت وناموری کے اظہار کے لئے نیزہ کھڑا کردیا کرتے تھے اسی طرح پر چم بھی عظمت وبلندی اور ناموری کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہے مطلب یہ کہ اس دن جب یہ نیزہ یا جھنڈہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آئے گا تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ایسا کھول دے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف کریں گے جو کوئی دوسرا نہ کرسکے گا واضح رہے کہ آپ کی امت " حمادین " کہلاتی ہے یعنی ایسے لوگ جوہرحالت میں ، خواہ خوشی کا موقع ہو یا غمی کا ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے ہیں قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات حامد بھی ہوگی اور محمود بھی ، اور آپ اللہ تعالیٰ کے حمد کے ذریعہ ہی شفاعت کا دروازہ کھلوائیں گے جیسا کہ اس دنیا میں بادشاہوں اور سرابراہان مملکت کی عظمت وشوکت کے اظہار اور ان کی حیثیت کو ممتاز کرنے کے لئے ان کا اپنا الگ پر چم نصب ہوتا ہے ۔
-
وعن واثلة بن الأسقع قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " إن الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم " . رواه مسلم وفي رواية للترمذي : " إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من ولد إسماعيل بني كنانة "
اور حضرت واثلہ ابن اسقع کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں کنانہ کو چنا اور اولاد کنانہ سے قریش کو چنا اور اولاد قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چنا (مسلم) اور ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم علیہ السلام میں اسمٰعیل علیہ السلام کو برگزیدہ کیا اور اولاد اسمٰعیل میں ، بنی کنانہ کو برگزیدہ کیا ۔ تشریح : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نسلی ونسبی تعلق حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے ہے ، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بیٹے قیدار کی اولاد میں ایک شخص عدنان تھے ، انہی عدنان کی اولاد بن اسمٰعیل کے تمام مشہور قبائل پر مشتمل ہے ، اسی لئے عرب مستعربہ بنی اسمٰعیل کو عدنانی یا آل عدنان کہا جاتا ہے عدنان کے بیٹے معد اور معد کے بیٹے نزار تھے ، نزار کے جو چار مشہور بیٹے بتائے جاتے ہیں ان میں سے دو بیٹے ربیعہ اور مضر سب سے زیادہ نامور اور جزیرہ نما عرب کے بڑے قبائل کے مورث ہیں ، مضر کی اولاد میں آگے چل کر ایک شخص کنانہ ہوئے اور ان کی اولاد مضر کے قبائل میں سب سے زیادہ مشہور ومعروف قبیلہ پر مشتمل ہوئی ، کنانہ کے بیٹے نضر اور نضر کے بیٹے مالک اور مالک کے بیٹے فہر تھے ، یہی وہ فہر ہیں جن کا لقب قریش تھا ، فہر کی اولاد میں بہت سے قبائل ہوئے اور سب " قریش " کہلاتے ہیں یہ تمام قبائل مختلف علاقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ان کے درمیان نہ باہمی ربط واتفاق تھا اور نہ کوئی اجتماعی نظام تھا ۔ پھر ایک شخص قصی بن کلاب پیدا ہوئے ، انہوں نے بڑی محنت اور جدوجہد کرکے تمام قریش کو منظم کیا ، ان میں اجتماعیت اور بیداری کی روح پھونکی جس کی بدولت قریش نے نہ صرف مکہ معظمہ بلکہ تمام حجاز پر غلبہ واقتدار حاصل کرلیا ۔ اسی وجہ سے بعض حضرات یہ کہتے ہیں " قریش " اصل میں قصی بن کلاب کا لقب ہے ، کیونکہ یہ لفظ (قریش ) قرش سے نکلا ہے جس کے معنی جمع کرنے اور منظم کرنے کے ہیں ۔ ویسے زیادہ مشہور یہ ہے کہ " قریش " ایک سمندری جانور کا نام ہے جونہایت قوت اور زور رکھتا ہے ، اس کی تائید حضرت ابن عباس کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ قریش کا نام اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ قریش (قرش) ایک بڑی خطرناک مچھلی کا نام ہے جو سب مچھلیوں کو نگل لیتی ہے لیکن خود اس کو نہ کوئی مچھلی گزند پہنچاتی ہے نہ اس پر قابوپاتی ہے ۔ یہی وجہ تسمیہ قاموس میں بھی مذکور ہے ۔ظہور اسلام کے وقت قریش کی شاخوں میں سے جو شاخ سب سے زیادہ مشہور باعزت اور غالب تھی وہ بنوہاشم ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم میں پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ ابن عبد المطلب ابن ہاشم ابن عبدمناف ابن قصی ابن کلاب ابن مرۃ ابن کعب ابن لوی ابن غالب ابن فہر ابن مالک ابن نضر ابن کنانہ ابن خزیمہ ابن مدرک ابن الیاس ابن مضر ابن نزار ابن معد ابن عدنان ۔عدنان سے پہلے کا نسب نامہ زیادہ وثوق کے ساتھ نہیں بتایا جاسکتا ۔ اس کی تفصیل کی روشنی میں حدیث کامفہوم واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنوکنانہ کو سب سے زیادہ برگزیدگی وعظمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی ، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اپنے سلسلہ نسب کی تمام تر برگزیدگیوں اور عظمتوں کانچوڑ ہے ۔
-
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي : نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل وأحلت لي المغانم ولم تحل لأحد قبلي وأعطيت الشفاعة وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة " . متفق عليهوعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " فضلت على الأنبياء بست : أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لي الغنائم وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بي النبيون " . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی ورسول کو عطانہیں ہوئیں ، ایک تو مجھ کو اس رعب کے ذریعہ نصرت عطا ہوئی ہے جو ایک مہینے کی مسافت کی دوری پر اثر انداز ہوتا ہے دوسرے ساری زمین کو میرے لئے مسجد اور " پاک کرنے والی " قرار دیا گیا ، چنانچہ میری امت کا ہر (وہ ) شخص (جس پر نماز واجب ہو) جہاں نماز کا وقت پائے (اگر پانی نہ ہو تو تیمم کرکے ) نماز پڑھ لے ، تیسرے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا چوتھے مجھ کو شفاعت عظمی عامہ کے مرتبہ فرمایا گیا اور پانچویں مجھ سے پہلے ہر نبی کو خاص طور پر اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جب کہ مجھ کو روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ( بخاری ومسلم ) تشریح : مجھ کو اس رعب کے ذریعہ نصرت عطا ہوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اسلام کے دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلہ پر مجھے اس خصوصیت کے ساتھ فتح ونصرت عطا فرماتا ہے کہ ان کے دلوں میں میرا رعب اور خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ مجھ سے ایک مہینہ کی مسافت کی دوری پر بھی ہوتے ہیں تو میرے نام ہی سے ان کی ہمت پست ہوجاتی ہے اور مارے رعب ودہشت کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ، ساری زمین کو میرے لئے مسجد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے پہلے کے رسولوں اور نبیوں کی شریعت میں ہر جگہ نماز پڑھنا اور عبادت کرنا درست نہیں تھا ان کی نمازوعبادت کے لئے جو جگہ عبادت خانہ کے طور پر متعین اور مخصوص ہوتی تھی بس وہی نماز وعبادت ہوسکتی تھی لیکن مجھے یہ خصوصیت عطاء ہوئی کہ میں اور میری امت کے لوگ بیت الخلاء وغسل خانہ اور مقبرہ کے علاوہ پوری روئے زمین پر جس جگہ اور جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں الا یہ کہ کسی جگہ کی ناپاکی کا علم یقین کے ساتھ ہوجائے تو اس جگہ نماز پڑھنا جائز نہیں اسی طرح گذشتہ امتوں میں پانی کے بغیر پاکی حاصل نہیں ہوتی تھی لیکن ہمارے لئے یہ جائز قرار دیا گیا ہے کہ اگر کہیں پانی دستیاب نہ ہو یا پانی کے استعمال میں کوئی شرعی عذر حائل ہو تو پاک مٹی کے ذریعہ تیمم کرکے پاکی حاصل کی جاسکتی ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا کی وضاحت یہ ہے کہ مال غنیمت کے بارے میں گذشتہ امتوں میں جو یہ معمول تھا کہ حاصل ہونے والا مال غنیمت اگر جانوروں کے علاوہ کسی اور جنس کا ہوتا تو اس کو جمع کرکے ایک جگہ رکھ دیا جاتا اور پھر آسمان سے ایک آگ اترتی اور وہاں جمع شدہ تمام مال واسباب کو جلا کر واپس چلی جاتی اور اگر مال غنیمت مویشوں اور جانوروں کی صورت میں ہوتا تو اس کے حقدار صرف وہی لوگ ہوتے تھے جو اس کو دشمنوں سے چھنتے اور اس پر قبضہ کرتے تھے نبی اور رسول کو اس میں سے کچھ نہ ملتا لیکن ہمارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہ صرف یہ کہ خمس یعنی مال غنیمت کا پانچوں حصہ بلکہ صفی بھی لینا جائز کیا گیا ہے صفی اس چیز کو کہتے ہیں جو مال غنیمت میں سب سے اچھی ہو چنانچہ مال غنیمت میں جو چیز سب سے اچھی معلوم ہوتی تھی جیسے تلوار وغیرہ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے مخصوص فرمالیتے تھے مجھے کو شفاعت عظمی عامہ کے مرتبے سے سرفراز فرمایا گیا قیامت کے دن یہ مرتبہ خاص صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوگا اور شفاعت کے جتنے بھی مواقع اور مقام ہوں گے وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی مرتبہ کے تحت ہوں گے اس بارے میں تفصیلی بحث باب شفاعتہ میں گذر چکی ہے مجھ کو روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا کہ بارے میں یہ ذہن نشین رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت صرف انسانوں کی تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت جنات کی طرف بھی ہوئی ہے اپنی رسالت کے ذریعہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے زمین کے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام ہدایت پہنچایا اسی طرح جنات کی بھی ہدایت فرمائی اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول الثقلین کہا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی اس وقت تک جنات کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نہ ہوئی ہوبعد میں ہوئی ہو اور اسی وجہ سے اس حدیث میں جنات کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ ١٠ اور حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے چھ چیزوں کے ذریعہ دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے ، (١) مجھے جامع کلمات عطاء ہوئے (٢) دشمنوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے کے ذریعہ مجھے فتح ونصرت عطا فرمائی گئی (٣) مال غنیمت میرے لئے حلال ہوا (٤) ساری زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا ، (٥) ساری مخلوق کے لئے مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا (٦) اور نبوت ورسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا ۔ (مسلم ) تشریح : مجھے جامع کلمات عطاہوئے ۔" کا مطلب یہ ہے کہ دین کی حکمتیں اور احکام ، ہدایت کی باتیں ، اور مذہبی ودنیاوی امور سے متعلق دوسری چیزوں کو بیان کرنے کا ایسا مخصوص اسلوب مجھے عطا فرمایا گیا جو نہ پہلے کسی نبی اور رسول کو عطا ہوا اور نہ دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے فصیح وبلیغ کو نصیب ہوا ! اس اسلوب کی خصوصیت یہ ہے کہ تھوڑے سے الفاظ کے ایک چھوٹے سے جملہ میں معانی ومفہوم کا ایک گنجینہ پہناں ہوتا ہے ، پڑھئے اور لکھئے تو چھوٹی سی سطر بھی پوری نہ ہو ، لیکن اس کا فہم اور وضاحت بیان کیجئے تو کتاب کی کتاب تیار ہوجائے ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وارشادات میں اس طرح کے کلمات کی ایک بڑی تعداد ہے جن کو " جوامع الکلم " سے تعبیر کیا جاتا ہے ، ان میں سے چند کلمات کو بطور مثال یہاں نقل کیا جاتا ہے : ١انماالاعمال بالنیات ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ۔ ٢ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ ۔ بے فائدہ بات کو ترک کردینا آدمی کے اسلام کا حسن ہے ۔ ٣الدین النصیحۃ ۔ دین خیر خواہی کا نام ہے ٤العدۃ دین وعدہ ۔ وعدہ ، بمنزلہ دین کے ہے ۔ ٥المستشارموتمن جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانتدار ہے ۔ بعض علماء نے بڑی محنت اور دیدہ زیزی سے کام لے کر احادیث کے ذخائر میں سے اس طرح کی حدیثوں کو ، جو جوامع الکلم " میں سے ہیں چنا ہے (اور انکا مجموعہ تیار کیا ہے !بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ " مجھے جوامع الکلم یعنی جامع کلمات عطاہوئے ہیں ۔" میں جوامع الکلم سے " قرآن کریم " مراد ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا یہ اعجاز نمایاں ہے کہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑے بڑے مضمون پنہاں ہیں ، لیکن پہلی وضاحت ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ اسی مضمون کی ایک دوسری روایت میں " اختصہ لی الکلام " کے الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں اس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں " جوامع الکلم " سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اقوال مراد ہیں " اور نبوت ورسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا ، کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ، رسالت تمام ہوئی اب میرے بعد کوئی اور نبی ورسول نہیں آئے گا کیونکہ خدا کا دین مکمل ہوگیا ہے قیامت کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا اترنا بھی اسی دین کو مضبوط بنانے اور زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لئے ہوگا۔
-
وعن العباس أنه جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فكأنه سمع شيئا فقام النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر فقال : " من أنا ؟ " فقالوا : أنت رسول الله . فقال : " أنا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب إن الله خلق الخلق فجعلني في خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خير فرقة ثم جعلهم قبائل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعله بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا فأنا خيرهم نفسا وخيرهم بيتا " . رواه الترمذي
اور حضرت عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ایک دن ) کفار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہرزہ سرائی کرتے سنا تو (افسوس اور غصہ میں بھرے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میں آئے ( اور بتایا کہ کفار یہ بکو اس کررہے ہیں کہ اگر اللہ میاں کو مکہ ہی کے کسی شخص کو اپنا نبی اور رسول بنانا تھا تو اس شہر کے بڑے بڑے صاحب دولت وثروت اور اونچے درجے کے سرداروں کو چھوڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کیوں کرتا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (نے یہ سنا تو واضح کرنے کے لئے نسلی ونسبی اور خاندانی عظمت وعزت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کیا ہے اور مرتبہ نبوت پر فائز ہونے کے لئے دوسروں کے مقابلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت واہمیت کیا ہے ) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو ، میں کون ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں میں اللہ کا رسول ہوں ، لیکن میری نسلی ونسبی اور خاندانی عظمت کیا ہے ، اس کو جاننے کے لئے سنو) میں عبداللہ بن عبد المطلب کا بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں اور عبد المطلب وہ ہستی ہیں جو عرب میں نہایت بزرگ ومعزز ، بڑے شریف وپاکباز اور انتہائی مشہور ومعروف تھے ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق (جن وانسان ) کو پیدا کیا تو مجھے اس مخلوق میں سے بہترین مخلوق (نوع انسانی ) میں پیدا کیا پھر اس بہترین مخلوق (نوع انسانی ) کے اللہ تعالیٰ نے دو طبقے کئے (ایک عرب دوسراعجم ) اور مجھے ان دونوں طبقوں میں سے بہترین طبقہ (عرب ) میں پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین طبقہ (عرب ) کو قبائل درقبائل کیا (یعنی اس طبقہ کو مختلف قبیلوں اور قوموں میں تقسیم کیا ) اور مجھے ان قبائل میں سے بہترین قبیلہ (قریش ) میں پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین قبیلہ (قریش ) کے مختلف گھرانے بنائے اور مجھے ان گھرانوں میں سے بہترین گھرانے (بنوہاشم ) میں پیدا کیا ، پس میں ان (تمام نوع انسانی اور تمام اہل عرب ) میں ذات وحسب کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر واعلی ہوں اور خاندان وگھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے اونچا ہوں (ترمذی) تشریح : حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسلی ونسبی اور خاندانی عظمت وفضیلت کا اظہار کرکے گویا یہ واضح کیا کہ خدا کا آخری نبی بننے اور خدا کی آخری کتاب پانے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمت الہٰی اس کا لحاظ رکھتی تھی کہ مرتبہ نبوت ورسالت پر فائز ہونے والی ہستی حسب اور خاندان کے اعتبار سے بلند درجہ اور عالی حیثیت ہو لیکن انبیاء کی ذات کے لئے حسب ونسب کی عظمت وبرتری کا لازم ہونا کوئی بنیادی چیز نہیں ہے ، اس کا تعلق محض ان لوگوں کے خلاف اتمام حجت سے ہے جو حسب ونسب کی بڑائی اور خاندانی وجاہت کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں ، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جاہل اور بیوقوف کفار کہا کرتے تھے کہ اگر خدا کی آخری کتاب قران کو نازل کیا جانا تھا اور نبوت ورسالت قائم کی جانی تھی تو اس کے لئے عرب کے بڑے سرداروں میں سے کسی کا انتخاب کیوں نہیں کیا گیا !ور نہ جہان تک نفس نبوت کا تعلق ہے وہ خود اتنا بڑا شرف ہے جس کے سامنے کسی کی بھی بڑی سے بڑی وجاہت اور عظمت بے حیثیت چیز ہے ، اس کا حصول نہ حسب ونسب کی عظمت وبلندی پر موقوف ہے اور نہ کسی اور سبب وذریعہ پر بلکہ محض خدا کا فضل ہے کہ اس نے جس کو چاہا اس شرف ومرتبہ کے لئے منتخب فرمایا ، قرآن کریم میں ارشاد ہے اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ : اس کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کے لئے کس کو منتخب کرے ایک اور موقع پر فرمایا ۔ و اللہ یختص برحمتہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت (عنایت ) کے ساتھ جس کو منظور ہوتا ہے مخصوص فرما لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل (کرنے ) والے ہیں ۔ وکان فضل اللہ علیک عظیما ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (اپنی کتاب اور علم ونبوت عطا کر کے ) بڑے فضل سے نوازا۔"
-
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر . وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر " . رواه الترمذي
اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام بنی آدم کا سردار بنوں گا ، اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا (قیامت کے دن مقام محمود میں ) حمد کانیزہ میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا ، اس دن کوئی بھی نبی خواہ وہ آدم ہوں ، یہ کوئی اور ، ایسا نہیں ہوگا جو میرے نیزے کے نیچے نہیں آئے گا ۔ اور (قیامت کے دن ) سب سے پہلے میں زمین پھٹ کر اٹھوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا ۔ (ترمذی) تشریح : اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا ۔سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ میرا یہ کہنا شیخی مارنے ، اترانے اور خواہ مخواہ کی بڑائی جتانے کے طور پر نہیں ہے بلکہ پروردگار نے اس فضل وبرتری کی جو نعمت مجھے عطا فرمائی ھے اس کا اقرار واظہار کرنے ، اس نعمت پر شکر ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم واما بنعمۃ ربک فحدث کی بجا آوری کے لئے ہے ، علاوہ ازیں میں اس بات اظہار واعلان اس لئے بھی کررہا ہوں تاکہ لوگ میری قدرومنزلت اور میری حیثیت وعظمت کو جانیں اس پر اعتقاد رکھیں اور اس کے مطابق میری تو قیر وتعظیم اور میری محبت کے ذریعہ ایمان کو مضبوط بنائیں ۔ " لوائ" کے معنی جھنڈے اور پر چم کے ہیں لیکن نیزہ کو بھی کہتے ہیں " حمد " کا نیزہ میرے ہاتھ میں ہوگا سے مراد قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا میں نام آور ہونا ہے ، اگر ترجمہ یوں کیا جائے کہ حمد کا پر چم میرے ہاتھ میں ہوگا تو اس کی مراد بھی یہی ہوگی کیونکہ جس طرح اہل عرب کسی معاملہ میں اپنی شہرت وناموری کے اظہار کے لئے نیزہ کھڑا کردیا کرتے تھے اسی طرح پر چم بھی عظمت وبلندی اور ناموری کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہے مطلب یہ کہ اس دن جب یہ نیزہ یا جھنڈہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آئے گا تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ایسا کھول دے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو وہ تعریف کریں گے جو کوئی دوسرا نہ کرسکے گا واضح رہے کہ آپ کی امت " حمادین " کہلاتی ہے یعنی ایسے لوگ جوہرحالت میں ، خواہ خوشی کا موقع ہو یا غمی کا ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے ہیں قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات حامد بھی ہوگی اور محمود بھی ، اور آپ اللہ تعالیٰ کے حمد کے ذریعہ ہی شفاعت کا دروازہ کھلوائیں گے جیسا کہ اس دنیا میں بادشاہوں اور سرابر اہان مملکت کی عظمت وشوکت کے اظہار اور ان کی حیثیت کو ممتاز کرنے کے لئے ان کا اپنا الگ پر چم نصب ہوگا ۔
-