TrueHadith

زکوۃ لانے والوں کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائے رحمت

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920273)

وعن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنهما قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أتاه قوم بصدقتهم قال : " اللهم صلى على آل فلان " . فأتاه أبي بصدقته فقال : " اللهم صلى الله على آل أبي أوفى " وفي رواية : " إذا أتى الرجل النبي بصدقته قال : " اللهم صلي عليه "

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی زکوۃ لے کر آتی تاکہ آپ انہیں مستحقین میں تقسیم فرما دیں تو فرماتے اللہم صل علی الی فلاں اے اللہ! فلاں شخص کے خاندان پر رحمت نازل فرما چنانچہ جب میرے والد مکرم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی زکوۃ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہم صلی علی آل ابی اوفیٰ اے اللہ! اوفیٰ کے خاندان پر رحمت نازل فرما (بخاری و مسلم) ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی زکوۃ لے کر حاضر ہوتا تو آپ فرماتے کہ اے اللہ اس شخص پر اپنی رحمت نازل فرما۔ تشریح کسی شخص کے بارہ میں تنہا اس کے لیے لفظ صلوۃ کے ساتھ دعا کرنا یعنی اس طرح کہنا کہ اللہم صل علی آل فلاں درست نہیں ہے لفظ صلوۃ کے ساتھ دعا صرف انبیاء کرام کے لیے مخصوص ہے ہاں اگر کسی شخص کو انبیاء کے ساتھ متعلق کر کے لفظ صلوۃ کے ساتھ دعا کی جائے تو درست ہے جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کا تعلق ہے کہ آپ زکوۃ لانے والوں کے لیے لفظ صلوۃ کے ساتھ دعائے رحمت کرتے تھے تو اس کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے ہے کسی اور کے لیے یہ جائز نہیں ہے۔

-

Permalink

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920274)

عن أبي هريرة . قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم عمر على الصدقة . فقيل : منع ابن جميل وخالد بن الوليد والعباس . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ما ينقم ابن جميل إلا أنه كان فقيرا فأغناه الله ورسوله . وأما خالد فإنكم تظلمون خالدا . قد احتبس أدراعه وأعتده في سبيل الله . وأما العباس فهي على . ومثلها معها " . ثم قال : " يا عمر أما شعرت أن عم الرجل صنوا أبيه ؟ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے مقرر فرمایا کسی شخص نے آ کر خبر دی کہ ابن جمیل خالد ابن ولید اور حضرت عباس نے زکوۃ ادا نہیں کی یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابن جمیل نے تو زکوۃ دینے سے اس لیے انکار کیا کہ وہ پہلے مفلس و قلاش تھا اور اب اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے اسے دولت مند بنا دیا خالد بن ولید کی بات یہ ہے کہ ان پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو کہ اصل میں ان پر زکوۃ واجب ہی نہیں ہے۔ مگر تم ان سے زکوۃ وصول کرنے کے خواہشمند ہو کیونکہ انہوں نے تو اپنی زرہیں اور سامان جنگ یعنی ہتھیار، جانور اور جنگ کا دوسرا سامان خدا کی راہ میں یعنی جہاد کے لیے وقف کر رکھا ہے لہٰذا تم جو ان کے مال و اسباب کو تجارت کا مال سمجھتے ہو وہ غلط ہے اور جہاں تک حضرت ابن عباس کا تعلق ہے تو بات یہ ہے کہ ان کی زکوۃ مجھ پر ہے اور نہ صرف اسی سال کی بلکہ اس کے مثل اور آئندہ سال کی بھی ۔ پھر فرمایا کہ عمر! کیا تم نہیں جانتے کہ کسی شخص کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے لہٰذا تم لوگ عباس کو میرے باپ کی جگہ سمجھو ان کی تعظیم و توقیر کرو اور انہیں کسی بھی طرح رنج و تکلیف نہ پہنچاؤ۔ (بخاری ومسلم) تشریح ابن جمیل پہلے منافق تھے پھر بعد میں مسلمان ہو گئے یہ بہت زیادہ تنگ دست و محتاج تھے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ میرے لیے ثروت و دولت کی دعا فرمائیں میں خدا کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کروں گا چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور یہ صاحب ثروت ہو گئے لہٰذا ان کا فرض تھا کہ جب خدا تعالیٰ نے ان کی تنگدستی و محتاجی کو مال و دولت میں تبدیل کر دیا تو خدا کا شکر ادا کرتے مگر انہوں نے کفران نعمت کیا یہاں تک کہ زکوۃ کی ادائیگی سے بھی انکار کیا اسی لیے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں بطور زجر و تنبیہ مذکورہ کلمات کا ارشاد فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشاد گرامی ، اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے اسے دولت مند بنا دیا ہے، میں ابن جمیل کو دولت مند بنانے کی نسبت اپنی طرف اس اعتبار سے کی کہ آپ نے اس مقصد کے لیے بارگاہ الوہیت میں دعا فرمائی تھی اور آپ ہی کی دعا کی وجہ سے ابن جمیل دولت مند بنے۔ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرامی قدر چچا تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی زکوۃ کو اپنے ذمہ اس لیے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دو سالوں کی ایک ہی مرتبہ پہلے ہی سے وصول کر لی تھی یعنی ان کی طرف سے سال رواں کی زکوۃ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ چکی تھی کہ جس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور آئندہ سال کی زکوۃ بھی لے لی تھی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشاد گرامی و مثلہا معہا کے ذریعہ واضح بھی فرمایا۔

-

Permalink