TrueHadith

ابوسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

Musnad Ahmad — Hadith 22637

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ كَافِرٌ فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ مِنْهُمَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِهِ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدین ان کے متعلق اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے والدین میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ ! اسے ہدایت عطا فرما اور مسلمان کی طرف متوجہ ہو کر میرے متعلق فیصلہ اس کے حق میں کر دیا۔

-

Permalink

Musnad Ahmad — Hadith 22638

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ أَبُو عَمْرٍو الْبَتِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُسْلِمْ جَدَّتُهُ وَلَهُ مِنْهَا ابْنٌ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَا الْغُلَامَ قَالَ وَأَجْلَسَ الْأَبَ فِي نَاحِيَةٍ وَالْأُمَّ نَاحِيَةً فَخَيَّرَهُ فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِهِ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَبِيهِ

عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔

-

Permalink

Musnad Ahmad — Hadith 22639

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْعُدْ نَاحِيَةً وَقَالَ لَهَا اقْعُدِي نَاحِيَةً فَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ ادْعُوَاهَا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِهَا فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا

عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔

-

Permalink

Musnad Ahmad — Hadith 22640

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے درندوں کی طرح اپنے بازو سجدے میں بچھانے سے اور نماز کے لئے ایک ہی جگہ متعین کر لینے سے منع فرمایا ہے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کر لیتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad Ahmad — Hadith 22641

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَجَاءَ بِابْنٍ لَهُ صَغِيرٍ لَمْ يَبْلُغْ قَالَ فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَاهُنَا وَالْأُمَّ هَاهُنَا ثُمَّ خَيَّرَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِهِ فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ

عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔

-

Permalink