TrueHadith

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیثیں

Musnad AhmadHadith 19719

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ مِنْ صَالِحِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَرُّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَظُنُّهُ قَالَ إِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ يَزِيدُ فَقَالَ اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ أَوْ فِيهِمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتْ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں انتہائی نیک صحابی تھے ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بدترین نگہبان ظالم بادشاہ ہوتا ہے تم ان میں سے ہونے سے بچو ابن زیاد نے (گستاخی سے) کہا بیٹھو تم تو محمد کے ساتھیوں کا بچاہوا تلچھٹ ہو حضرت عائذ نے فرمایا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں بھی تلچھٹ ہوسکتی ہے؟ یہ تو بعد والوں میں اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں میں ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19720

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو يَنْهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ فَقُلْتُ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ

ابوشمر ضبعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائذ بن عمرو کو دباء اور حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا تو پوچھا کہ کیا وہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں!

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19721

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ شَيْخٍ فِي مَجْلِسِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ أَوْ فِي جَفْنَةٍ فَنَصَحَنَا بِهِ قَالَ وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نُرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ پانی کی قلت واضح ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالے یا ٹب میں وضو کیا اور ہم نے اس کے چھینٹے اپنے اوپر مارے اور ہماری نظروں میں وہ شخص بہت خوش نصیب تھا جسے وہ پانی مل گیا اور ہمارا خیال ہے کہ سب ہی کو وہ پانی مل گیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19722

حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ وَحَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَعْنَى عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ سَلْمَانَ وَصُهَيْبًا وبِلَالًا كَانُوا قُعُودًا فِي أُنَاسٍ فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالُوا مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا بَعْدُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهَا قَالَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ فَلَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَيْ إِخْوَتَنَا لَعَلَّكُمْ غَضِبْتُمْ فَقَالُوا لَا يَا أَبَا بَكْرٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان صہیب اور بلال کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوسفیان بن حرب کا وہاں سے گزر ہوا یہ حضرات کہنے لگے کہ اللہ تلواروں نے اللہ کی دشمنوں کی گردنیں اس طرح بعد میں نہیں پکڑی ہوں گی حضرت صدیق اکبر نے یہ سن کر فرمایا کہ تم یہ بات قریش کے شیخ اور سردار سے کہہ رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو فرمایا اے ابوبکر کہیں تم نے ان لوگوں کو ناراض تو نہیں کردیا اس لئے کہ اگر وہ ناراض ہو گئے تو اللہ ناراض ہوجائے گا یہ سن کر حضرت ابوبکر ان لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا بھائیو شاید تم ناراض ہوگئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں اے ابوبکر! اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19723

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْولُ شَيْخٌ لَهُ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ صُهَيْبًا وَسَلْمَانَ وَبِلَالًا كَانُوا قُعُودًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ خَلِيفَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْغُبَرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمَسْأَلَةِ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے جس شخص کو اس رزق میں سے کچھ حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں کشادگی کرے اور اگر اس کو اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان صہیب اور بلال کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔ حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے پھر انہوں نے حدیث مسئلہ ذکر کی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19724

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا شِمْرٍ الضُّبَعِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ نَعَمْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء 'حنتم' مزفت اور نقیر سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19725

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ خَلِيفَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْغُبَرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَلَحَّ عَلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْحُجْرَةِ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ فِي الْمَسْأَلَةِ مَا سَأَلَ رَجُلٌ رَجُلًا وَهُوَ يَجِدُ لَيْلَةً تُبِيتُهُ فَأَمَرَ لَهُ بِطَعَامٍ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور بڑی منت سماجت سے سوال کرنے لگا وہ کہہ رہا تھا یارسول اللہ مجھے کچھ کھلا دیجئے یارسول اللہ مجھے کچھ دے دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھر میں چلے گئے اور اپنے حجرے کے دونوں کواڑ پکڑ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تمہیں وہ بات معلوم ہوتی جو سوال کرنے سے مجھے معلوم ہے تو کوئی آدمی اپنے پاس ایک رات گزارنے کے بقدر سامان ہونے کی صورت میں کسی دوسرے سے سوال نہ کرتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19726

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا ثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ شَيْخٌ لَهُ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ وَقَالَ يُونُسُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس شخص کو اس رزق میں سے کچھ حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں کشادگی کرے اور اگر اس کو اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19727

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ قَالَ قَالَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس شخص کو اس رزق میں سے کچھ حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں کشادگی کرے اور اگر اس کو اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19728

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ أُرَاهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے جس شخص کو اس کے رزق میں سے بن مانگے کچھ حاصل ہو اسے چاہیے کہ اسے قبول کرلے۔

-

Permalink