TrueHadith

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 22400

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22401

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ كُنَّا فِي الْبَحْرِ وَعَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَمَرَّ بِصَاحِبِ الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبْيَ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبْكِي فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا فَرَّقُوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ وَلَدِهَا قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا فَانْطَلَقَ صَاحِبُ الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابوعبدالرحمن حبلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کر دیا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22402

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ وَسَيَضْرِبُونَ عَلَيْكُمْ بُعُوثًا يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ يَقُولُ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا وَكَذَا أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ هُو ابْنُ بَرِّيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہو جائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کےساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چنانچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں ؟ یاد رکھو! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22403

حَدَّثَنَا الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوِمَ الزَّحْفِ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22404

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نماز ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوتے ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22405

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ كُلُوا وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْذ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پیاز تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے تم کھالو اور خود کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22406

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَاشِرٍ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُخَبِّئُ ذَلِكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبِّرُ فَقَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو رُهْمٍ يَا أَبَا أَيُّوبَ وَمَا تَظُنُّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بِأَفْوَاهِهِمْ فَقَالُوا وَمَا أَنْتَ وَخَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ دَعُوا الرَّجُلَ عَنْكُمْ أُخْبِرْكُمْ عَنْ خَبِيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَظُنُّ بَلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ إِنَّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ مُصَدِّقًا لِسَانَهُ قَلْبُهُ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے رب نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا ہے یا تو ستر ہزار آدمی جنت میں بلا حساب کتاب مکمل معافی کے ساتھی داخل ہو جائیں یا میں اپنی امت کے متعلق اپنا حق محفوظ کر لوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ کے یہاں کسی بات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندرچلے گئے تھوڑی دیربعد" اللہ اکبر " کہتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے یہاں میرا حق بھی محفوظ ہے۔ راوی حدیث ابورہم نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوایوب آپ کے خیال میں نبی علیہ السلام کا وہ محفوظ حق کیا ہے ؟ یہ سن کر لوگوں نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محفوظ حق سے کیا غرض ہے ؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے چھوڑ دو میں تمہیں اپنے اندازے بلکہ یقین کے مطابق بتاتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محفوظ حق یہ ہے کہ پروردگار! جو شخص بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو تو اسے جنت میں داخلہ عطا فرما۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22407

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَأَلَهُ مَا الْكَبَائِرُ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22408

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَعَهُمْ أَبُو أَيُّوبَ فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَوْمًا فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَرْسَلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطَّلَعَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ قَالَ رَأَيْتُ فِيهَا بَصَلًا قَالَ وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ قَالَ بَلَى فَكُلُوهُ وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ وَقَالَ حَيْوَةُ إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے علیہم السلام )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22409

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22410

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22411

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے اور قاسم جب کوئی چیز تقسیم کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22412

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبَذُ فِيهِ فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ إِنْسَانًا فَقَالَ يَا أَبَا أَيُّوبَ الْقَرْعُ يُنْتَبَذُ فِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبَذُ فِيهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ فَرَدَّ أَبَا أَيُّوبَ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ

ابواسحق کہتے ہیں کہ ایک دن لوگ اس بات کامذاکرہ کرنے لگے کہ کن برتنوں میں نبیذ بنائی جاسکتی ہے دوران گفتگو کدو کے برتن میں نبیذ سے متعلق اختلاف رائے ہوگیا اتفاقاً وہاں سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا تو انہوں نے ایک آدمی بھیج کر اس کے متعلق دریافت کیا کہ اے ابوایوب ! کدو کے برتن میں نبیذ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اس برتن میں نبیذ پینے یا بنانے سے منع فرمایا ہے جسے لک لگی ہوئی ہو سائل نے کدو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22413

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ يَحْصَبَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِهِ فِي الْبَيْعِ فَرَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص والد اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کےدن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22414

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ وَهُوَ بِمِصْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَابِيسِ يَعْنِي الْكُنُفَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوْ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ بخدا مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22415

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي لَيْثٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي صِرْمَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو اب تک میں نے تم سے چھپا رکھی تھی اور وہ یہ کہ اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ انہیں بخشے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22416

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ أَبِي الْوَرْدِ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ فَقَالَ لِي يَا أَبَا أَيُّوبَ أَلَا أُعَلِّمُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَإِلَّا كُنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ مُحَرَّرِينَ وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنْ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ آللَّهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22417

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلُوِّ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلَ فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّفْلُ أَرْفَقُ بِي فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا فَتَحَوَّلَ أَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَّبِعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرِ أَصَابِعِهِ فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَمْ يَأْكُلْ فَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْرَهُهُ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں فروکش ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کی منزل میں رہتے اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کی منزل میں ایک مرتبہ رات کے وقت انہیں خیال آیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر ہو کر چلتے ہیں چنانچہ وہ ساری رات انہوں نے ایک کونے میں گذار دی صبح ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نچلی منزل زیادہ موافق ہے وہ کہنے لگے کہ میں تو اس چھت پر نہیں چڑھوں گا جس کے نیچے آپ ہوں اس طرح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی الہ علیہ وسلم آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے علیہم السلام )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22418

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعِيشَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رِقَابٍ وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنْ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22419

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ أَخِي أَنَسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ قَالَ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ بِكَرَابِيسِ مِصْرَ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ وَنَسْتَدْبِرَهُمَا و قَالَ هَمَّامٌ يَعْنِي الْغَائِطَ وَالْبَوْلَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ بخدا مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22420

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک پودا لگاتا ہے تو اس سے جتنا پھل نکلتا ہے اللہ اس شخص کےلئے اتنا ہی اجر لکھ دیتا ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22421

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَادِرُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ قَبْلَ طُلُوعِ النَّجْمِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نماز مغرب ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22422

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَاشِدٍ الْيَافِعِيِّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَّبَ طَعَامًا فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ قُلْنَا كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22423

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ وَلْيَنْطَلِقُوا بِي فَلْيَبْعُدُوا بِي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبُو أَيُّوبَ فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ وَانْطَلَقُوا بِجِنَازَتِهِ

اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مر جاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتا دینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22424

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَض

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہو جائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22425

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فِيهَا ثُومٌ فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22426

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ نَالَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَنَالَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِسَائِرِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَفِيهِ أَثَرُ يَدِهِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ الثُّومُ فَلَمْ يَطْعَمْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ فَقَالَ ادْنُوهُ مِنِّي فَإِنِّي أَحْتَاجُ إِلَيْهِ فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ كَفَّ يَدَهُ مِنْهُ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ آكُلُ مِنْهُ قَالَ فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَكُلْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے علیہم السلام )

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22427

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ وَاصِلٍ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ و عَنْ عَطَاءٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ قِيلَ وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ قَالَ فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خلال کرنے والے لوگ کیا خوب ہیں ؟ کسی نے پوچھا کہ خلال کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اور کھانے کے دوران خلال کرنے والے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22428

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ يَذْكُرُ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کر لے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22429

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ مَرَّةً امْتَرَى فِي الْمُحْرِمِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ قَالَ فَأَرْسَلُوا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ فَقَالَ هَكَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا وَصَفَهُ سُفْيَانُ

حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22430

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار پر کیا جائے جو اس سے پہلو تہی کرتا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22431

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وجوب غسل خروج منی پر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22432

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنِ الْقَرْثَعِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَدْمَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدْمَنْتَهَا قَالَ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ قَالَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ قَالَ لَا

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کر لی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ ان چاروں رکعتوں میں قرات فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں نے پوچھا کہ کیا ان میں دو رکعتوں پر سلام بھی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22433

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22434

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ فَقَالَ شُغِلْنَا قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ يَشْتَبِكَ النُّجُومُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

مرثد بن عبداللہ یزنی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی ؟ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22435

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلْيُشَرِّقْ وَلْيُغَرِّبْ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَلَمَّا أَتَيْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَقَاعِدَ تَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ فَجَعَلْنَا نَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہو جائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22436

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَأُتِيَ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثُومٌ فَبَعَثَ بِهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُ رِيحَهُ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22437

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنْ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22438

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22439

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَاكُ مِنْ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ وَلَا يَأْمُرُ بِشَيْءٍ وَيُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ تَمَضْمَضَ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ مِنْ تَحْتِهَا بِالْمَاءِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو تین مرتبہ مسواک فرماتے تھے جب رات کو نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے تھے کسی سے بات کرتے اور نہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں پر سلام پھیر دیتے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو کلی کرتے اور اپنی ڈاڑھی مبارک کو نیچے سے پانی کے ساتھ دھوتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22440

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ أَبِي وَاصِلٍ قَالَ لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ فَصَافَحَنِي فَرَأَى فِي أَظْفَارِي طُولًا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَهُوَ يَدَعُ أَظْفَارَهُ كَأَظَافِيرِ الطَّيْرِ يَجْتَمِعُ فِيهَا الْجَنَابَةُ وَالْخَبَثُ وَالتَّفَثُ وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ مَرَّةً الْأَنْصَارِيَّ قَالَ غَيْرُهُ أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي سَبَقَهُ لِسَانُهُ يَعْنِي وَكِيعٌ فَقَالَ لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَإِنَّمَا فَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ

ابو واصل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا تو میرے ناخن بڑھے ہوئے نظر آئے انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص آسمانی خبریں پوچھتا ہے جب کہ اپنے ناخنوں کو اس طرح چھوڑ دیتا ہے جیسے پرندوں کے ناخن ہوتے ہیں کہ ان میں جنابت ، گندگی اور میل کچیل جمع ہوتا رہے۔ بعض محدثین کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نہیں ہے بلکہ ابو ایوب عتکی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22441

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَجُهَيْنَةَ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم ،غفار، مزینہ اشجع ، جہینہ اور بنی کعب کے لوگ تمام لوگوں کو چھوڑ کر صرف میرے مولی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ان کے مولی ہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22442

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَوْ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں سورت اعراف کی تلاوت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22443

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتِرْ بِخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ رکعتوں پر وتر بنایا کرو اگر یہ نہ کر سکو تو تین رکعتوں پر اگر یہ بھی نہ کر سکو تو ایک رکعت پر وتر بنا لیا کرو اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو اشارہ ہی کرلیا کرو ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22444

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُنَّ لَهُ كَعَدْلِ عِتْقِ عَشْرِ رِقَابٍ أَوْ رَقَبَةٍ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر'' تو یہ ایک یا دس غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22445

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ امْرَأَةٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22446

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَسَأَلْتُهُ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ

حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22447

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22448

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ الْقَوْمُ مَا لَهُ مَا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَبٌ مَا لَهُ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا قَالَ كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22449

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22450

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ قَالَ وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی امت کو تلقین کیجئے کہ وہ کثرت سے جنت کے پودے لگائیں کیونکہ جنت کی مٹی عمدہ اور زمین کشادہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جنت کے پودوں سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22451

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ وَحَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِجَمْعٍ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22452

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُعْجِبُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ فِي لَيْلَةٍ فَقَدْ قَرَأَ لَيْلَتَئِذٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھ سکے سورت اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے اس لئے جو شخص رات کے وقت تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22453

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22454

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ وَرْقَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطرکے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22455

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ قَالَ حَجَّاجٌ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے الحمدللہ علی کل حال کہنا چاہئے جواب دینے والے کو "یرحمک اللہ" کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو "یہدیک اللہ ویصلح بالک" کہنا چاہئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22456

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ كَرِيزٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ أَبِي أيُوبِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ وَجَدَ رَجُلٌ فِي ثَوْبِهِ قَمْلَةً فَأَخَذَهَا لِيَطْرَحَهَا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ ارْدُدْهَا فِي ثَوْبِكَ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں دیکھی اس نے اسے پکڑ کر مسجد میں ہی پھینکنا چاہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ایسا مت کرو اسے اپنے کپڑوں میں ہی رہنے دو تاآنکہ مسجد سے نکل جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22457

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِكُمْ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22458

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظِبْيَانَ وَيَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ غَزَا أَبُو أَيُّوبَ الرُّومَ فَمَرِضَ فَلَمَّا حُضِرَ قَالَ أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي فَإِذَا صَافَعْتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ

ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتا دینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22459

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22460

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالْمُزْدَلِفَةِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22461

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبَةِ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا قَالَ كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ قَالُوا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ قَالَ رِيَاحٌ فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَنَشٌ عَنْ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبَةِ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ریاح بن حارث کہتے ہیں کہ ایک گروہ " رحبہ " میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا " السلام علیک یا مولانا " حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارا آقا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے مقام پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں جب وہ لوگ چلے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کچھ انصاری لوگ ہیں جن میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22462

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُصَلِّي صَلَاةً تُدِيمُهَا فَقَالَ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي إِلَى السَّمَاءِ خَيْرٌ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22463

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22464

حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ مَعِي مَعِي وَكَذَا قَالَ أَبِي قَالَ مَعْمَرٌ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ وَقَالَ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22465

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَحَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ فَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وہو علی کل شی قدیر " تو اللہ تعالیٰ ہر مرتبہ کے عوض اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا دس درجات بلند کر دے گا اور یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور وہ دن کے آغاز سے اختتام تک اس کا ہتھیار ہو جائیں گے اور اس دن کوئی شخص ایسا عمل نہیں کر سکے جو اس پر غالب آجائے اور اگر شام کے وقت کہہ لے تب بھی اسی طرح ہوگا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22466

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَعِي مَعِي

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22467

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي بَيْتِنَا الْأَسْفَلِ وَكُنْتُ فِي الْغُرْفَةِ فَأُهْرِيقَ مَاءٌ فِي الْغُرْفَةِ فَقُمْتُ أَنَا وَأُمُّ أَيُّوبَ بِقَطِيفَةٍ لَنَا نَتْبَعُ الْمَاءَ شَفَقَةَ يَخْلُصُ الْمَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُشْفِقٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ نَكُونَ فَوْقَكَ انْتَقِلْ إِلَى الْغُرْفَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَتَاعِهِ فَنُقِلَ وَمَتَاعُهُ قَلِيلٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ تُرْسِلُ إِلَيَّ بِالطَّعَامِ فَأَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِكَ وَضَعْتُ يَدِي فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ هَذَا الطَّعَامُ الَّذِي أَرْسَلْتَ بِهِ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ فِيهِ فَلَمْ أَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابِعِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنَّ فِيهِ بَصَلًا فَكَرِهْتُ أَنْ آكُلَهُ مِنْ أَجْلِ الْمَلَكِ الَّذِي يَأْتِينِي وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكُلُوهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِأَبِي إِنَّ رَجُلًا قَالَ مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ يُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيَهَا فِي بَيْتِهِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ مِنْ صَلَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ قَالَ مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر کی نچلی منزل میں فروکش ہوئے اور میں بالا خانے میں رہتا تھا ایک دن میرے کمرے میں پانی گر گیا، تو میں اور ام ایوب ایک چادر لے کرپانی خشک کرنے لگے تاکہ وہ چھت سے ٹپک کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ گرنے لگے پھر میں ڈرتا ڈرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات مناسب نہیں ہے کہ ہم آپ کے اوپر رہیں آپ اوپر منتقل ہوجائیے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر آپ کا سامان " جو یوں بھی بہت تھوڑا تھا " اوپر منتقل کر دیا گیا ۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے پہلے جو کھانا بھجواتے تھے میں اسے دیکھتا تھا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشانات محسوس ہوتے میں اپنا ہاتھ وہیں رکھتا تھا لیکن آج جو کھانا آپ نے مجھے بھجوایا ہے اس میں دیکھنے کے بعد بھی مجھے آپ کی انگلیوں کے نشانات نظر نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات صحیح ہے در اصل اس میں پیاز تھاجسے کھانا مجھے پسند نہیں ہے جس کی وجہ وہ فرشتہ ہے جو میرے پاس آتا ہے البتہ تم اسے کھاسکتے ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22468

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعَ إِنْ بَدَا لَهُ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى و قَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ السُّلَمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَزَادَ فِيهِ ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ

حضرت ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ایک کہتا ہے جو شخص مغرب کے بعد مسجد ہی میں دو رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الا یہ کہ وہ گھر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے انہوں نے پوچھا کہ یہ کون کہتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ محمد بن عبدالرحمن انہوں نے فرمایا خوب کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22469

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے خوشبو یا تیل لگائے پھر جمعہ کے لئے آئے مسجد پہنچ کر وقت ہو تو نماز پڑھے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی کو تکلیف نہ دے جب امام نکل آئے تو خاموش رہے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22470

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22471

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ فَنَزَعَ خُفَّيْهِ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا وَلَكِنْ حُبِّبَ إِلَيَّ الْوُضُوءُ

علی بن مدرک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو وضو کے دوران موزے اتارتے ہوئے دیکھا لوگ بھی انہیں تعجب سے دیکھنے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے البتہ مجھے پاؤں دھونا زیادہ اچھا لگتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22472

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ وَكَانَ مَرْضِيًّا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل خروج منی پر ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22473

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يَرْوِيهِ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کےلئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کر لے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22474

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہو جائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22475

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَثَنا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ عَيَّاشٍ وَقَالَ رَوْحٌ مَوْلَى عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بِالْأَبْوَاءِ فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلَى فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ وَيَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ مُحْرِمًا قَالَ فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ قَدْ سُتِرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ لَهُ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بَدَا لِي وَجْهُهُ وَرَأَيْتُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ قَالَ فَأَشَارَ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا قَالَ الْحَجَّاجُ وَرَوْحٌ فَلَمَّا انْتَسَبْتُ لَهُ وَسَأَلْتُهُ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ

عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ابواء میں حضرت ابن عباس اور مسور رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ہم لوگ باتیں کر رہے تھے کہ محرم کے سرد ھونے کا ذ کر آگیا حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت کی نفی کی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت دی پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا بھتیجا عبداللہ بن عباس آپ کو سلام کہتا ہے اور آپ سے پوچھ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟ عبداللہ بن حنین وہاں پہنچے تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو ایک کنوئیں کے دو کناروں کے درمیان ایک کپڑے کا پردہ لٹکا کر غسل کرتے ہوئے پایا جب میں نے ان سے اس کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے اپنے سینے پر کپڑا لپیٹا اور اپنا چہرہ باہر نکالا میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کے سر پر پانی بہار ہا ہے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پورے سر کی طرف اشارہ کیا اور آگے پیچھے ہاتھوں کو پھیرا یہ معلوم ہونے پر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آئندہ میں کبھی آپ سے اختلاف نہیں کروں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22476

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22477

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَبَادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مغرب افطاری کے وقت اور ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22478

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مَكْحُولٍ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ التَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ وَالسِّوَاكُ وَالْحَيَاءُ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں تمام پیغمبروں کی سنت ہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک اور مہندی لگانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22479

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ قَالَ شُغِلْنَا قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ

مرثد بن عبداللہ یزنی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے بعد حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی ؟

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22480

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِلَّربِيعِ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى مِمَّنْ سَمِعْتَهُ قَالَ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر'' تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22481

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَصَالِحٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کےلئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھرمنہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22482

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنْ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ

داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان چلا آرہا تھا اس نے ایک قبر پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر) ایک آدمی کو اپنا چہرہ رکھے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا کر رہے ہو؟ وہ آدمی اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دین پر اس وقت آنسو نہ بہانا جب اس کے اہل اس کے ذمے دار ہوں البتہ جب اس پر نا اہل لوگ ذمہ دار ہوں تو اس پر آنسو بہانا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22483

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کے نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22484

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ الَّذِي يُشَمِّتُهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ قَالَ وَقَدْ رَأَيْتُ أَخَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ أَوْ قَالَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے "الحمدللہ علی کل حال" کہنا چاہئے جواب دینے والے کو "یرحمک اللہ" کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو "یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22485

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے اس لئے اگر میرے پاس مرغی بھی ہو تو میں اسے باندھ کر نشانہ نہیں بناؤں گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22486

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مِنْ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ

ابن تعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو دشمن کے چار جنگلی گدھے پکڑ کر لائے گئے انہوں نے حکم دیا اور ان چاروں کو باندھ کر تیروں سے قتل کر دیا گیا، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22487

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ تِعْلَى حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22488

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ فَكَانَتْ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ فَشَكَاهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ أَخَذْتُهَا فَقَالَتْ لِي إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلْتُهَا فَقَالَ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا أَعُودُ وَيَجِيءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ فَيَقُولُ أَخَذْتُهَا فَيَقُولُ لَا أَعُودُ فَيَقُولُ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْءٌ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ يَعْنِي حَدِيثَ الْغُولِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے خیمے میں ہوتے تھے ایک جن عورت آتی اور انہیں پکڑ لیتی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جب تم اسے دیکھو تو یوں کہنا " بسم اللہ اجیبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ اگلی مرتبہ جب وہ آئی تو انہوں نے اسے یہی کہا اور اسے پکڑ لیا اس نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ آپ کے پاس نہیں آؤں گی انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے پکڑ لیا تھا لیکن اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ نہیں آئے گی اس لئے میں نے اسے چھوڑ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر آئے گی ، چنانچہ میں نے اسے دو تین مرتبہ پکڑا اور وہ ہر مرتبہ یہی کہتی تھی کہ آئندہ نہیں آؤں گی بالآخر ایک مرتبہ اس نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایک چیز سکھاتی ہوں تم اسے کہہ لیا کرو کوئی چیز تمہارے قریب نہیں آسکے گی اور وہ آیت الکرسی ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بتائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 22489

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ غَزَا أَبُو أَيُّوبَ مَعَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَدْخِلُونِي أَرْضَ الْعَدُوِّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ حَيْثُ تَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ قَالَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ

ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مر جاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتا دینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔

-

Permalink