TrueHadith

حضرت ابومویھبہ کی حدیث۔

Musnad AhmadHadith 15424

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الثَّانِيَةِ قَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكَتْ الدَّابَّةُ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى فَلْيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي أُعْطِيتُ أَوْ قَالَ خُيِّرْتُ مَفَاتِيحَ مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي وَالْجَنَّةَ أَوْ لِقَاءَ رَبِّي فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي قَالَ لَأَنْ تُرَدَّ عَلَى عَقِبِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَاخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَبِثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّةً تُرَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا

حضرت ابومویھبہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا کہ اہل بقیع کے لیے دعاکریں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں ان کے لیے تین مرتبہ دعاکی دوسری رات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابومویھبہ میرے لیے سواری پر زین کس دو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور میں پیدل چلا یہاں تک کہ ہم جنت البقیع پہنچ گئے وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترگئے میں نے سواری کی رسی تھام لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبروں پر جا کر کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ لوگوں کے حالات سے نکل کرتم جن نعمتوں میں ہو وہ تمہیں مبارک ہوں رات کے مختلف سیاہ حصوں کی طرح فتنے اتر رہے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے جارہے ہیں اور ہر بعد والا پہلے والے سے زیادہ سخت ہے اس لیے تم جن نعمتوں میں ہو اس پر تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور فرمایا مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے میرے بعد میری امت جوفتوحات حاصل کرے گی مجھے ان کی چابیاں اور جنت دیدی جائے یا اپنے رب سے ملاقات کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں بھی اپنی ترجیح کے بارے بتائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد امت وہی کرے گی جو اللہ کو منظور ہوگا اس لیے میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لی ہے چنانچہ اس واقعے کی سات یا آٹھ دن بعد ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15425

قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعَبْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ فَانْطَلِقْ مَعِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمْ اللَّهُ مِنْهُ أَقْبَلَتْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ أَوَّلُهَا آخِرَهَا الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنْ الْأُولَى قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حِينَ أَصْبَحَ

حضرت ابومویھبہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا کہ اہل بقیع کے لیے دعاکریں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں ان کے لیے تین مرتبہ دعاکی دوسری رات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابومویھبہ میرے لیے سواری پر زین کس دو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور میں پیدل چلا یہاں تک کہ ہم جنت البقیع پہنچ گئے وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترگئے میں نے سواری کی رسی تھام لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبروں پر جا کر کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ لوگوں کے حالات سے نکل کرتم جن نعمتوں میں ہو وہ تمہیں مبارک ہوں رات کے مختلف سیاہ حصوں کی طرح فتنے اتر رہے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے جارہے ہیں اور ہر بعد والا پہلے والے سے زیادہ سخت ہے اس لیے تم جن نعمتوں میں ہو اس پر تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور فرمایا مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے میرے بعد میری امت جوفتوحات حاصل کرے گی مجھے ان کی چابیاں اور جنت دیدی جائے یا اپنے رب سے ملاقات کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں بھی اپنی ترجیح کے بارے بتائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد امت وہی کرے گی جو اللہ کو منظور ہوگا اس لیے میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لی ہے چنانچہ اس واقعے کی سات یا آٹھ دن بعد ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15426

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنْ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهَا أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت راشد بن حبیش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لیے ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں لوگ خاموش رہے حضرت عبادہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سہارادے کر بٹھادو لوگوں نے بٹھادیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ جو شخص صابر اور اس پر ثواب کی نیت رکھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا بھی شہادت ہے طاعون میں مرجانا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہوجانا بھی اور پیٹ کی بیماری میں بھی مرناشہادت ہے اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کا اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا ابوعوام نامی راوی نے اس میں بیت المقدس کے کنجی برادر جل کرمرنے والے اور سیلاب میں مرنے والوں کو بھی شامل کیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink