TrueHadith

حضرت ام عطیہ انصاری " جن کا نام نسیبہ''ــ تھا کی حد یثیں

Musnad AhmadHadith 26034

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدَّثَتْنَاهُ حَفْصَةُ قَالَتْ فَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ

حضرت ام عطیہ سے مروی کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کو غسل دے رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ (طاق عدد میں ) غسل دو ، اگر منا سب سمجھو تو پانی میں بیری کے پتے ملا لو، اور سب سے آخر میں اس پر کا فور لگا دینا اور جب ان چیزوں سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا ، چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک تہبند ہماری طرف پھینک کر فرمایا اس کے جسم پر سے سب سے پہلے لپیٹو۔راوی حدیث محمد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہم سے حفصہ بنت سیرین نے بھی بیان کی ہے ، البتہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم نے ان کے سر کے بال تین حصوں میں بانٹ دئیے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26035

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَى قَوْلِهِ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَتْ كَانَ فِيهِ النِّيَاحَةُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا آلَ فُلَانٍ

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مشتنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہذ ا میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں ، سو نبی نے انہیں متشنیٰ کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26036

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا بِسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب نبی کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا تو نبی ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ (طاق عدد میں ) غسل دو ، اور سب سے آخر میں اس پر کا فور لگا دینا اور جب ان چیزوں سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا ، چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک تہبند ہماری طرف پھینک کر فرمایا اس کے جسم پر سے سب سے پہلے لپیٹو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26037

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أُدَاوِي الْمَرْضَى وَأَقُومُ عَلَى جِرَاحَاتِهِمْ فَأَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ أَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ

حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی کے ہمراہ سات غزوات میں حصہ لیا ہے، میں خیموں میں رہ کر مجاہدین کے لئے کھانا تیار کرتی تھی، مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26038

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنْ الصَّدَقَةِ فَبَعَثْتُ إِلَى عَائِشَةَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ قَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ لَا إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنْ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُمْ بِهَا إِلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے صدقہ کی بکری میں سے کچھ گوشت میرے یہاں بھیج دیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا حضرت عائشہ کے یہاں بھیج دیا، جب نبی حضرت عائشہ کے یہاں تشریف لائے تو ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجاہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی ، نبی نے فرمایا وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26039

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ نبی نے اپنی صاحبزادی کے غسل کے موقع پر ان سے فرمایا تھا کی دائیں جانب سے اور اعضاء وضو کی طرف سے غسل کی ابتداء کرنا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26040

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ نُهِيَ عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا ہے، لیکن اس ممانعت میں ہم پر سختی نہیں کی گئی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26041

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا الْمَرْأَةُ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا لَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَطَّيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرَتِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی میت پر چار مہینے دس دن سوگ منائے ، اور عصب کے علاوہ کسی رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے سرمہ نہ لگائے اور خوشبو نہ لگائے الایہ کہ پاکی کے ایام آئیں تو لگائے، یعنی جب وہ اپنے ایام سے پاک ہو تو تھوڑی سے قسط یا اظفار نامی خوشبو لگا لے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26042

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كَانَ تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْنَا فِي الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرَ خَمْسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى

حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ نبی نے ہم سے بیعت لیتے وقت جو شرائط لگائی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ تم نوحہ نہیں کرو گی، لیکن پانچ عورتوں کے علاوہ ہم میں سے کسی نے اس وعدے کو وفا نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26043

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَا أَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا بِسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَنَّنِي قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ وَضَفَرْنَا رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَا خَلْفَهَا قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب نبی کی صاحبزادی حضرت زینب کا انتقال ہوا تو نبی ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسے بیری کے پانی سے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ (طاق عدد میں ) غسل دو اور سب سے آخر میں اس پر کافور لگا دینا اور جب ان چیزوں سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے اپنا ایک تہبند ہماری طرف پھینک کر فرمایا اس کے جسم پر سے سب سے پہلے لپیٹو، ام عطیہ کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تیں چوٹیاں بنا لیں ، اور دونوں کناروں اور پیشانی کے بال پیچھے ڈال دئیے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26044

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا نَنُوحَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي فَقَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَبَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ وَغَيْرُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس میں نو حہ بھی شامل تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مشتنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہذ ا میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں ، سو نبی نے انہیں متشنیٰ کر دیا وہ گئیں انہیں پرسہ دیا اور واپس آ کر نبی سے بیعت کر لی وہ کہتی ہیں کہ پھر اس وعدے کو ان کے اور ام سلیم نبت ملحان کے علاوہ کسی نے وفا نہ کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26045

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وحَبِيبٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي أَفَلَا أُسْعِدُهَا فَقَبَضَتْ يَدَهَا وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَلَمْ يُبَايِعْهَا

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس میں نو حہ بھی شامل تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مشتنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہذ ا میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں اس پر نبی نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس وقت ان سے بیعت نہیں لی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26046

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَبُو يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ فَرَدَدْنَ السَّلَامَ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ فَقُلْنَ مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولِهِ فَقَالَ تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقْنَ وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ فَقُلْنَ نَعَمْ فَمَدَّ عُمَرُ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ وَمَدَدْنَ أَيْدِيَهُنَّ مِنْ دَاخِلٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَأَمَرَنَا أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعُتَّقَ وَالْحُيَّضَ وَنُهِينَا عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْبُهْتَانِ وَعَنْ قَوْلِهِ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ هِيَ النِّيَاحَةُ

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے کہ جب نبی مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین و انصار کو ایک گھر میں جمع فرمایا، پھر حضرت عمر کو ان کی طرف بھیجا وہ آ کر دروازے پر کھڑے ہوئے اور سلام کیا، خواتین نے جواب دیا حضرت عمر نے فرمایا میں تمہاری طرف نبی کا قاصد بن کر آیا ہوں ، ہم نے کہا کہ نبی اور ان کے قاصد کو خوش آمدید کہا، انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات پر بیعت کرتی ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، بدکاری نہیں کرو گی، اپنے بچوں کو جان سے نہیں مارو گی، کو ئی بہتان نہیں گھڑو گی، اور کسی نیکی کے کام میں نبی کی نافرمانی نہیں کرو گی؟ ہم نے اقرار کر لیا اور گھر کے اندر سے ہاتھ بڑھا دئیے ، حضرت عمر نے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگے اے اللہ! تو گواہ رہ۔نبی نے ہمیں یہ حکم دیا کی عیدین میں کنواری اور ایام والی عورتوں کو بھی لے کر نماز کے لئے نکلا کریں اور جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا اور یہ کہ ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے، کسی خاتون نے حضرت ام عطیہ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں ہمیں نوحہ سے منع کیا گیا ہے۔

-

Permalink