TrueHadith

حضرت اسود بن خلف کی حدیث۔

Musnad AhmadHadith 14884

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اسود سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوفتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرماتھے اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود خلف نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25790

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّهَا قَالَتْ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي إِذْ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ فَقَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ زَوْجَهَا فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ام حرام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوگئے، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوارچلے آرہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے، نبی علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ انہیں بھی ان میں شامل فرمادے۔تھوڑی ہی دیر میں نبی علیہ السلام کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی علیہ السلام مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی علیہ السلام نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کئے جانے کا تذکرہ فرمایا، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے ان میں بھی شامل کردے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم پہلے گروہ میں شامل ہو، چنانچہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ وسفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 25876

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ قَالَتْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ عَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا قَالَتْ فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَنْتِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ لَا مَرْحَبًا بِكِ وَلَا أَهْلًا أَتُهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ

حضرت ام طارق جو کہ حضرت سعد کی آزاد کردہ باندی ہیں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام حضرت سعد کے یہاں تشریف لائے اور ان سے اندرآنے کی اجازت چاہی، حضرت سعد خاموش رہے نبی علیہ السلام نے تین مرتبہ اجازت طلب کی اور وہ تینوں مرتبہ خاموش رہے تو نبی علیہ السلام واپس چل پڑے، سعد نے مجھے نبی علیہ السلام کے پیچھے بھیجا اور کہا کہ ہمیں آپ کو اجازت دینے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی البتہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ زیادہ سے زیادہ ہمیں سلامتی کی دعائیں دیں ، ام طارق مزید کہتی ہیں کہ پھر میں نے دروازے پر کسی کی آواز سنی کہ وہ اجازت طلب کررہا ہے لیکن کچھ نظر نہیں آرہا تھا نبی علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں ام ملدم (بخار) ہوں نبی علیہ السلام نے فرمایا تمہیں کوئی خوش آمدید نہیں ،کہے گا کیا تم اہل قباء کا راستہ جانتی ہو؟ اس نے کہا جی ہاں نبی علیہ السلام نے فرمایا تو پھر وہاں چلی جاؤ!

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 26110

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَهِيَ خَالَتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ فَقَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ إِنَّكِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَخْرَجَهَا مَعَهُ فَلَمَّا جَازَ الْبَحْرَ بِهَا رَكِبَتْ دَابَّةً فَصَرَعَتْهَا فَقَتَلَتْهَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ام حرام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی میرے گھر میں قیولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے میں نے عرض کیا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں ؟ نبی نے فرمایا میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے جا رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں ، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے، نبی نے فرمایا اے اللہ! انہیں بھی ان میں شامل فرمادے۔تھوڑی ہی دیر میں نبی کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کیے جانے کا تذکرہ فرمایا، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے، نبی نے فرمایا تم پہلے گروہ میں شامل ہو، چنانچہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ و سفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں حضرت ام حرام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

-

Permalink