TrueHadith

حضرت بلال بن حارث مزنی کی حدیثیں ۔

Musnad AhmadHadith 15291

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ

حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات انسان اللہ کی رضامندی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے کہ جس کے متعلق اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا مقام ومرتبہ ہے لیکن اللہ اس کی برکت سے اس کے لیے قیامت تک رضامندی کا پروانہ لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے جس کے متعلق اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کی کیا حثیت ہوگی لیکن اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے ۔ راوی حدیث علقمہ کہتے ہیں کہ کتنی ہی باتیں جنہیں کرنے سے مجھے حضرت بلال کی یہ حدیث روک دیتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15292

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً قَالَ بَلْ لَنَا خَاصَّةً

حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ حج کافسخ ہونا ہمارے لیے خاص ہے یاہمیشہ کے لیے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ خاص ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15293

حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَةَ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَقَالَ لَا بَلْ لَنَا خَاصَّةً

حضرت بلال بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ حج تمتع کا یہ طریقہ ہمارے لیے خاص ہے یاہمیشہ کے لیے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ خاص ہے۔

-

Permalink