TrueHadith

حضرت محمد بن مسلمہ کی بقیہ حدیث۔

Musnad AhmadHadith 15453

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ فَقُلْتُ تَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةً لِامْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا

سہل بن ابی حثمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت محمد بن مسلمہ کو دیکھا وہ ایک عورت کو دیکھ رہے ہیں میں نے ان سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر بھی ایک نامحرم کو دیکھتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کسی شخص کےدل میں کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجنے کا خیال پیداکریں تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 15454

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ رَحِمَكَ اللَّهُ إِنَّكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ بِمَكَانٍ فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَى النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَهَيْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا فَاضْرِبْ بِهِ عُرْضَهُ وَاكْسِرْ نَبْلَكَ وَاقْطَعْ وَتَرَكَ وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى تَقْطَعَهُ ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ يُعَافِيَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ كَانَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ ثُمَّ اسْتَنْزَلَ سَيْفًا كَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَاخْتَرَطَهُ فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّخَذْتُ هَذَا أُرْهِبُ بِهِ النَّاسَ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ فَذَكَرَهُ قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ فَاضْرِبْ بِسَيْفِكَ عُرْضَ أُحُدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گذر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے، اوراختلافات ہوں گے جب ایساہونے لگے تو تم اپنی تلوار لے کراحد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہوگیا ہے ارو میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بے نیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لیے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink