TrueHadith

حضرت سبرہ بن معبد کی مرویات۔

Musnad AhmadHadith 14796

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14797

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ تَذَاكَرْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُتْعَةَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ فَقَالَ رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَنْهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا تھا ۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14798

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ أُمِرَ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا بَلَغَ عَشْرًا ضُرِبَ عَلَيْهَا

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لڑکا سات سال کا ہوجائے تو اسے نمازکا حکم دیا جائے اور جب دس سال کا ہوجائے تو نماز نہ پڑھنے پر اسے ماراجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14799

حَدَّثَنَا زَيْدٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ لِصَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے توسترہ گاڑ لیا کرے خواہ ایک تیر ہی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14800

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14801

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةُ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ السَّهْمُ وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ بِسَهْمٍ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز میں انسان کا سترہ تیر بھی بن سکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تیر ہی کا سترہ بنالے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14802

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُتْعَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14803

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار دے دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14804

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى قَالَ فَافْعَلُوا قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ فَقَالَتْ بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا وَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم لوگ مقام غسان میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اس پر حضرت سراقہ بن مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں ان لوگوں کی طرح تعلیم دیجیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں یہ ہمارے اس عمرے کا حکم ہے یاہمیشہ کے لیے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا ہی کرلو چنانچہ میں اور میرا ساتھی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہوگی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کرلیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لیے نکاح کرلیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گذاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے تم میں جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ ایک متعین وقت کے لیے نکاح کیا ہے اسے چاہیے کہ اس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کرلے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لیے تم پر حرام قرار دیدیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14805

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ قَالَ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ قَالَ وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ قَالَ فِي أَعْلَى مَكَّةَ فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ قَالَ وَأَنَا قَرِيبٌ مِنْ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ قَالَ فَقُلْنَا لَهَا هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي فَقُلْتُ لَهَا إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدَ ابْنِ عَمِّي هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ قَالَتْ بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ قَالَ فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14806

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ يُقَالُ لَهُ السَّبْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَهُمْ بِالْمُتْعَةِ قَالَ فَخَطَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ امْرَأَةً قَالَ فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ يُحَرِّمُهَا أَشَدَّ التَّحْرِيمِ وَيَقُولُ فِيهَا أَشَدَّ الْقَوْلِ وَيَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی چنانچہ میں اور میرا ایک ساتھی نکلے اور ایک عورت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو وہ شدت سے اس کی حرمت بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ اس کی ممانعت فرما رہے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14807

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14808

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تَبْذُلَانِ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا رِدَائِي قَالَ وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ قَالَتْ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي قَالَ فَأَقَمْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ النِّسَاءِ الَّتِي تَمَتَّعَ بِهِنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا قَالَ فَفَارَقْتُهَا

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کردیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14809

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 14810

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ قَالَ وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمُ التَّزْوِيجِ قَالَ فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يُضْرَبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَمَعَهُ بُرْدَةٌ وَمَعِي بُرْدَةٌ وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَقَالَتْ بُرْدٌ كَبُرْدٍ قَالَ فَتَزَوَّجْتُهَا فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا قَالَ فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم عمرہ کرکے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہمارے نزدیک اس سے مراد شادی کرنا تھا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایساہی کرلو چنانچہ میں اور میراچچا زاد نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور جسمانی طور پر میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہوگی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کرلیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لیے نکاح کرلیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گذاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی سو جس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کرلے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لیے تم پر حرام قرار دیدیا ہے۔

-

Permalink