TrueHadith

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی مرویات

Musnad AhmadHadith 19220

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ أَفْلَحَ وَلَا نَجِيحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ قَالُوا لَا

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو، اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19221

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِيٍ قُشَيْرٍ قَالَ رَوْحٌ قَالَ سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ وَكَانَ إِمَامَهُمْ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ وَهَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ أَوْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19222

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَعْبَدَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام عیدین میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتاک حدیث الغاشیۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19223

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَانِ فِي صَلَاتِهِ وَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أَنَا مَا أَحْفَظُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْهُ فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی علیہ السلام نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی علیہ السلام کے حوالے سے یہ یاد نہیں، ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ سمرہ نے بات یاد رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19224

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هِيَ الْعَصْرُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ "صلوۃ وسطی" سے کیا مردا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نماز عصر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19225

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ وَيُدَمَّى وَيُسَمَّى فِيهِ وَيُحْلَقُ قَالَ يَزِيدُ رَأْسُهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی رکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19226

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ لِأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا اس شخص کے حق میں " عمری " جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19227

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَكَّ فِيهِ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ فَقَالَ عَنْ عُقْبَةَ أَوْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کر دیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی، اور جب کسی نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19228

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ وَقَالَ ابْنُ بِشْرٍ حَتَّى تُؤَدِّيَ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے، وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19229

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ وَيَزِيدُ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُجَيْفٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ جُمُعَةً فِي غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص بلاعذر ایک جمعہ چھوڑ دے، اسے چاہیے کہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر ایک دینار نہ ملے تو نصف دینار ہی صدقہ کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19230

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19231

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَلِكَ أَفْضَلُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کر لے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کر لے تو یہ زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19232

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَكَحَ الْمَرْأَةَ الْوَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ الرَّجُلَيْنِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کر دیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی، اور جب کسی نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19233

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ قَالَ عَفَّانُ الصَّلَاةِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَسَمَّاهَا لَنَا إِنَّمَا هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ "صلوۃ وسطی" سے کیا مراد ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نماز عصر۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19234

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19235

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلْعِ تَكْسِرْهَا فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اگر تم پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے، اس لئے اس کے ساتھ اسی حال میں زندگی گزارو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيُّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا قَالَ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ قَالَ وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي انْطَلِقْ وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي عَلَيْهِ بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ يَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ قَالَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْأَوَّلُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِهِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ قَالَ فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهِيبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا قَالَ قُلْتُ مَا هَؤُلَاءِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَةَ فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا حَجَرًا قَالَ فَيَنْطَلِقُ فَيَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ وَأَلْقَمَهُ حَجَرًا قَالَ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ لَهُ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْشِبَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ قَالَ وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَنْ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنِهِ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا وَمَا هَؤُلَاءِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى دَوْحَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ قَالَ فَقَالَا لِي ارْقَ فِيهَا فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْتُ إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنٍ ذَهَبٍ وَلَبِنٍ فِضَّةٍ فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا فِيهَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ قَالَ فَقَالَا لَهُمْ اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ فَإِذَا نَهَرٌ صَغِيرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّمَا هُوَ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ قَالَ فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ فَقَالَا لِي هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالَ فَبَيْنَمَا بَصَرِي صُعُدًا فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ قَالَا لِي هَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا ذَرَانِي فَلَأَدْخُلُهُ قَالَ قَالَا لِي الْآنَ فَلَا وَأَنْتَ دَاخِلُهُ قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ قَالَ قَالَا لِي أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ وَيَنَامُ عَنْ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَةِ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذِبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي بِنَاءٍ مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ فَإِنَّهُمْ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي الرَّوْضَةِ فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطْرٌ قَبِيحًا فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ سَمِعْت مِنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ يُخْبِرُ بِهِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا قَالَ أَبِي فَجَعَلْتُ أَتَعَجَّبُ مِنْ فَصَاحَةِ عَبَّادٍ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو عرض کر دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔چنانچہ حسب دستور ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین (بیت المقدس) کی طرف لے گئے، وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا، کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اسی طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا، اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہو جاتا تھا اور وہ دوبارہ پھر اسی طرح چیرتا تھا میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو، ہم آگے چل دیئے، ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہے اور ایک اور آدمی اس کے سر پر پتھر لئے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کے سر کو کچل رہا ہے، جب اس کے سر پر پتھر مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے اور وہ آدمی پتھر لینے چلا جاتا ہے، اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آ کر اس کو مارتا ہے، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دئیے، ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے، برہنہ مرد وعورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ (تنور کے کناروں کے) قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہو جاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے، اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تھا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مار کر پیچھے ہٹا دیتا تھا اور اصلی جگہ تک پہنچا دیتا تھا، دوبارہ پھر اندر والا آدمی نکلنا چاہتا تھا اور باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر ماتا تھا اور اصلی جگہ تک پلٹا دیتا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے۔ ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا، جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، بوڑھے بھی جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھا کر لے گئے میں ایک شہر میں پہنچا جس کی تعمیر میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی استعمال کی گئی تھی، ہم نے دروازے پر پہنچ کر اسے کھٹکھٹایا، دروازہ کھلا اور ہم اندر داخل ہوئے تو ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کا آدھا حصہ تو انتہائی حسین وجمیل تھا اور آدھا دھڑ انتہائی قبیح تھا، ان دونوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جا کر اس نہر میں غوطہ لگاؤ، وہاں ایک چھوٹی سی نہر بہہ رہی تھی، جس کا پانی انتہائی سفید تھا، انہوں نے جا کر اس میں غوطہ لگایا، جب واپس آئے تو وہ قباحت ختم ہو چکی تھی اور وہ انتہائی خوبصورت ہو چکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور وہ آپ کا ٹھکانہ ہے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سفید رنگ کا ایک محل نظر آیا، میں نے ان دونوں سے کہا کہ اللہ تمہیں برکتیں دے، مجھے چھوڑ و کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں انہوں نے کہا ابھی نہیں، البتہ آپ اس میں جائیں گے ضرور، میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا کہ اچھا ہم بتاتے ہیں۔جس شخص کے تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہو جاتا تھا، قیامت تک اس پر یہ عذاب رہے گا اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا ہے اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا تھا لیکن وہ فرض نماز سے غافل ہو کر رات کو سو جاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس پر یہی عذاب رہے گا اور جن لوگوں کو تم نے گڑھے میں دیکھا تھا وہ لوگ زنا کار تھے اور جس شخص کو تم نے خون کی نہر میں دیکھا تھا وہ شخص سودخور تھا اور درخت کی جڑ کے پاس جس بوڑھے مرد کو تم نے بیٹھے دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ لڑکے لوگوں کی وہ اولادیں تھیں جو بالغ ہونے سے قبل مر گئے تھے اور جو شخص بیٹھا آگ بھڑکا رہا تھا وہ مالک داروغہ دوزخ تھا، کسی مسلمان نے پوچھا یا رسول اللہ! وہاں مشرکین کی اولاد تھی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں! اور وہ لوگ جن کا آدھا دھڑ حسین اور آدھا بدصورت تھا، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے اور برے دونوں طرح کے عمل کیے تھے، اللہ نے ان سے در گزر فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19237

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْحَجَّامَ فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا قَالَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ قَالَ هَذَا الْحَجْمُ قَالَ وَمَا الْحَجْمُ قَالَ هَذَا مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی علیہ السلام نے حجام کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آ گیا، اس نے نبی علیہ السلام کے سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آ گیا، جس کا تعلق بنوجذیمہ کے ساتھ تھا، نبی علیہ السلام کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اسے سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اسے "حجم" کہتے ہیں، اس نے پوچھا کہ "حجم" کیا چیز ہوتی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19238

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنِي سَوَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ سُوءًا وَلَا بَيَاضٌ يُرَى بِأَعْلَى السَّحَرِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے کیونکہ بلال کی آنکھیں کچھ کمزور ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19239

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنِ الْأَسْقَعِ بْنِ الْأَسْلَعِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ مِنْ الْإِزَارِ فِي النَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا، وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19240

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَامُ أَبُو الْعَرَبِ وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام اہل حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19241

قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَحَدَّثَ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ سَامُ أَبُو الْعَرَبِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام اہل حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19242

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رَجُلًا يَسْبَحُ فِي نَهَرٍ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ فَسَأَلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ لِي آكِلُ الرِّبَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا شب معراج میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھروں کا لقمہ دیا جا رہا تھا، میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ سودخور ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19243

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلا نے ارشاد فرمایا حسب سے مراد مال ودولت ہے اور کرم سے مراد تقویٰ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19244

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ وَسَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی کی ہڈی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19245

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19246

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19247

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَقُلْتُ أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَى قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ رَجُلٌ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ يَسْأَلَ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ

زید بن عقبہ فزاری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حجاج بن یوسف کے پاس گیا، اور اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ امیر کی اصلاح کرے، کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام کے حوالے سے مجھے سنائی ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں؟ زید نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے، اب جو چاہے، اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے، الا یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے، جو با اختیار ہو، یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19248

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحًا فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر وسبحان اللہ اور الحمد للہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کر لو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح ، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع مت رکھو) اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں، ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19249

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19250

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی ایسے شخص کے پاس دیکھے جسے حکومت نے مفلس قرار دے دیا ہو، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19251

وَعَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا میت کو اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19252

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي الْجُلُوسِ وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بیٹھنے میں اعتدال سے کام لیں، اور بے اطمینانی کے ساتھ نہ بیٹھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19253

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْضُرُوا الْجُمُعَةَ وَادْنُوا مِنْ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّفُ عَنْ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَخَلَّفُ عَنْ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا نماز جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19254

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَّةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِمَّتِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لے، وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری کو ہلکا مت سمجھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19255

حَدَّثَنَا رَوْحٌ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَامُ أَبُو الْعَرَبِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِهِ وَلَدُ نُوحٍ ثَلَاثَةٌ سَامُ وَحَامُ وَيَافِثُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا سام اہل عرب کا مورث اعلی ہے، حام حبش کا مورث اعلی ہے اور یافث رومیوں کا مورث اعلی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19256

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام بھیجے یا اس کی بیع پر اپنی بیع کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19257

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَكَحَ وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ وَإِذَا بَاعَ وَلِيَّانِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کر دیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی، اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19258

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ فَقَالَ سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ فَإِنَّهُ يَعِيشُ فَسَمَّوْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ فَعَاشَ وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْيِ الشَّيْطَانِ وَأَمْرِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب حضرت حواء علیہ السلام امید سے ہوئی تو ان کے پاس شیطان آیا، حضرت حواء علیہ السلام کا کوئی بچہ زندہ نہ رہتا تھا، شیطان نے ان سے کہا کہ اپنے بچے کا نام عبد الحارث رکھنا تو وہ زندہ رہے گا، چنانچہ انہوں نے اپنے بچے کا نام عبدالحارث رکھ دیا اور وہ زندہ بھی رہا، یہ شیطان کے وسوسے اور فہمائش پر ہوا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19259

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْضُرُوا الذِّكْرَ وَادْنُوا مِنْ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا نماز جمعہ میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب رہا کرو، کیونکہ انسان جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19260

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے باہر سے آنے والے تاجروں کے ساتھ ان کے منڈی پہنچنے سے پہلے ملاقات کرنے سے منع فرمایا ہے، یا یہ کو کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19261

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَاكَ أَفْضَلُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کر لے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کر لے تو یہ زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19262

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُنْكِحَتْ الْمَرْأَةُ زَوْجَيْنِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی، اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19263

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19264

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَيْدِيَكُمْ مِنْ الْعَجَمِ ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھر دے گا، پھر وہ ایسے شیر بن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے، وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کر دیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19265

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے فجر کی نمز پڑھائی تو نماز کے بعد فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے؟ ان لوگوں نے کہا جی ہاں! (ہم موجود ہیں) نبی علیہ السلام نے فرمایا تمہارا ساتھی (جو فوت ہو گیا ہے) اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کرو)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19266

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19267

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيْهِ وَقَالَ أَرْبَعٌ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ وَهُنَّ مِنْ الْقُرْآنِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ أَفْلَحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں تم سے کوئی حدیث بیان کیا کروں تو اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کیا کرو، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کر لو، کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ پھر نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19268

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ هُنَيَّةً وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ سَكَتَ هُنَيَّةً فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ أُبَيٌّ يُصَدِّقُهُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی علیہ السلام نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی علیہ السلام کے حوالے سے یہ یاد نہیں، ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا، حضرب ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ سمرہ نے بات یاد رکھی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19269

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19270

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے فرمایا "صلوۃ وسطی" سے نماز عصر مراد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19271

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ

اور نبی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص کسی زمین پر باغ لگائے تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19272

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ

اور نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے، وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کر دے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19273

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ

اور نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کر یں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا، ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19274

قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ

اور نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو، اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19275

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ذَكَرَ أَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ ذَكَرَهُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ خَالَفَ الْحَجَّاجَ فَقَدْ خَالَفَ

عاصم کہتے ہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کے بعد خود ہی نبیذ کی اجازت دی تھی منذر ابوحسان حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے یہ بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو حجاج کی مخالفت کرتا ہے وہ خلاف کرتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19276

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ قَالَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَزَلْ يَتَدَاوَلُونَهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ الظُّهْرِ يَأْكُلُ كُلُّ قَوْمٍ ثُمَّ يَقُومُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ فَيَتَعَاقَبُوهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ قَالَ أَمَّا مِنْ الْأَرْضِ فَلَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ كَانَتْ تُمَدُّ مِنْ السَّمَاءِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے ایک قوم آکر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین پر تو کوئی اس میں کچھ نہیں ڈال رہا البتہ اگر آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے تو اور بات ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19277

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَبْدًا لَهُ أَبَقَ وَإِنَّهُ نَذَرَ إِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ فَقَالَ الْحَسَنُ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَ فِيهَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَى فِيهَا عَنْ الْمُثْلَةِ

حسن کہتے ہیں ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس کا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور اس نے منت مانی ہے کہ اگر وہ اس پر قادر ہوگیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دے گا حسن نے جواب دیا کہ ہمیں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ بہت کم کسی خطبے میں ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم نہ دیا ہو اور اس میں مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19278

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19279

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَمِّيَ رَقِيقَكَ أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ أَفْلَحَ وَيَسَارًا وَنَافِعًا وَرَبَاحًا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جندب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19280

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19281

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْبَيَاضِ فَلْيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑوں کو اپنے اوپر لازم کرلو خود سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑے میں سب سے بہترین ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19282

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دوولی مختلف جگہوں پر کردیں تو ان دونوں میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19283

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بائع اور مشتری کو اس وقت تک بیع فسخ کرنے کا اختیار رہتا ہے جب وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19284

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خرید و فروخت سے منع کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19285

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ فَلَهُ السَّلَبُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میدان جنگ میں کسی مشرک کو قتل کرے گا اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19286

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي عَنْ تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ يَقُولُ الشَّيْخُ لَا يَكَادُ أَنْ يُسْلِمَ وَالشَّابُّ أَيْ يُسْلِمُ كَأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الْإِسْلَامِ مِنْ الشَّيْخِ قَالَ الشَّرْخُ الشَّبَابُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کردو اور ان کے جوانوں کو زندہ رکھو۔ امام احمد کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کی وضاحت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بوڑھا آدمی عام طور پر اسلام قبول نہیں کرتا اور جوان کرلیتا ہے گویا جوان اسلام کے زیادہ قریب ہوتا ہے بہ نسبت بوڑھے کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19287

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرِقَ مِنْ الرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ ضَاعَ لَهُ مَتَاعٌ فَوَجَدَهُ بِيَدِ رَجُلٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا کوئی سامان چوری ہوجائے یا ضائع ہوجائے یا بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری بائع سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19288

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19289

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ حَيْثُ عَرَفَهُ وَيَتَّبِعُ الْبَيْعُ بَيْعَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری بائع سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19290

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا یا تمہیں بلال اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19291

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلی اور ہل اتاک حدیث کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19292

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى وَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ أَنْتَ رَبِّي فَقَدْ فُتِنَ وَمَنْ قَالَ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى يَمُوتَ فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَتِهِ وَلَا فِتْنَةَ بَعْدَهُ عَلَيْهِ وَلَا عَذَابَ فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَجِيءُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مِلَّتِهِ فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ ثُمَّ إِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج ہونے والا ہے اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کی بیماری والوں کو تندرست کردے گا اور مردوں کو زندہ کردے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں جو شخص یہ اقرار کرلے تو میرا رب ہے وہ فتنہ میں پڑ گیا اور جس نے یہ کہا میرا رب اللہ ہے وہ آخردم تک اس پر ڈٹا رہا تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ ہوجائے گا اور اسے کسی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا اور نہ ہی اسے کوئی عذاب ہوگا اور دجال زمین میں اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا پھر مغرب کی جانب سے حضرت عیسی کا نزول ہوگا اور وہ تشریف لائیں گے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور ان کی ملت پر ہوں گے اور وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قریب آجائے گی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19293

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے حق میں عمری جائز ہوتا ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19294

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمًا مَطِيرًا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الرِّحَالِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرما دیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19295

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑوں کو اپنے اوپر لازم کرلو خود سفید کپڑے پہنا کرو اور اپنے مردوں کو ان میں ہی دفن کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر ہوتے ہیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19296

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صلوۃ الوسطی سے نماز عصر مراد ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19297

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ قَالَ لَا يَضْمَنُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ایک ہاتھ (دوسرے سے) جو چیز لیتا ہے وہ اس کے ذمے رہتی ہے یہاں تک کہ (دینے والے کو) واپس ادا کردے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19298

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ ذَا فَكَأَنِّي أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ حُبِسَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے؟ ایک آدمی نے کہا جی ہاں! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی (جو فوت ہوگیاہے) اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کرو)

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19299

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ سَوَادَةَ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ جناب رسول نے فرمایا ہے تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے صبح صادق وہ روشنی ہوتی ہے جو افق میں چوڑائی میں پھیلتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19300

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بلاعذر ایک جمعہ چھوڑ دے اسے چاہیے کہ ایک دینار صدقہ کرے اگر ایک دینار نہ ملے تو نصف دینار ہی صدقہ کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19301

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْديِّ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفٍ فَلَمْ نَسْمَعْ لَهُ صَوْتًا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو (سری قرأت فرمائی اور) ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19302

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں "سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیہ" کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19303

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی اور اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19304

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے حدیث نقل کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19305

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلی اور ھل اتاک حدیث الغاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19306

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا فَإِنْ كَانَ أَحَدٌ رَأَى تِلْكَ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَالَ فَقُلْنَا لَا قَالَ لَكِنْ أَنَا رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدَيَّ فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ فَضَاءٍ أَوْ أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ فَمَرَّا بِي عَلَى رَجُلٍ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ فَيُدْخِلُهُ فِي شِدْقِهِ فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يُخْرِجُهُ فَيُدْخِلُهُ فِي شِقِّهِ الْآخَرِ وَيَلْتَئِمُ هَذَا الشِّقُّ فَهُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَإِذَا رَجُلٌ مُسْتَلْقٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ فِهْرٌ أَوْ صَخْرَةٌ فَيَشْدَخُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَى الْحَجَرُ فَإِذَا ذَهَبَ لِيَأْخُذَهُ عَادَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ فَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا لِيَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَإِذَا بَيْتٌ مَبْنِيٌّ عَلَى بِنَاءِ التَّنُّورِ وَأَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يُوقَدُ تَحْتَهُ نَارٌ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَإِذَا أُوقِدَتْ ارْتَفَعُوا حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا لِيَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا نَهَرٌ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا دَنَا لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ حَجَرًا فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَهُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ فَإِذَا فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَإِذَا شَيْخٌ فِي أَصْلِهَا حَوْلَهُ صِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ فَهُوَ يَحْشُشُهَا وَيُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ دَارًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فَإِذَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَفِيهَا نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ فَأَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ مِنْهَا فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ فَقُلْتُ لَهُمَا إِنَّكُمَا قَدْ طَوَّفْتُمَانِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ فَقَالَا نَعَمْ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي رَأَيْتَ فَإِنَّهُ رَجُلٌ كَذَّابٌ يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ فَتُحْمَلُ عَنْهُ فِي الْآفَاقِ فَهُوَ يُصْنَعُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَصْنَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مَا شَاءَ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ مُسْتَلْقِيًا فَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ بِالنَّهَارِ فَهُوَ يُفْعَلُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَمَّا الَّذِي رَأَيْتَ فِي التَّنُّورِ فَهُمْ الزُّنَاةُ وَأَمَّا الَّذِي رَأَيْتَ فِي النَّهَرِ فَذَاكَ آكِلُ الرِّبَا وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ فَذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَمَّا الصِّبْيَانُ الَّذِي رَأَيْتَ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ يُوقِدُ النَّارَ وَيَحْشُشُهَا فَذَاكَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَتِلْكَ النَّارُ وَأَمَّا الدَّارُ الَّتِي دَخَلْتَ أَوَّلًا فَدَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا الدَّارُ الْأُخْرَى فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ ثُمَّ قَالَا لِيَ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَةِ السَّحَابِ فَقَالَا لِي وَتِلْكَ دَارُكَ فَقُلْتُ لَهُمَا دَعَانِي أَدْخُلْ دَارِي فَقَالَا لِي إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَكَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَهُ دَخَلْتَ دَارَكَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو بیان کردیتا اور آپ خدا کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔ چنانچہ حسب دستور ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ہم نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین کی طرف لے گئے وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اس طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہوجاتا تھا اور وہ دوبارہ اسی طرح چیرتا تھا۔ میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیے ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہوا ہے اور ایک آدمی اس کے سر پر پتھر لیے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا جاتا ہے جب اس کے سر پر پتھر مارا جاتا ہے تو پتھر لڑھک کر دور چلاجاتا ہے وہ آدمی پتھر لینے چلاجاتا ہے اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آکر اس کو مارتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو ہم آگے چل دیے ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے برہنہ مرد و عورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ تنور کے کناروں کے قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں ان دونوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے اور اندر آدمی جب باہر نکلنے کے لیے آگے بڑھتا تو باہر والا اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ پیچھے ہٹ جاتا اور اصلی جگہ پر پہنچا دیتا تھا دوبارہ پھر اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لیے آگے بڑھتا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا اور اصلی جگہ پر پہنچا دیتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیے ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں اور بوڑھے جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھے اور وہاں ایک اور مکان میں داخل ہوئے جس سے بہتر میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا اس میں بھی بڈھے جوان سب طرح کے آدمی تھے آخر کار میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا اچھا ہم بتاتے ہیں۔ جس شخص کو تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہوجاتا تھا قیامت تک اس پر یہ عذاب ہوتا رہے گا۔ اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا تھا اس شخص کو اللہ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ قرآن سے غافل ہو کر رات کو سوجاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس کو اسی طرح عذاب ہوتا رہے گا۔ اور جن لوگوں کو تم نے گڑھے میں دیکھا تھا وہ لوگ زناکار تھے اور جس شخص کو تم نے خون کی نہر میں دیکھا تھا وہ شخص سودخور تھا اور درخت کی جڑ کے پاس جس بوڑھے مرد کو تم نے دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم تھے اور وہ لڑکے لوگوں کی وہ اولادیں تھیں جو بالغ ہونے سے قبل مرگئے تھے اور جو شخص بیٹھا ہوا آگ بھڑکا رہا تھا تو وہ مالک داروغہ تھا اور اول جس مکان میں تم داخل ہوئے تھے وہ عام ایمان داروں کا مکان تھا اور یہ مکان شہیدوں کا ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں اب تم اپنا سر اٹھاؤ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو میرے اوپر ابر سایہ کیے ہوئے تھا انہوں نے کہا یہ تمہارا مقام ہے میں نے کہا کہ مجھے اب اپنے مکان میں جانے دو انہوں نے کہا کہ ابھی تمہاری مدت حیات باقی ہے عمر پوری نہیں ہوئی جب مدت زندگی پوری کرچکو گے تو اپنے مکان میں آجاؤ گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19307

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ سَكْتَةٌ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ السُّورَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَقَالَ كَذَبَ سَمُرَةُ فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ صَدَقَ سَمُرَةُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز کے آغاز میں اور ایک مرتبہ رکوع سے پہلے اور قرأت کے بعد حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں' ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب دیا میں نے حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19308

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ فَهُوَ حُرٌّ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص اپنے قریبی رشتہ دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19309

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنِ الْأَسْقَعِ بْنِ الْأَسْلَعِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنْ الْإِزَارِ فِي النَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19310

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ يَخْطُبُ قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا حِينَ تَسْقُطُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج کے طلوع یا غروب ہونے کے وقت نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19311

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمایا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19312

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ الْحَجْمَ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ جس سے لوگ علاج کرتے ہیں وہ سینگی لگواناہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19313

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا حَجَّامًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْجُمَهُ فَأَخْرَجَ مَحَاجِمَ لَهُ مِنْ قُرُونٍ فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهُ فَشَرَطَهُ بِطَرَفِ شَفْرَةٍ فَصَبَّ الدَّمَ فِي إِنَاءٍ عِنْدَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تُمَكِّنُ هَذَا مِنْ جِلْدِكَ يَقْطَعُهُ قَالَ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا الْحَجْمُ قَالَ وَمَا الْحَجْمُ قَالَ هُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ حَدَّثَنَا الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ الْعَنْبَرِيِّ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ

حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کو بلایا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا جس کا تعلق بنوجزیمہ سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اس کو سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کے لیے دے دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حجم کہتے ہیں اس نے پوچھا کہ حجم کیا چیز ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ جس سے لوگ علاج کرتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19314

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19315

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِهِ وَلَا بِالنَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی لعنت اللہ کے غضب اور اللہ کی آگ سے ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19316

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ اسْمُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عَبْدُ اللَّهِ وَاسْمُ مِيكَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عُبَيْدُ اللَّهِ

محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن حسین نے فرمایا کہ حضرت جبریل کا نام عبداللہ اور حضرت میکائیل کا نام عبیداللہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19317

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19318

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ قَالَ فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا قَالَ فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ قَالَ وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ زُهَيْرٌ حَسِبْتُهُ قَالَ فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ قَالَ فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ ثُمَّ سَكَتُوا ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا وَإِنَّهَا مَتَى يَخْرُجُ أَوْ قَالَ مَتَى مَا يَخْرُجُ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ بِسَيِّئٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُونَ زِلْزَالًا شَدِيدًا ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَجُنُودَهُ حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ أَصْلَ الْحَائِطِ وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي أَوْ قَالَ يَقُولُ يَا مُؤْمِنُ أَوْ قَالَ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ أَوْ قَالَ هَذَا كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ قَالَ وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَلَى مَرَاتِبِهَا ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا

ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے یہ دیکھ کر ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا آؤ مسجد چلتے ہیں بخدا سورج کی یہ کیفیت بتا رہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی اہم واقعہ رونما ہونے والا ہے۔ ہم لوگ مسجد پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس وقت تک باہر تشریف لا چکے تھے لوگ آرہے تھے اس دوران ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے رہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ہمیں اتناطویل قیام کرایا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتناطویل قیام نہیں کیا تھا لیکن ہم آپ کی قرات نہیں سن پا رہے تھے کیونکہ قرات سری تھی پھراتنا طویل رکوع کیا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتنا طویل رکوع نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی دوسری رکعت کے قعدہ میں پہنچنے تک سورج روشن ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور خود کے بندہ خدا اور رسول ہونے کی گواہی دے کر فرمایا اے لوگو میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے کسی پیغام کو تم تک پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہو تو مجھے بتادو کیونکہ میں نے اپنی طرف سے اپنے رب کا پیغام اس طرح پہنچادیاہے جیسے پہنچانے کا حق ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ میری طرف سے میرے رب کے پیغام تم تک پہنچ گئے ہیں تب بھی مجھے بتادو اس پر کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچادیا، اپنی امت کی خیرخواہی کی اور اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے پھر وہ لوگ خاموش ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اما بعد کہہ کر فرمایا کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس چاند اور سورج کو گہن لگنا اور ان ستاروں کا اپنے مطلع سے ہٹ جانا اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتاہے۔ لیکن وہ غلط کہتے ہیں یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے اللہ اپنے بندوں کو درس عبرت دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے اللہ کی قسم میں جب نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے وہ تمام چیزیں دیکھ لیں جن سے دنیا اور آخرت میں تمہیں سابقہ پیش آئے گا بخدا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس کذاب لوگوں کا خروج نہ ہوجائے جن میں سے سب سے آخر میں کانا دجال ہوگا اس کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی جیسے ابویحیی کی آنکھ ہے یہ ایک انصاری کی طرف اشارہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حجرہ عائشہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جب بھی خروج کرے گا تو خود کو خدا سمجھے گا جو شخص ایمان لائے گا اس پر اس کی تصدیق اور اتباع کرے گا اسے ماضی کا کوئی عمل فائدہ نہیں دے سکے گا۔ جو اس کا انکار کرکے اس کی تکذیب کرے گا اس کے کسی عمل پر اس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے حرم شریف اور بیت المقدس کے اور وہ بیت المقدس میں مسلمانوں کا محاصرہ کرلے گا اور ان پر ایک سخت زلزلہ آئے بالآخر اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا حتی کہ درخت کی جڑ میں سے آواز آئے گی کہ اے مسلمان یہ یہودی یا کافر یہاں چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کردو اور ایسا وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم ایسے امور نہ دیکھ لو جن کی اہمیت تمہارے دلوں میں ہو اور تم آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرو کہ کیا تمہارے نبی نے اس کا کوئی تذکرہ کیا ہے اور جب تک پہاڑ اپنی جڑوں سے نہ ہل جائیں اس کے فورا بعد اٹھانے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ ثعلبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک خطبے میں شریک ہوا انہوں نے اس میں جب یہی حدیث دوبارہ بیان کی تو ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے آگے پیچھے نہیں کیا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19319

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19320

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ حِينَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے "امابعد" کہا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19321

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنْ الْعُجْمِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً مِنْ الْأَعَاجِمِ ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائیںگے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19322

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بائع اور مشتری کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19323

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ أَوْ بِالدَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19324

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِي دِيَارِنَا وَأَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے علاقوں میں مسجدیں بنائیں اور انہیں صاف ستھرا رکھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19325

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ وَحَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19326

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ وِقَاءَ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہوکر خطبہ دیا اور اس میں دباء اور مزفت سے منع فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19327

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُمَاطُ عَنْهُ الْأَذَى وَيُسَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھاجائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19328

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَيَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنْ الْبَيْعِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَرْمِي فِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قَيْدَ رُمْحَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ وَقَالَ ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَالَ أَوْ قَامَ أَنَا أَشُكُّ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ قَالَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلَتِهَا وَلَا أَخَّرَ شَيْئًا وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَالَ أَيْضًا فَاسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ زُوُولٌ وَلَكِنَّهَا زُوُولٌ أَصَوْبُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بائع اور مشتری کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر وہ بیع میں راضی ہو۔ ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں ایک دن میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبے میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنے خطبے میں یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن میں اور ایک انصاری لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں نشانہ بازی کررہے تھے جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو یا تین نیزوں کے برابر بلند ہوگیا تو وہ اس طرح تاریک ہوگیا جیسے تنومہ گھاس سیاہ ہوتی ہے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19329

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّبَتُّلِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19330

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی لکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مراد ہے البتہ اس میں راوی حدیث قتادہ نے جانور ذبح کرنے کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے کہ اون یا روئی کا ٹکڑا لے کر ذبح شدہ جانور کی رگوں کے سامنے کھڑا ہو پھر اس بچے کے سر پر رکھ دیا جائے جب وہ خون بہنے لگے تو اس کا سر دھو کر پھر اس کے بال مونڈ دیے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19331

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَيْرِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19332

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ يَقُومُ نَاسٌ وَيَقْعُدُ آخَرُونَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ قَالَ فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور لوگوں نے بھی اسے کھایا ظہر کے قریب تک اسے لوگ کھاتے رہے کہ ایک قوم آ کر کھاتی وہ کھڑی ہوجاتی تو اس کے بعد دوسری قوم آجاتی اور یہ سلسلہ چلتا رہا کسی آدمی نے پوچھا کہ اس پیالے میں برابر کھانا ڈالا جارہا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تعجب کس بات پر ہورہا ہے آسمان سے اس میں برکت پیدا کردی گئی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19333

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ شَيْخٍ لَهُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ وَمَنْ أَخْصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹیں گے۔ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کردیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19334

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَأَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حق دار ہوتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19335

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ وَالْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19336

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَعَاطَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَسِيرِ أَخِيهِ فَيَقْتُلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کا قیدی نہ لے کر اس قتل کرے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19337

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَتْبَعُ صَاحِبُهُ مَنْ اشْتَرَاهُ مِنْهُ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بعینہ اپنا سامان کسی شخص کے پاس دیکھے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے اور مشتری بائع سے اپنی قیمت وصول کرلے گا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19338

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ يَزِيدُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تمہیں بلال کی اذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے یہاں تک کہ طلوع صبح صادق ہوجائے صبح صادق وہ روشنی ہوتی ہے جو افق میں چوڑائی کے اندر پھیلتی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19339

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ عَتِيقٌ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص اپنے کسی قریبی رشتے دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19340

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ وَهَوْذَةُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فِي مَجْلِسِ قَسَامَةٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَمُرَةَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ خَيْرِ دَوَائِكُمْ الْحِجَامَةَ

بکر بن وائل کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں گیا تو وہ سینگی لگوا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے علاج کا سب سے بہترین طریقہ سینگی لگوانا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19341

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19342

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ٹخنوں تک آگ کی لپیٹ میں ہوں گے کچھ گھٹنوں تک کچھ سرین تک اور کچھ لوگ ہنسلی کی ہڈی تک اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19343

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ وَحَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19344

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي الضَّبِّ قَالَ أُمَّةٌ مُسِخَتْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَا أَدْرِي أَيَّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور خطبہ کے دوران ہی سوال کرنے لگا یارسول اللہ گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک امت کی شکلیں مسخ ہوگئی تھیں اب یہ مجھے معلوم نہیں کہ کس جانور کی شکلیں مسخ ہوتی تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19345

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19346

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ بِقَرْنٍ وَيُشْرَطُ بِطَرْفِ سِكِّينٍ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ شَمْخَ فَقَالَ لَهُ لِمَ تُمَكِّنُ ظَهْرَكَ أَوْ عُنُقَكَ مِنْ هَذَا يَفْعَلُ بِهَا مَا أَرَى فَقَالَ هَذَا الْحَجْمُ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میں حاضر ہوا نبی نے حجام کو بلایا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آگیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سینگ لگایا اور نشتر سے چیر لگایا اسی اثناء میں فزارہ کا ایک دیہاتی بھی آگیا اس نے کہا یا رسول اللہ آپنے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دیدی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حجم کہتے ہیں کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19347

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَقُولُ إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أَتَكَلَّمَ بِكَثِيرٍ مِمَّا كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ هَاهُنَا مَنْ هُوَ أَكْثَرُ مِنِّي وَكُنْتُ لَيْلَتَئِذٍ غُلَامًا وَإِنِّي كُنْتُ لَأَحْفَظُ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی اکثر باتیں بیان کرنے سے یہ چیز روک دیتی ہے کہ مجھ سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں میں اس وقت نوعمر تھا اور جو سنتا تھا اسے یاد رکھتا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی اور اس کے درمیان کھڑے ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19348

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ قَالَ يَحْيَى ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ بَعْدُ فَقَالَ لَا يُقْتَلُ بِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کاٹے گا ہم اس کی ناک کاٹ دیں گے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19349

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً قَالَ يَحْيَى ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ فَقَالَ إِذَا اخْتَلَفَ الصِّنْفَانِ فَلَا بَأْسَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19350

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہوگئی تھی اور اس کے درمیان کھڑے ہوئے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19351

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سبح اسم ربک اور ہل اتاک حدیث کی تلاوت فرماتے تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19352

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان ہی میں دفن کیا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19353

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ الْمَسَائِلَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ كُدُوحٌ يُكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور دماغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کے داغ دار کرلیتا ہے اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الا یہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو با اختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19354

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فَلَمْ يُسْمَعْ لَهُ صَوْتٌ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کسوف پڑھائی تو سری قرات فرمائی اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19355

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19356

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ فَقَالَ هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ثَلَاثًا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ عَنْ الْجَنَّةِ بِدَيْنِهِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ایک آدمی نے کہا جی ہاں ہم موجود ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے۔ لہذا تم اس کا قرض ادا کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19357

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْكَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ أَرْبَعٌ وَهِيَ مِنْ الْقُرْآنِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر سبحان اللہ، اور الحمدللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرو کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19358

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ وَقَالَ عَفَّانُ أَيْضًا الْكَذَّابِينَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے تو وہ دو میں جھوٹا ایک ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19359

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً إِلَّا نَهَانَا عَنْ الْمُثْلَةِ وَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بہت کم کسی خطبے میں ایسا ہوتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم نہ دیا ہو اور اس میں مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19360

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَلَا حِينَ تَغِيبُ فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج کے طلوع یا غروب ہونے کے وقت نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19361

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی قریبی رشتے دار کا مالک بن جاتا ہے تو وہ رشتہ دار آزاد ہوجاتا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19362

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَن حُمَيْدٍ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا ہے کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19363

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ وَقَالَ سَمُرَةُ صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ حَنَفِيًّا

ابن سیرین فرماتے تھے کہ میں نے اپنی تلوار حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار جیسی بنائی ہے اور حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جیسی بنائی ہے اور وہ دین حنیف پر قائم تھے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19364

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَبْقُوا شَرْخَهُمْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کردو اور ان کے جوانوں کوز ندہ چھوڑ دو۔ فائدہ : امام احمد کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کی وضاحت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بوڑھا آدمی عام طور پر اسلام قبول نہیں کرتا اور جوان کرلیتا ہے گویا جوان اسلام کے زیادہ قریب ہوتا ہے بہ نسبت بوڑھے کے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19365

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الشَّعْبِيِّ عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ أَهَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ إِنَّهُ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ قَالَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَزَّنُ لَهُ قَضَوْا عَنْه حَتَّى مَا جَاءَ أَحَدٌ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَن فِرَاسٍ عَن الشَّعْبِيِّ عَن سَمُرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ عَن سُفْيَانَ عَن أَبِيهِ عَن الشَّعْبِيِّ عَن سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن أَبِيهِ عَن سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَن الشَّعْبِيِّ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ وَكِيعٍ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنازے میں تھے نماز کے بعد تین مرتبہ فرمایا کہ یہاں فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا جی ہاں! (ہم موجود ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے پہلی مرتبہ میں جواب کیوں نہیں دیا؟ میں نے تمہیں اچھے مقصد کے لئے پکارا تھا تمہارا ساتھی جو فوت ہوگیا ہے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے (لہذا تم اس کا قرض ادا کردو) راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس کے اہل خانہ اور اس کا غم رکھنے والوں کو دیکھا کہ انہوں نے اس کا قرض ادا کردیا اور پھر کوئی مطالبہ کرنے والا نہ آیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔ گذشتہ حدیث بھی اس دوسری سند سے مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19366

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَن أَيُّوبَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَن أَيُّوبَ عَن أَبِي قِلَابَةَ عَن أَبِي الْمُهَلَّبِ عَن سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْبَيَاضِ فَيَلْبَسُهُ أَخْيَارُكُمْ وَقَالَ رَوْحٌ فَلْيَلْبَسْهُ أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهِ مَوْتَاكُمْ فَإِنَّهُ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَن أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ سَمُرَةُ فَذَكَرَهُ وَذَكَرَ يَعْنِي عَفَّانَ عَن وُهَيْبٍ أَيْضًا لَيْسَ فِيهِ أَبُو الْمُهَلَّبِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو ان میں ہی دفن کیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19367

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19368

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَن سَعِيدٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَحَاطَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی زمین پر باغ لگائے تو وہ اسی کی ملکیت میں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19369

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَن حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الضِّبَابِ فَقَالَ مُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ فِي أَيِّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دوران خطبہ ہی سوال کرنے لگا یا رسول اللہ گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک امت کی شکلیں مسخ ہوگئیں تھیں اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ کس جانور کی شکلیں مسخ ہوئیں تھیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19370

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بائع اور مشتری کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19371

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ عَن أَبِيهِ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَتْ مِنْ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ مِنْهُ شُرْبًا ضَعِيفًا قَالَ عَفَّانُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيبِهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بحوالہ ایک آدمی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا ہے تھوڑی دیر بعد حضرت ابوبکر آئے انہوں نے ڈول کی لکڑیوں سے اسے پکڑ لیا اور اس میں سے تھوڑا سا پانی پی لیا پھر حضرت عمر آئے اور انہوں نے بھی اسے منہ سے پکڑ لیا اور خوب سیر ہوکر پیا پھر حضرت عثمان آئے اور انہوں نے بھی اسے منہ سے پکڑ ا اور اس میں سے پینے لگے اسی دوران اس میں سے پانی چھلک کر ان پر گرا۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19372

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن حُمَيْدٍ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أَنْ صَدَقَ سَمُرَةُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19373

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَن مَنْصُورٍ عَن هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَن رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلمات چار ہیں لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ اور الحمد اللہ ان میں سے جس سے بھی آغاز کرلو کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ اور اپنے بچوں کا نام افلح اور نجیح (کامیاب) یسار (آسانی ) اور رباح (نفع) مت رکھو اس لئے کہ جب تم ان کا نام لے کر پوچھوگے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ چار چیزیں ہیں ان پر کوئی اضافہ نہ کرو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19374

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَن الْحَسَنِ قَالَ قَالَ سَمُرَةُ حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةٌ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ قَالَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيٍّ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَصَدَقَ سَمُرَةُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز شروع کرکے اور ایک مرتبہ قرأت سے فارغ ہو کر حضرت عمران بن حصین کا کہنا تھا کہ مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی یاد نہیں ان دونوں نے اس سلسلے میں حضرت ابی بن کعب کی طرف خط لکھا جس میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا حضرت ابی بن کعب نے جواب میں حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19375

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَن يُونُسَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنْ الْأَعَاجِمِ ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ اللَّهُ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا کہ عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیر بن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیںگے اور تمہارامال غنیمت کھاجائیں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری حدیث سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19376

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُوشِكُونَ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَيْدِيَكُمْ مِنْ الْعَجَمِ ثُمَّ يَكُونُوا أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَن الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَن يُونُسَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب اللہ تمہارے ہاتھوں کو عجم سے بھردے گا پھر وہ ایسے شیربن جائیں گے جو میدان سے نہیں بھاگیں گے وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کردیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھاجائیں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19377

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَن قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِالْجِوَارِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر کا پڑوسی دوسرے کی نسبت اس گھر کا زیادہ حقدار ہوتاہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19378

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَأْخُذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا رَضِيَ مِنْ الْبَيْعِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع اور مشتری کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوجاتے اور ان میں سے ہر ایک وہ لے سکتا ہے جس پر بیع میں وہ راضی ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19379

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا ثَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا

ہمارے نسخے میں صرف یہاں حدثنا لکھا ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19380

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "عمری" اس شخص کے حق میں جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ کیا گیا ہو۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19381

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "صلوۃ الوسطی" سے مراد نماز عصر ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19382

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ لِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُدَمَّى

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر لڑکا اپنے عقیقے کے عوض گروی رکھا ہوا ہے لہذا اس کی طرف سے ساتویں دن قربانی کیا کرو اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال مونڈے جائیں۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19383

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ أَحْسَبُهُ مَرْفُوعًا مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنْ الْغَدِ لِلْوَقْتِ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ عَن بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص اپنے وقت پر نماز پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آجائے اسی وقت پڑھ لے اور اگلے دن وقت مقررہ پر ادا کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19384

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَذَلِك أَفْضَلُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرلے تو وہ بھی صحیح ہے اور جو شخص غسل کرلے تو یہ زیادہ افضل ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19385

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَن قَتَادَةَ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ يَوْمًا مَطِيرًا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ أَنَّ الصَّلَاةَ فِي الرِّحَالِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ مِثْلَهُ سَوَاءً

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے غزوہ حنین کے موقع پر بارش کے دن لوگوں سے فرمادیا کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19386

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً أُنْزِلَ الْقُرْآنُ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے قرآن پاک تین حروف پر نازل ہوا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19387

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلَانِ الْمَرْأَةَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ وَإِذَا اشْتَرَى الرَّجُلَانِ الْبَيْعَ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس ایک عورت کا نکاح اس کے دو ولی مختلف جگہوں پر کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی اور جس نے دو مختلف آدمیوں سے ایک ہی چیز خریدی تو وہ ان میں سے پہلے کی ہوگی۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19388

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے میں جانور کی ادھار خریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

-

Permalink

Musnad AhmadHadith 19389

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ يَسْأَلَ فِي الْأَمْرِ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَجَّاجَ فَقَالَ سَلْنِي فَإِنِّي ذُو سُلْطَانٍ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ایک زخم اور داغ ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو داغ دار کرلیتا ہے اور اب جو چاہے اسے اپنے چہرے پر رہنے دے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے الایہ کہ انسان کسی ایسے شخص سے سوال کرے جو بااختیار ہو یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔

-

Permalink