Muwatta Imam Malik — Hadith 1081
زَيْنَبَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِکِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَی أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ قَالَتْ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی أَهْلِي فِي بَنِي خُدْرَةَ فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُکْنِي فِي مَسْکَنٍ يَمْلِکُهُ وَلَا نَفَقَةٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَتْ فَانْصَرَفْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ فَقَالَ کَيْفَ قُلْتِ فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَکَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي فَقَالَ امْکُثِي فِي بَيْتِکِ حَتَّی يَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَی بِهِ
زینت بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان جو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پوچھا کہ مجھے اپنے لوگوں میں جانے کی اجازت ہے کیونکہ میرے خاوند کے چند غلام بھاگ گئے تھے وہ ان کو ڈھونڈنے کو نکلے جب قدوم (ایک مقام ہے مدینہ سے سات میل پر) میں پہنچی وہاں غلاموں کو پایا اور غلاموں نے میرے خاوند کو مار ڈالا اور میرا خاوند میرے لیے نہ کوئی مکان ذات کا چھوڑ گیا ہے نہ کچھ خرچ دے گیا ہے اگر آپ کہئے تو میں اپنے کنبے والوں میں چلی جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلی جا جب میں لوٹ کر چلی حجرہ کے باہر نہیں پہنچی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا یا کسی اور نے آپ کے کہنے پر پکارا اور مجھ سے پوچھا میں نے سارا واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی گھر میں رہ یہاں تک کہ عدت پوری ہو میں نے اسی گھر میں عدت کی چار مہینے دس تک جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیہ ہوئے انہوں نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھوا بھیجا اور اسی کے موافق حکم کیا۔
-