TrueHadith

مضارب مال مضاربت میں سے کتنا خرچ کرسکتا ہے

Muwatta Imam MalikHadith (internal ref #1811287)

بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَالُ كَثِيرًا يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِذَا شَخَصَ فِيهِ الْعَامِلُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَيَكْتَسِيَ بِالْمَعْرُوفِ مِنْ قَدْرِ الْمَالِ وَيَسْتَأْجِرَ مِنْ الْمَالِ إِذَا كَانَ كَثِيرًا لَا يَقْوَى عَلَيْهِ بَعْضَ مَنْ يَكْفِيهِ بَعْضَ مَئُونَتِهِ وَمِنْ الْأَعْمَالِ أَعْمَالٌ لَا يَعْمَلُهَا الَّذِي يَأْخُذُ الْمَالَ وَلَيْسَ مِثْلُهُ يَعْمَلُهَا مِنْ ذَلِكَ تَقَاضِي الدَّيْنِ وَنَقْلُ الْمَتَاعِ وَشَدُّهُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ فَلَهُ أَنْ يَسْتَأْجِرَ مِنْ الْمَالِ مَنْ يَكْفِيهِ ذَلِكَ وَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَسْتَنْفِقَ مِنْ الْمَالِ وَلَا يَكْتَسِيَ مِنْهُ مَا كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ إِنَّمَا يَجُوزُ لَهُ النَّفَقَةُ إِذَا شَخَصَ فِي الْمَالِ وَكَانَ الْمَالُ يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِنْ كَانَ إِنَّمَا يَتَّجِرُ فِي الْمَالِ فِي الْبَلَدِ الَّذِي هُوَ بِهِ مُقِيمٌ فَلَا نَفَقَةَ لَهُ مِنْ الْمَالِ وَلَا كِسْوَةَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَخَرَجَ بِهِ وَبِمَالِ نَفْسِهِ قَالَ يَجْعَلُ النَّفَقَةَ مِنْ الْقِرَاضِ وَمِنْ مَالِهِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِ الْمَالِ

کہا مالک نے اگر مال مضارب بہت ہو خرچہ اٹھا سکتا ہو تو مضارب کو درست ہے کہ سفر کی حالت میں اپنا کپڑا موافق دستور کے اسی مال میں سے کرے یا کسی شخص کو محنت مزدوری کے لیے نوکر رکھے جب اکیلے اس سے محنت نہ ہوسکتی ہو اور بعض کام ایسے ہیں جن کو مضارب خود نہیں کرسکتا جیسے قرضداروں سے تقاضا کرنا اسباب کی باندھا بوندھی اور اس کو اٹھاکر لے چلنا البتہ جب تک مضارب اپنے شہر میں رہے تو مضارب کے مال میں سے کھانا کپڑ ا نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر مضارب سفر میں اپنا ذاتی مال بھی لے کر گیا تو سفر کا خرچ حصہ رسد دوںوں مال پر ڈالے۔

-

Permalink

Muwatta Imam MalikHadith (internal ref #1811289)

بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ مَعَهُ مَالٌ قِرَاضٌ فَهُوَ يَسْتَنْفِقُ مِنْهُ وَيَكْتَسِي إِنَّهُ لَا يَهَبُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَا يُعْطِي مِنْهُ سَائِلًا وَلَا غَيْرَهُ وَلَا يُكَافِئُ فِيهِ أَحَدًا فَأَمَّا إِنْ اجْتَمَعَ هُوَ وَقَوْمٌ فَجَاءُوا بِطَعَامٍ وَجَاءَ هُوَ بِطَعَامٍ فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْهِمْ فَإِنْ تَعَمَّدَ ذَلِكَ أَوْ مَا يُشْبِهُهُ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِ الْمَالِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَحَلَّلَ ذَلِكَ مِنْ رَبِّ الْمَالِ فَإِنْ حَلَّلَهُ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ أَبَى أَنْ يُحَلِّلَهُ فَعَلَيْهِ أَنْ يُكَافِئَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ إِنْ كَانَ ذَلِكَ شَيْئًا لَهُ مُكَافَأَةٌ

کہا مالک نے مضارب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مضاربت کے مال میں سے کچھ ہبہ کرے یا کسی فقیر کو دے یا کسی احسان کا بدلہ ادا کرے اگر اور لوگ بھی اپنا کھانا ہے کر آئیں تو مضارب بھی اپنا کھانا لاکر ان میں شریک ہو سکتا ہے جب کہ دیدہ ودانستہ ضرورت سے زیادہ نہ لائے اگر ایسا کرے گا تو رب المال سے اجازت لینا ضروری ہے اگر رب المال نے اجازت نہ دی تو جس قدر زیادہ اس نے صرف کیا ہے اس کو مجرا کر دے۔

-

Permalink