عَنْ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
ام ہانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال مکہ فتح ہوا آٹھ رکعتیں چاشت کی پڑھیں ایک کپڑا اوڑھ کر ۔
Yahya related to me from Malik from Musa ibn Maysara from Abu Murra, the mawla of Aqil ibn Abi Talib, that Umm Hani bint Abi Talib told him that in the year of the conquest the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed eight rakas, covering himself with one garment.
عَنْ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِکَ ضُحًی
ام ہانی سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ تو پایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرتے ہوئے فاطمہ بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھپائے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے کہا ام ہانی نے سلام کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون ہے میں نے کہا ام ہانی بیٹی ابوطالب کی تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی ہو ام ہانی کو پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی علی کہتے ہیں میں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے وہ شخص فلاں بیٹا ہبیرہ کا ہے پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو توں نے پناہ دی اے ام ہانی۔ کہا امی ہانی نے اس وقت چاشت کا وقت تھا ۔
Yahya related to me from Malik from Abu'n Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah, that Abu Murra, the mawla of Aqil ibn Abi Talib, told him that he had heard Umm Hani bint Abi Talib say, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in the year of the conquest and found him doing ghusl while his daughter Fatima, was screening him with a garment. I said to him, 'Peace be upon you' and he said, 'Who is that?' I replied, 'Umm Hani bint Abi Talib,' and he said, 'Welcome, Umm Hani!' When he had finished his ghusl, he stood and prayed eight rakas, covering himself with one garment, and then came away. I said, 'Messenger of Allah, the son of my mother, AIi, says that he is determined to kill so-and-so, son of Hubayra, a man I have placed under my protection.' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'We give protection to whoever you have given protection to, Umm Hani.' "Umm Hani related that this incident happened in the morning.
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَی قَطُّ وَإِنِّي لَأَسْتَحِبُّهَا وَإِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہو جائے ۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that A'isha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I never once saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing the voluntary prayer of duha, but I myself do it. Sometimes the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, would refrain from a practice that he loved to do, fearing that people would do the same and it would become fard for them ."
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تَرَکْتُهُنَّ
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں پھر کہتیں اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں ۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from A'isha that she used to pray duha with eight rakas, and she would say, "I would never stop doing them even if my parents were to be brought back to life."