TrueHadith

انصار کے مناقب کا بیان اور آیت کریمہ اور جو لوگ دار ہجرت اور دار السلام یعنی مدینہ منورہ میں مہاجرین (کے آنے) سے پہلے قیام کئے ہوئے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دیا جائے تو وہ اس سے اپنے دلوں میں خلش نہیں پاتے۔

Sahih BukhariHadith 3492

Narrated by Ghailan bin Jarir

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَرَأَيْتَ اسْمَ الْأَنْصَارِ کُنْتُمْ تُسَمَّوْنَ بِهِ أَمْ سَمَّاکُمْ اللَّهُ قَالَ بَلْ سَمَّانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کُنَّا نَدْخُلُ عَلَی أَنَسٍ فَيُحَدِّثُنَا بِمَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ وَمَشَاهِدِهِمْ وَيُقْبِلُ عَلَيَّ أَوْ عَلَی رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ فَيَقُولُ فَعَلَ قَوْمُکَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا

موسی بن اسماعیل مہدی بن میمون غیلان بن جریر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ ذرا انصار نام کے متعلق فرمایئے کہ یہ نام آپ نے (انصار نے خود) رکھا تھا یا اللہ تعالیٰ نے یہ نام رکھا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نہیں رکھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا یہ نام رکھا ہے (غیلان) کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس کے پاس جایا کرتے تھے تو وہ ہم سے انصار کے مناقب اور ان کے کارنامے بیان کرتے اور میرے یا قبیلہ ازد کے کسی آدمی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کرتے کہ فلاں فلاں دن تمہاری قوم (انصار) نے فلاں فلاں کام کیا۔

Narrated Ghailan bin Jarir: I asked Anas, "Tell me about the name 'Al-Ansar.; Did you call yourselves by it or did Allah call you by it?" He said, "Allah called us by it." We used to visit Anas (at Basra) and he used to narrate to us the virtues and deeds of the Ansar, and he used to address me or a person from the tribe of Al-Azd and say, "Your tribe did so-and-so on such-and-such a day."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3493

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ

عبید بن اسماعیل ابواسامہ ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ جنگ بعاث کا دن خدا تعالیٰ نے اپنے رسول (کی کامیابی) کے لئے پہلے سے مقرر کر رکھا تھا چنانچہ جب (مدینہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کی جماعتیں پراگندہ ہوگئی تھیں اور ان کے کچھ سردار زخمی اور کچھ مارے گئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے یہ دن پہلے سے ان جماعتوں کے اسلام میں داخل ہونے کے لئے جو بعد میں انصار کے لقب سے نوازی گئیں مقرر کر رکھا تھا۔

Narrated 'Aisha: The day of Bu'ath (i.e. Day of fighting between the two tribes of the Ansar, the Aus and Khazraj) was brought about by Allah for the good of His Apostle so that when Allah's Apostle reached (Medina), the tribes of Medina had already divided and their chiefs had been killed and wounded. So Allah had brought about the battle for the good of H is Apostle in order that they (i.e. the Ansar) might embrace Islam.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3494

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ وَأَعْطَی قُرَيْشًا وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِ قُرَيْشٍ وَغَنَائِمُنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْأَنْصَارَ قَالَ فَقَالَ مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْکُمْ وَکَانُوا لَا يَکْذِبُونَ فَقَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَکَ قَالَ أَوَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَی بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی بُيُوتِکُمْ لَوْ سَلَکَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ

ابو الولید شعبہ ابوالتیاح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آنحضرت نے قریش کو فتح مکہ کے دن کچھ عطیہ دیا تھا تو انصار نے کہا بخدا یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ ہماری تلواروں سے تو قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہماری غنیمتیں انہیں کے حوالہ ہو رہی ہیں۔ یہ خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انصار کو بلا کر فرمایا جو خبر تمہاری جانب سے مجھے پہنچی ہے وہ کیسی ہے؟ اور انصار جھوٹ نہیں بولا کرتے تھے اور انہوں نے جواب دیا کہ یہ اطلاع جو آپ کو پہنچی ہے بالکل ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو اپنے گھروں کو مال غنیمت (جو بہت ہی حقیر چیز ہے) لے کر واپس جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کے رسول کو لے کر واپس جاؤ (جس سے بڑی نعمت دنیا میں نہیں ہو سکتی) جس میدان یا گھاٹی میں انصار چلیں گے تو میں بھی انہیں کے میدان یا گھاٹی پر چلوں گا۔

Narrated Anas: On the day of the Conquest of Mecca, when the Prophet had given (from the booty) the Quraish, the Ansar said, "By Allah, this is indeed very strange: While our swords are still dribbling with the blood of Quraish, our war booty are distributed amongst them." When this news reached the Prophet he called the Ansar and said, "What is this news that has reached me from you?" They used not to tell lies, so they replied, "What has reached you is true." He said, "Doesn't it please you that the people take the booty to their homes and you take Allah's Apostle to your homes? If the Ansar took their way through a valley or a mountain pass, I would take the Ansar's valley or a mountain pass."

Permalink