TrueHadith

اس فرمان الٰہی کا بیان کہ اور کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے جدا ہو گئیں نبذناہ یعنی ہم نے اسے ڈال دیا وہ جدا ہو گئیں شرقیا یعنی وہ گوشہ جو مشرق کی طرف تھا فاجائھا یہ جئت کا باب افعال ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی الجاھا یعنی مجبو و مضطر کر دیا تساقط یعنی گرائے گی قصیا یعنی بعدی فریا یعنی بڑی بات۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ نسیاً کے معنی ہیں میں کچھ نہ ہوتی دوسرے لوگوں نے کہا کہ نسی حقیر کو کہتے ہیں ابووائل فرماتے ہیں کہ مریم اس بات کو جانتی تھیں کہ متقی ہی عقل مند ہوتا ہے یعنی بری باتوں سے بچتا ہے جبھی تو انہوں نے کہا کہ اگر تو پرہیز گار ہے وکیع اسرائیل اور ابواسحق نے براء سے نقل کیا ہے کہ سریا سریانی زبان میں چھوٹی نہر کو کہتے ہیں ۔

Sahih BukhariHadith 3181

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَی وَکَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ کَانَ يُصَلِّي جَائَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ فَقَالَ أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّی تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ وَکَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَکَلَّمَتْهُ فَأَبَی فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْکَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَکَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی ثُمَّ أَتَی الْغُلَامَ فَقَالَ مَنْ أَبُوکَ يَا غُلَامُ قَالَ الرَّاعِي قَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا إِلَّا مِنْ طِينٍ وَکَانَتْ امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ رَاکِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَتَرَکَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَی الرَّاکِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی ثَدْيِهَا يَمَصُّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَصُّ إِصْبَعَهُ ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ فَتَرَکَ ثَدْيَهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَقَالَتْ لِمَ ذَاکَ فَقَالَ الرَّاکِبُ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ وَهَذِهِ الْأَمَةُ يَقُولُونَ سَرَقْتِ زَنَيْتِ وَلَمْ تَفْعَلْ

مسلم بن ابراہیم جریر بن حازم محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے عیسیٰ اور بنو اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس کا نام جریج تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ تو اس کی ماں نے آ کر آواز دی اس نے (اپنے دل میں) کہا آیا میں جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں اس کی ماں نے بدعا کی اے اللہ جب تک یہ زانیہ عورتوں کی صورت نہ دیکھ لے اسے موت نہ آئے جریج اپنے عبادت خانہ میں رہتے تھے (ایک دن) ایک عورت ان کے پاس آئی اور کچھ گفتگو کی مگر انہوں نے (اس کی خواہش پوری کرنے سے انکار) کردیا پھر وہ ایک چرواہے کے پاس پہنچی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا پھر اس کے ایک لڑکا پیدا ہوا تو اس نے کہا یہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا اور انہیں نیچے اتار کر گالیاں دیں جریج نے وضو کر کے نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آ کر کہا اے بچے تیرا باپ کون ہے؟ اس نے کہا چرواہا (اب) لوگوں نے کہا ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں مٹی کا ہی بنا دو اور بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچہ کو دودھ پلا رہی تھی کہ اس کے پاس سے ایک خوبصورت سوار گزرا عورت نے کہا اے خدا میرے بچہ کو اس طرح کرنا بچہ اپنی ماں کا پستان چھوڑ کر سوار کی طرف متوجہ ہو کر بولا اے خدا مجھے اس جیسا نہ کرنا پھر وہ پستان کی طرف متوجہ ہو کر چوسنے لگا ابوہریرہ فرماتے ہیں گویا میں اب (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا کہ آپ اپنی انگلی چوس کر) اس بچہ کے دودھ پینے کی حالت بتا رہے تھے پھر اس عورت کے پاس سے ایک باندی گزری تو اس نے کہا اے خدا میرے بچہ کو اس باندی جیسا نہ کرنا بچہ نے پستان چھوڑ کر کہا اے خدا مجھے اس جیسا کرنا۔ ماں نے پوچھا یہ کیوں بچہ نے کہا وہ سوار تو ظالموں میں سے ایک ظالم تھا اور اس باندی کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ تو نے چوری کی۔ تو نے زنا کیا، حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "None spoke in cradle but three: (The first was) Jesus, (the second was), there a man from Bani Israel called Juraij. While he was offering his prayers, his mother came and called him. He said (to himself), 'Shall I answer her or keep on praying?" (He went on praying) and did not answer her, his mother said, "O Allah! Do not let him die till he sees the faces of prostitutes." So while he was in his hermitage, a lady came and sought to seduce him, but he refused. So she went to a shepherd and presented herself to him to commit illegal sexual intercourse with her and then later she gave birth to a child and claimed that it belonged to Juraij. The people, therefore, came to him and dismantled his hermitage and expelled him out of it and abused him. Juraij performed the ablution and offered prayer, and then came to the child and said, 'O child! Who is your father?' The child replied, 'The shepherd.' (After hearing this) the people said, 'We shall rebuild your hermitage of gold,' but he said, 'No, of nothing but mud.'(The third was the hero of the following story) A lady from Bani Israel was nursing her child at her breast when a handsome rider passed by her. She said, 'O Allah ! Make my child like him.' On that the child left her breast, and facing the rider said, 'O Allah! Do not make me like him.' The child then started to suck her breast again. (Abu Huraira further said, "As if I were now looking at the Prophet sucking his finger (in way of demonstration.") After a while the people passed by, with a lady slave and she (i.e. the child's mother) said, 'O Allah! Do not make my child like this (slave girl)!, On that the child left her breast and said, 'O Allah! Make me like her.' When she asked why, the child replied, 'The rider is one of the tyrants while this slave girl is falsely accused of theft and illegal sexual intercourse."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3182

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيتُ مُوسَی قَالَ فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَی فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ وَأُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالْآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقِيلَ لِي هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ

ابراہیم بن موسیٰ ہشام معمر (دوسری سند) محمود عبدالرزاق معمر زہری سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج کے سلسلہ میں فرمایا کہ موسیٰ سے ملا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا کہ وہ (عبدالرزاق کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں) دراز قامت سیدھے بالوں والے تھے گویا وہ (قبیلہ) شنوه کے آدمی ہیں آپ نے فرمایا اور میں عیسیٰ سے ملا، تو ان کا حلیه نبی صلی الله علیه وسلم نے یه بیان کیا، که متوسط قد، سرخ رنگ کے ہیں، گویا حمام سے ابھی نکل کر آرهے ہیں اور میں نے ابراهیم کو دیکها اور میں انکی اولاد میں سب سے زیاده مشابه ہوں ۔ آپ نے فرمایا پهر میرے پاس دو پیالے لائے گئے ایک میں دوده اور دوسرے میں شراب تھی، مجھے کہا گیا که ان میں سے جسے چاهو لے لو، یا یہ فرمایا کہ تم فطرت تک پہنچ گئے اگر تم شراب لے لیتے تو تمهاری امت گمراه ہو جاتی ۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "I met Moses on the night of my Ascension to heaven." The Prophet then described him saying, as I think, "He was a tall person with lank hair as if he belonged to the people of the tribe of Shanu's.' The Prophet further said, "I met Jesus." The Prophet described him saying, "He was one of moderate height and was red-faced as if he had just come out of a bathroom. I saw Abraham whom I resembled more than any of his children did." The Prophet further said, "(That night) I was given two cups; one full of milk and the other full of wine. I was asked to take either of them which I liked, and I took the milk and drank it. On that it was said to me, 'You have taken the right path (religion). If you had taken the wine, your (Muslim) nation would have gone astray."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3183

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عِيسَی ومُوسَی وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَی فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَی فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبْطٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ

محمد بن کثیر اسرائیل عثمان بن مغیرہ مجاہد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے عیسیٰ موسیٰ اور ابراہیم علیہ السلام کو (شب معراج میں) دیکھا عیسیٰ تو سرخ رنگ پیچیدہ بال اور چوڑے چکلے سینہ کے آدمی تھے رہے موسیٰ علیہ السلام تو گندم گوں اور موٹے تازے سیدھے بالوں والے آدمی تھے گویا وہ (قبیلہ زط) کے آدمی ہیں۔

Narrated Ibn Umar: The Prophet said, "I saw Moses, Jesus and Abraham (on the night of my Ascension to the heavens). Jesus was of red complexion, curly hair and a broad chest. Moses was of brown complexion, straight hair and tall stature as if he was from the people of Az-Zutt."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3184

Narrated by Abdullah

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا مُوسَی عَنْ نَافِعٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَکَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَيْ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ وَأَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ کَأَحْسَنِ مَا يُرَی مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْکِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعَرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَائً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا وَرَائَهُ جَعْدًا قَطِطًا أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ

ابراہیم بن منذر ابوضمرہ موسیٰ نافع عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے دیکھو مسیح دجال کی داہنی آنکھ کانی ہے اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح (اوپر کو نکلی ہوئی) ہے اور رات میں نے خواب میں اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا تو ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا جیسے تم نے بہترین رنگ کے گندمی آدمی دیکھے ہونگے ان سے بھی اچھا تھا اس کے بال دونوں شانوں تک سیدھے لٹکتے تھے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا دو آدمیوں کے کاندھے پرہاتھ رکھے، وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو جواب دیا کہ مسیح بن مریم ہیں پھر میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی کو دیکھا جو سخت پیچیدہ بالوں تھا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا جو ابن قطن (کافر) سے بہت زیادہ مشابہ تھا ایک آدمی کے دونوں شانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کے گرد گھوم رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ مسیح دجال ہے اس کے متابع حدیث عبیداللہ نے نافع سے ذکر کی ہے۔

Narrated Abdullah: The Prophet mentioned the Massiah Ad-Dajjal in front of the people saying, Allah is not one eyed while Messsiah, Ad-Dajjal is blind in the right eye and his eye looks like a bulging out grape. While sleeping near the Ka'ba last night, I saw in my dream a man of brown color the best one can see amongst brown color and his hair was long that it fell between his shoulders. His hair was lank and water was dribbling from his head and he was placing his hands on the shoulders of two men while circumambulating the Kaba. I asked, 'Who is this?' They replied, 'This is Jesus, son of Mary.' Behind him I saw a man who had very curly hair and was blind in the right eye, resembling Ibn Qatan (i.e. an infidel) in appearance. He was placing his hands on the shoulders of a person while performing Tawaf around the Ka'ba. I asked, 'Who is this? 'They replied, 'The Masih, Ad-Dajjal.' "

Permalink

Sahih BukhariHadith 3185

Narrated by Salim from his father

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَکِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِيسَی أَحْمَرُ وَلَکِنْ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَائً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَائً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ مَرْيَمَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ وَأَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ هَلَکَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ

احمد بن مکی ابراہیم بن سعد زہری سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ بخدا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیسیٰ کو سرخ رنگ کا نہیں کہا لیکن آپ نے یہ فرمایا کہ ایک دن میں خواب میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو دیکھا کہ ایک گندمی رنگ کا سیدھے بالوں والا آدمی دو آدمیوں کے درمیان چل رہا ہے اپنے سر سے پانی نچوڑ رہا تھا یا اپنے سر سے پانی بہا رہا تھا میں نے کہا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ابن مریم ہیں میں ادھر ادھر دیکھنے لگا تو دیکھتا ہوں کہ سرخ رنگ کا ایک فربہ آدمی پیچیدہ بالوں والا داہنی آنکھ سے کانا اس کی آنکھ پھولے انگور کی طرح تھی موجود ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ دجال ہے اور اس سے سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے زہری نے کہا ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی تھا جو زمانہ جاہلیت میں مر گیا تھا۔

Narrated Salim from his father: No, By Allah, the Prophet did not tell that Jesus was of red complexion but said, "While I was asleep circumambulating the Ka'ba (in my dream), suddenly I saw a man of brown complexion and lank hair walking between two men, and water was dropping from his head. I asked, 'Who is this?' The people said, 'He is the son of Mary.' Then I looked behind and I saw a red-complexioned, fat, curly-haired man, blind in the right eye which looked like a bulging out grape. I asked, 'Who is this?' They replied, 'He is Ad-Dajjal.' The one who resembled to him among the people, was Ibn Qatar." (Az-Zuhri said, "He (i.e. Ibn Qatan) was a man from the tribe Khuza'a who died in the pre-lslamic period.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 3186

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ وَالْأَنْبِيَائُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ

ابوالیمان شعیب زہری ابوسلمہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میں ابن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء آپس میں (گویا) علاتی بھائی ہیں (کہ باپ ایک ماں جدا) پس اسی طرح انبیاء دین کے اصول میں متحد اور فروع میں زمانہ کے لحاظ سے مختلف میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔

Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, "I am the nearest of all the people to the son of Mary, and all the prophets are paternal brothers, and there has been no prophet between me and him (i.e. Jesus)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3187

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْأَنْبِيَائُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّی وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن سنان فلیح بن سلیمان ہلال بن علی عبدالرحمن بن ابی عمر ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں ابن مریم کے دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء آپس میں علاتی بھائی ہیں کہ ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین (جو مثل والد کے ہے) ایک ہے ابراہیم بن طہمان موسیٰ بن عقبہ صفوان بن سلیم عطاء بن یسار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا۔ (دوسری سند)

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Both in this world and in the Hereafter, I am the nearest of all the people to Jesus, the son of Mary. The prophets are paternal brothers; their mothers are different, but their religion is one."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3188

Narrated by Abu Huraira

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ أَسَرَقْتَ قَالَ كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِي

ابراہیم بن طہمان ، موسیٰ بن عقبہ ، صفوان بن سلیم ، عطاء بن یسار ، ابوہریرہ ، ح، عبداللہ بن محمد عبدالرزاق معمر ہمام ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے کہا تو چوری کر رہا ہے؟ اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں عیسیٰ نے فرمایا میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی آنکھ کو دھوکہ کی طرف منسوب کرتا ہوں۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Jesus, seeing a man stealing, asked him, 'Did you steal?, He said, 'No, by Allah, except Whom there is None who has the right to be worshipped' Jesus said, 'I believe in Allah and suspect my eyes."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3189

Narrated by 'Umar

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُطْرُونِي کَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَی ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ

حمیدی سفیان زہری عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اتنا نہ بڑھاؤ جتنا نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم کو بڑھایا ہے میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں تو تم بھی یہی کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔

Narrated 'Umar: I heard the Prophet saying, "Do not exaggerate in praising me as the Christians praised the son of Mary, for I am only a Slave. So, call me the Slave of Allah and His Apostle."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3190

Narrated by Abu Musa Al-Ash'ari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ قَالَ لِلشَّعْبِيِّ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا کَانَ لَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا آمَنَ بِعِيسَی ثُمَّ آمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَی رَبَّهُ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ

محمد بن مقاتل عبداللہ صالح بن حئی کہتے ہیں کہ ایک خراسانی نے شعبی سے کچھ کہا تو شعبی نے کہا ہمیں بواسطہ ابوہریرہ ابوموسیٰ اشعری کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی آپ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی باندی کو ادب سکھائے اور اس کی تادیب و تعلیم بہتر طریق پر کرے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا اور جو شخص عیسیٰ پر ایمان لایا پھر میرے اوپر ایمان لایا تو اسے دہرا ثواب ملے گا اور غلام جب اپنے رب سے ڈرے اور اپنے آقاؤں کی اطاعت کرے تو اسے بھی دہرا ثواب ملے گا۔

Narrated Abu Musa Al-Ash'ari: Allah's Apostle said, "If a person teaches his slave girl good manners properly, educates her properly, and then manumits and marries her, he will get a double reward. And if a man believes in Jesus and then believes in me, he will get a double reward. And if a slave fears his Lord (i.e. Allah) and obeys his masters, he too will get a double reward."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3191

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِينَ فَأَوَّلُ مَنْ يُکْسَی إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ يُؤْخَذُ بِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ ذُکِرَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَبِيصَةَ قَالَ هُمْ الْمُرْتَدُّونَ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَی عَهْدِ أَبِي بَکْرٍ فَقَاتَلَهُمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

محمد بن یوسف سفیان مغیرہ بن نعمان سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ برہنہ پا برہنہ بدن بغیر ختنہ کئے ہوئے قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی جس طرح ہم نے ابتداء پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوسری دفعہ بھی کریں گے یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے ہم اسے ضرور پورا کریں گے تو سب سے پہلے جسے کپڑے پہنائے جائیں گے وہ ابراہیم ہیں پھر چند اصحاب کو داہنی طرف (جنت میں) اور بائیں طرف (دوزخ میں) لے جایا جائے گا میں کہوں گا یہ تو میرے اصحاب ہیں تو کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ تو مرتد رہے پس میں کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ بن مریم کہتے ہیں اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے الحکیم تک محمد بن یوسف کہتے ہیں کہ ابو عبیداللہ قبیصہ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ وہ مرتد ہیں جو عہد ابوبکر میں مرتد ہوئے اور ابوبکر نے ان سے جہاد کیا۔

Narrted Ibn Abbas: Allah's Apostle said, "You will be resurrected (and assembled) bare-footed, naked and uncircumcised." The Prophet then recited the Divine Verse:-- "As We began the first creation, We shall repeat it: A promise We have undertaken. Truly we shall do it." (21.104) He added, "The first to be dressed will be Abraham. Then some of my companions will take to the right and to the left. I will say: 'My companions! 'It will be said, 'They had been renegades since you left them.' I will then say what the Pious Slave Jesus, the son of Mary said: 'And I was a witness over them while I dwelt amongst them; when You did take me up, You were the Watcher over them, and You are a Witness to all things. If You punish them, they are Your slaves, and if you forgive them, You, only You are the All-Mighty the All-Wise.' " (5.117-118) Narrated Quaggas, "Those were the apostates who renegade from Islam during the Caliphate of Abu Bakr who fought them".

Permalink