TrueHadith

حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی کے فضائل کا بیان رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور حضرت عمر کا بیان ہے کہ آآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بوقت وفات ان سے راضی تھے۔

Sahih BukhariHadith 3425

Narrated by Sahl bin Sad

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوکُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا يَشْتَکِي عَيْنَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَائَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّی کَأَنْ لَمْ يَکُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّی يَکُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ يَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ

قتیبہ عبدالعزیز ابوحازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبر کے دن) فرمایا کل میں یہ جھنڈا ایک شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں سے خداوند تعالیٰ (قلعہ خیبر کو) فتح کرائے گا رات کو تمام لوگ سوچتے رہے دیکھئے جھنڈا کس کو ملتا ہے جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں یہ امید لے کر حاضر ہوئے کہ جھنڈا انہیں کو ملے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں آپ نے فرمایا کوئی جا کر ان کو بلا لائے چنانچہ انہیں بلا کر لایا گیا جب وہ آئے تو آپ نے ان کی دونوں آنکھوں پر لعاب دہن لگا دیا اور ان کے لئے دعا کی۔ وہ اچھی ہو گئیں گویا دکھتی ہی نہ تھیں پھر آپ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا حضرت علی نے عرض کیا یا رسول اللہ میں ان لوگوں (یعنی دشمنوں) سے اس وقت تک لڑوں گا جب تک وہ ہماری مانند مسلمان نہ ہو جائیں آپ نے فرمایا ٹھرو، جب تم میدان جنگ میں پہنچ جاؤ تو پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا (یعنی اسلام کی طرف بلانا) پھر خدا کا حق جو ان پر واجب ہے اس سے ان کو مطلع کرنا اس لئے کہ بخدا! اگر تمہاری تحریک و تبلیغ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دی تو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بدرجہا بہتر ہے۔

Narrated Sahl bin Sad: Allah's Apostle said, "Tomorrow I will give the flag to a man with whose leadership Allah will grant (the Muslim) victory." So the people kept on thinking the whole night as to who would be given the flag. The next morning the people went to Allah's Apostle and every one of them hoped that he would be given the flag. The Prophet said, "Where is Ali bin Abi Talib?" The people replied, "He is suffering from eye trouble, O Allah's Apostle." He said, "Send for him and bring him to me." So when 'Ali came, the Prophet spat in his eyes and invoked good on him, and he became alright as if he had no ailment. The Prophet then gave him the flag. 'Ali said, "O Allah's Apostle! Shall I fight them (i.e. enemy) till they become like us?" The Prophet said, "Proceed to them steadily till you approach near to them and then invite them to Islam and inform them of their duties towards Allah which Islam prescribes for them, for by Allah, if one man is guided on the right path (i.e. converted to Islam) through you, it would be better for you than (a great number of) red camels."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3426

Narrated by Salama

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ کَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَکَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مَسَائُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ

قتیبہ حاتم یزید حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی آنکھیں دکھتی تھیں انہوں نے اپنے جی میں کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانا کچھ زیب نہیں دیتا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیزی سے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے جب شام ہوئی جس کے دوسرے دن صبح کو خدا تعالیٰ نے فتح دی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کل جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا، یا فرمایا جھنڈا وہ شخص لے گا جس کو خدا اور رسول محبوب رکھتے ہیں، یا فرمایا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب رکھتا ہے خدا تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر فتح نصیب کرے گا اچانک ہماری ملاقات علی سے ہو گئی، ہم کو ان کے آنے کی امید نہ تھی لوگوں نے کہا یہ علی ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کو مرحمت فرمایا اور خدا نے ان کے ہاتھ پر فتح دی۔

Narrated Salama: Ali happened to stay behind the Prophet and (did not join him) during the battle of Khaibar for he was having eye trouble. Then he said, "How could I remain behind Allah's Apostle?" So 'Ali set out following the Prophet , When it was the eve of the day in the morning of which Allah helped (the Muslims) to conquer it, Allah's Apostle said, "I will give the flag (to a man), or tomorrow a man whom Allah and His Apostle love will take the flag," or said, "A man who loves Allah and His Apostle; and Allah will grant victory under his leadership." Suddenly came 'Ali whom we did not expect. The people said, "This is 'Ali." Allah's Apostle gave him the flag and Allah granted victory under his leadership.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3427

Narrated by Abu Hazim

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ هَذَا فُلَانٌ لِأَمِيرِ الْمَدِينَةِ يَدْعُو عَلِيًّا عِنْدَ الْمِنْبَرِ قَالَ فَيَقُولُ مَاذَا قَالَ يَقُولُ لَهُ أَبُو تُرَابٍ فَضَحِکَ قَالَ وَاللَّهِ مَا سَمَّاهُ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا کَانَ لَهُ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ فَاسْتَطْعَمْتُ الْحَدِيثَ سَهْلًا وَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ کَيْفَ ذَلِکَ قَالَ دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَی فَاطِمَةَ ثُمَّ خَرَجَ فَاضْطَجَعَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّکِ قَالَتْ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَوَجَدَ رِدَائَهُ قَدْ سَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ وَخَلَصَ التُّرَابُ إِلَی ظَهْرِهِ فَجَعَلَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ فَيَقُولُ اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ مَرَّتَيْنِ

عبداللہ بن مسلمہ عبدالعزیز بن ابی حازم حضرت ابوحازم سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سہل بن سعد کے پاس آ کر کہا فلاں شخص امیر مدینہ حضرت علی کو برسر منبر برا کہتا ہے حضرت سہل نے پوچھا وہ کیا استعمال کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ان کو ابوتراب کہتا ہے تو سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہنسے اور کہا خدا کی قسم ان کا یہ نام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے، اور جس قدر یہ نام ان کو پسند تھا اور کوئی نام پسند نہیں تھا پھر میں نے پوری حدیث سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کی میں نے عرض کیا، اے ابوالعباس! یہ واقعہ کیسے ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ (ایک روز) حضرت فاطمہ کے پاس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھوڑی دیر کو گئے اور پھر باہر نکل کر مسجد میں آ کر لیٹ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے) دریافت کیا تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں، انہوں نے کہا مسجد میں پس آپ ان کے پاس (مسجد میں) تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ان کی چادر پیٹھ سے سرک گئی ہے اور ان کی پیٹھ پر مٹی ہی مٹی تھی آپ مٹی پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے اے ابوتراب اٹھ بیٹھو دو مرتبہ آپ نے یہی فرمایا۔

Narrated Abu Hazim: A man came to Sahl bin Sad and said, "This is so-and-so," meaning the Governor of Medina, "He is calling 'Ali bad names near the pulpit." Sahl asked, "What is he saying?" He (i.e. the man) replied, "He calls him (i.e. 'Ali) Abu Turab." Sahl laughed and said, "By Allah, none but the Prophet called him by this name and no name was dearer to 'Ali than this." So I asked Sahl to tell me more, saying, "O Abu 'Abbas! How (was this name given to 'Ali)?" Sahl said, "'Ali went to Fatima and then came out and slept in the Mosque. The Prophet asked Fatima, "Where is your cousin?" She said, "In the Mosque." The Prophet went to him and found that his (i.e. Ali's) covering sheet had slipped of his back and dust had soiled his back. The Prophet started wiping the dust off his back and said twice, "Get up! O Abu Turab (i.e. O. man with the dust)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3428

Narrated by Sad bin 'Ubaida

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ عُثْمَانَ فَذَکَرَ عَنْ مَحَاسِنِ عَمَلِهِ قَالَ لَعَلَّ ذَاکَ يَسُوئُکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِکَ ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْ عَلِيٍّ فَذَکَرَ مَحَاسِنَ عَمَلِهِ قَالَ هُوَ ذَاکَ بَيْتُهُ أَوْسَطُ بُيُوتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَعَلَّ ذَاکَ يَسُوئُکَ قَالَ أَجَلْ قَالَ فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِکَ انْطَلِقْ فَاجْهَدْ عَلَيَّ جَهْدَکَ

محمد حسین زائدہ ابوحصین حضرت سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے حضرت عثمان کے متعلق پوچھا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان کی نیک اعمالیاں بیان کر دیں حضرت ابن عمر نے فرمایا شاید یہ باتیں تجھ کو بری لگی ہیں اس نے کہا ہاں! تو آپ نے فرمایا اللہ تجھے ذلیل خوار کرے پھر اس شخص نے حضرت علی کی بابت پوچھا تو حضرت ابن عمر نے ان کی بھی نیک اعمالیاں بیان کیں کہا وہ ایسے ہیں ان کا گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے بیچ میں ہے پھر فرمایا کہ شاید یہ باتیں بھی تجھ کو بری لگتی ہیں اس شخص نے کہا ہاں حضرت ابن عمر نے فرمایا خدا تجھ کو ذلیل کرے جا اور مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کر۔

Narrated Sad bin 'Ubaida: A man came to Ibn 'Umar and asked about 'Uthman and Ibn 'Umar mentioned his good deeds and said to the questioner. "Perhaps these facts annoy you?" The other said, "Yes." Ibn 'Umar said, "May Allah stick your nose in the dust (i.e. degrade you)!' Then the man asked him about 'Ali. Ibn 'Umar mentioned his good deeds and said, "It is all true, and that is his house in the midst of the houses of the Prophet. Perhaps these facts have hurt you?" The questioner said, "Yes." Ibn 'Umar said, "May Allah stick your nose in the dust (i.e. degrade you or make you do things which you hate) ! Go away and do whatever you can against me."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3429

Narrated by 'Ali

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ فَقَالَ عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ

محمد غندر شعبہ حکم ابن ابی لیلیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے جو تکلیف پہنچتی تھی اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے پاس گئیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پایا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پایا اور ان سے اپنے آنے کی وجہ بیان کی جب آپ تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ سے آنے کی وجہ بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جب کہ ہم اپنے بستر پر لیٹ چکے تھے میں نے اٹھنا چاہا تو آپ نے فرمایا تم دونوں اپنی جگہ رہو اور آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے میں نے آپ کے پیروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ پر محسوس کی آپ نے فرمایا میں تم کو ایک ایسی بات سکھاتا ہوں جو تمہاری طلب کردہ چیز سے بدرجہا بہتر ہے جب تم سونے کے لئے اپنے بستر پر جایا کرو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔

Narrated 'Ali: Fatima complained of the suffering caused to her by the hand mill. Some Captives were brought to the Prophet, she came to him but did not find him at home 'Aisha was present there to whom she told (of her desire for a servant). When the Prophet came, Aisha informed him about Fatima's visit. Ali added "So the Prophet came to us, while we had gone to our bed I wanted to get up but the Prophet said, "Remain at your place". Then he sat down between us till I found the coolness of his feet on my chest. Then he said, "Shall I teach you a thing which is better than what you have asked me? When you go to bed, say, 'Allahu-Akbar' thirty-four times, and 'Subhan Allah thirty-three times, and 'Alhamdu-lillah thirty-three times for that is better for you both than a servant."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3430

Narrated by 'Ali

حَدَّثَنِامُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی

محمد بن بشار غندر شعبہ سعد ابراہیم سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم میرے ساتھ اس درجہ پر ہو جس درجہ پر حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے۔

Narrated 'Ali: Fatima complained of the suffering caused to her by the hand mill. Some Captives were brought to the Prophet, she came to him but did not find him at home 'Aisha was present there to whom she told (of her desire for a servant). When the Prophet came, Aisha informed him about Fatima's visit. Ali added "So the Prophet came to us, while we had gone to our bed I wanted to get up but the Prophet said, "Remain at your place". Then he sat down between us till I found the coolness of his feet on my chest. Then he said, "Shall I teach you a thing which is better than what you have asked me? When you go to bed, say, 'Allahu-Akbar' thirty-four times, and 'Subhan Allah thirty-three times, and 'Alhamdu-lillah thirty-three times for that is better for you both than a servant."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3431

Narrated by Ubaida

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْضُوا کَمَا کُنْتُمْ تَقْضُونَ فَإِنِّي أَکْرَهُ الِاخْتِلَافَ حَتَّی يَکُونَ لِلنَّاسِ جَمَاعَةٌ أَوْ أَمُوتَ کَمَا مَاتَ أَصْحَابِي فَکَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَرَی أَنَّ عَامَّةَ مَا يُرْوَی عَنْ عَلِيٍّ الْکَذِبُ

علی بن جعد شعبہ ایوب ابن سیرین عبیدہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ تم لوگ جس طرح فیصلہ کرتے تھے اسی طرح فیصلہ کیا کرو اس لئے کہ میں اختلاف کو برا سمجھتا ہوں سب لوگ متفق اور ایک جماعت بن جائیں یا پھر مجھے بھی موت آ جائے جس طرح اصحاب کبار نے موت سے ہم آغوشی فرمائی ہے، ابن سیرین کی رائے ہے کہ اکثر روایتیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرم اللہ وجہہ سے منقول ہیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔

Narrated Ubaida: Ali said (to the people of 'Iraq), "Judge as you used to judge, for I hate differences (and I do my best ) till the people unite as one group, or I die as my companions have died." And narrated Sad that the Prophet said to 'Ali, "Will you not be pleased from this that you are to me like Aaron was to Moses?"

Permalink