Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ کَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لَيْسَ شَيْئٌ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ
اسحاق بن نصر، عبدالرزاق، معمر، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ تین راتیں بھی اس حال میں گزریں کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس رہے، جس کو میں نے دین کی ادائیگی کے لئے نہ رکھا ہو اس حال میں کہ ایسے شخص کو پاؤں جو اس کو قبول کرے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "If I had gold equal to the mountain of Uhud, I would love that, before three days had passed, not a single Dinar thereof remained with me if I found somebody to accept it excluding some amount that I would keep for the payment of my debts.''
Narrated by Jabir bin Abdullah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ وَقَدِمْنَا مَکَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ وَلَمْ يَکُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَجَائَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَی مِنًی وَذَکَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ قَالَ وَلَقِيَهُ سُرَاقَةُ وَهُوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً قَالَ لَا بَلْ لِأَبَدٍ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ قَدِمَتْ مَعَهُ مَکَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْسُکَ الْمَنَاسِکَ کُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَطُوفُ وَلَا تُصَلِّي حَتَّی تَطْهُرَ فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَائَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّةٍ قَالَ ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي الْحَجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَجِّ
حسن بن عمر، یزید، حبیب اللہ ، جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے حج کا احرام باندھا، اور ہم لوگ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کریں اور ہم اس کو عمرہ بنا ڈالیں، اور سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی ہو، ہم سب احرام کھول دیں۔ جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ سوائے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور طلحہ کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا، اور حضرت علی یمن سے آئے تھے۔ ان کے پاس ہدی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس چیز کی نیت کی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے لوگوں نے عرض کیا کہ ہم لوگ منی میں کی طرف چلے اس حال میں کہ ہم لوگوں سے منی ٹپک رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں پہلے سے وہ جان لیتا جو بعد میں معلوم ہوا، تو میں ہدی نہ لاتا اور اگر میرے پاس ہدی نہ ہوتی تو میں احرام کھول دیتا، جابر کا بیان ہے کہ سراقہ جس وقت جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے، اور پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ حکم صرف ہم لوگوں کے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے، حضرت عائشہ مکہ پہنچیں تو حیض کی حالت میں تھیں، تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمام ارکان ادا کریں، مگر طواف نہ کریں اور نہ نماز پڑھیں جب تک کہ پاک نہ ہو جائیں، جب لوگ مقام بطحاء میں اترے تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ حج اور عمرہ کر کے واپس ہوں گے، اور میں صرف حج کروں گی آپ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ مقام تنعیم تک جائیں چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایام حج گزرنے کے بعد ذی الحجہ میں عمرہ کیا۔
Narrated Jabir bin Abdullah: We were in the company of Allah's Apostle and we assumed the state of Ihram of Hajj and arrived at Mecca on the fourth of Dhul-Hijja. The Prophet ordered us to perform the Tawaf around the Ka'ba and (Sa'i) between As-Safa and Al-Marwa and use our lhram just for 'Umra, and finish the state of Ihram unless we had our Hadi with us. None of us had the Hadi with him except the Prophet and Talha. 1AIj came from Yemen and brought the Hadi with him. 'Ali said, 'I had assumed the state of Ihram with the same intention as that with which Allah's Apostle had assumed it. The people said, "How can we proceed to Mina and our male organs are dribbling?" Allah's Apostle said, "If I had formerly known what I came to know latterly, I would not have brought the Hadi, and had there been no Hadi with me, I would have finished my Ihram." Suraqa (bin Malik) met the Prophet while he was throwing pebbles at the Jamrat-al-'Aqaba, and asked, "O Allah's Apostle! Is this (permitted) for us only?" The Prophet replied. "No, it is forever" 'Aisha had arrived at Mecca while she was menstruating, therefore the Prophet ordered her to perform all the ceremonies of Hajj except the Tawaf around the Ka'ba, and not to perform her prayers unless and until she became clean . When they encamped at Al-Batha, 'Aisha said, "O Allah's Apostle! You are proceeding after performing both Hajj and 'Umra while I am proceeding with Hajj only?" So the Prophet ordered 'Abdur-Rahman bin Abu Bakr As-Siddiq to go with her to At-Tan'im, and so she performed the 'Umra in Dhul-Hijja after the days of the Hajj.