TrueHadith

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

Sahih BukhariHadith 6064

Narrated by 'Imran

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَائٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَائَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَائَ

عثمان بن ہیثم، عوف، ابورجاء عمران، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا، میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اکثر فقراء کو پایا اور جب دوزخ میں جھانکا تو میں نے دیکھا کہ وہاں زیادہ رہنے والی عورتیں تھیں۔

Narrated 'Imran: The Prophet said, "I looked into paradise and saw that the majority of its people were the poor, and I looked into the Fire and found that the majority of its people were women."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6065

Narrated by Usama

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُمْتُ عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَکَانَ عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاکِينَ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَی النَّارِ وَقُمْتُ عَلَی بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَائُ

مسدد، اسماعیل، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت اسمامہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، (تو دیکھا کہ) وہاں داخل ہونے والے زیادہ تر مسکین تھے، اور مال والے محبوس تھے، سوائے دوزخیوں کے کہ ان کو دوزخ لے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا، اور دوزخ کے دروازے پر کھڑا ہوا، تو دیکھا وہاں داخل ہونے والوں میں اکثر عورتیں تھیں۔

Narrated Usama: The Prophet said, "I stood at the gate of Paradise and saw that the majority of the people who had entered it were poor people, while the rich were forbidden (to enter along with the poor, because they were waiting the reckoning of their accounts), but the people of the Fire had been ordered to be driven to the Fire. And I stood at the gate of the Fire and found that the majority of the people entering it were women."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6066

Narrated by Ibn 'Umar

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَی الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ جِيئَ بِالْمَوْتِ حَتَّی يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَی فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَی حُزْنِهِمْ

معاذ بن اسد عبد اللہ، عمر بن محمد بن زید، محمد بن زید، بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انیوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنت والے جنت میں، اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو موت لائی جائے گی یہاں تک کہ دوزخ اور جنت کے درمیان رکھی جائے گی، پھر ذبح کی جائے گی پھر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ اے جنت والوں! یہاں موت نہیں اے دوزخ والو یہاں موت نہیں! جنت والوں کی خوشی میں اضافہ ہوجائے گا اور دوزخ والوں کا غم بڑھ جائے گا۔

Narrated Ibn 'Umar: Allah's Apostle said, "When the people of Paradise have entered Paradise and the people of the Fire have entered the Fire, death will be brought and will be placed between the Fire and Paradise, and then it will be slaughtered, and a call will be made (that), 'O people of Paradise, no more death ! O people of the Fire, no more death ! ' So the people of Paradise will have happiness added to their previous happiness, and the people of the Fire will have sorrow added to their previous sorrow."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6067

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْکَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَی وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ فَيَقُولُ أَنَا أُعْطِيکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالُوا يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْئٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِکَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْکُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْکُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا

معاذ بن اسد، عبداللہ بن انس، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے جنت والوں وہ لوگ عرض کریں گے، اے پروردگار لبیک و سعد یک، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم لوگ خوش ہو، وہ لوگ کہیں گے ہم کیوں نہ راضی ہوں کہ جب تو نے وہ چیز عطاء کی ہے جو اپنے مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی اللہ تعالی ٰ فرمائے گا کہ تمہیں اس سے بہتر چیز عطاء کروں گا وہ لوگ پوچھیں گے اے رب اس سے بہتر کیا چیز ہے! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر اپنی رضا نازل کروں گا اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہ ہوں گا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: Allah's Apostle said, "Allah will say to the people of Paradise, 'O the people of Paradise!' They will say, 'Labbaik, O our Lord, and Sa'daik!' Allah will say, 'Are you pleased?" They will say, 'Why should we not be pleased since You have given us what You have not given to anyone of Your creation?' Allah will say, 'I will give you something better than that.' They will reply, 'O our Lord! And what is better than that?' Allah will say, 'I will bestow My pleasure and contentment upon you so that I will never be angry with you after for-ever.' "

Permalink

Sahih BukhariHadith 6068

Narrated by Anas

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ أُصِيبَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ فَجَائَتْ أُمُّهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلَةَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ يَکُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ وَإِنْ تَکُنْ الْأُخْرَی تَرَی مَا أَصْنَعُ فَقَالَ وَيْحَکِ أَوَهَبِلْتِ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ کَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ لَفِي جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ

عبداللہ بن محمد، معاویہ بن عمرو، ابواسحاق حمید سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حارثہ بدر کے دن شہید ہوئے تو وہ کمسن تھے ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ جانتے ہیں کہ حارثہ کا مرتبہ میرے دل میں کیا ہے، اگر وہ جنت میں ہوا تو میں صبر کروں گی اور اگر دوسری جگہ ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے ویحک یا ھبلت فرمایا (یعنی احمق) کیا جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ جنت الفردوس میں ہوگا۔

Narrated Anas: Haritha was martyred on the day (of the battle) of Badr while he was young. His mother came to the Prophet saying, "O Allah's Apostle! You know the relation of Haritha to me (how fond of him I was); so, if he is in Paradise, I will remain patient and wish for Allah's reward, but if he is not there, then you will see what I will do." The Prophet replied, "May Allah be merciful upon you! Have you gone mad? (Do you think) it is one Paradise? There are many Paradises and he is in the (most superior) Paradise of Al-Firdaus."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6069

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ مَنْکِبَيْ الْکَافِرِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ للرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا

معاذ بن اسد، فضل بن موسیٰ، فضیل، ابوحازم حضرت ابوہریرہ سے رواتے کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، کہ کافر کے دونوں مونڈھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کے تین دن کی مسافت ہوگی، اور اسحاق بن ابراہیم نے بواسطہ مغیرہ بن سلمہ، وہیب، ابوحازم ، سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہوگا کہ جس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلے گا، اور اس کا سفر کبھی ختم نہ ہوگا، ابوحازم کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہوگا کہ (اس کے سایہ میں) تیز رفتار، پھرگھوڑے پر سوار سو سال تک چلے پھر بھی اس کا سفر ختم نہ ہوگا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "The width between the two shoulders of a Kafir (disbeliever) will be equal to the distance covered by a fast rider in three days."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6070

Narrated by Sahl bin Sa'd

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّی يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ

قتیبہ، عبد العزیز، ابوحازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا (فرمایا) سات لاکھ آدمی جنت میں داخل ہوں گے (ابو حازم کا بیان ہے، کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے ستر ہزار یا سات لاکھ فرمائے) ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں گے، جب تک ان کے پچھلے داخل نہ ہولیں گے، اس وقت تک ان کے اگلے داخل نہ ہوں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔

Narrated Sahl bin Sa'd: Allah's Apostle said, "Seventy thousand or seven hundred thousand of my followers will enter Paradise. (Abu Hazim, the sub-narrator, is not sure as to which of the two numbers is correct.) And they will be holding on to one another, and the first of them will not enter till the last of them has entered, and their faces will be like the moon on a full moon night."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6071

Narrated by Sahl

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ الْغُرَفَ فِي الْجَنَّةِ کَمَا تَتَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ فِي السَّمَائِ قَالَ أَبِي فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ وَيَزِيدُ فِيهِ کَمَا تَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ وَالْغَرْبِيِّ

عبداللہ بن مسلمہ، عبد العزیز، اپنے والد سے وہ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور سہل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جنت والے جنت میں بالاخانہ والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو، میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے نعمان بن ابی عیاش سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا، کہ میں نے ابوسعید کو بیان کرتے ہوئے سنا، اور اتنا زیادہ بیان کیا، کہ جس طرح تم ڈوبنے والے ستارے کو مشرقی اور مغربی افق پر دیکھتے ہو۔

Narrated Sahl: The Prophet said, "The people of Paradise will see the Ghuraf (special abodes) in Paradise as you see a star in the sky." Abu Said added: "As you see a glittering star remaining in the eastern horizon and the western horizon."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6072

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْ أَنَّ لَکَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْکَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِکَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِي

محمد بن بشار، شعبہ، ابوعمران، انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے سے فرمائے گا کہ اگر تمہارے پاس زمین کے برابر کوئی چیز (دولت) ہوتی تو کیا تم اسے دے کر اپنے کو عذاب سے چھڑاتے۔ وہ جواب دے گا ہاں! اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے اس سے ہلکی چیز چاہی تھی، جب کہ تم آدم کے صلب میں تھا۔ وہ یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تو نے انکار کردیا اور میرے ساتھ شریک بنایا۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, "Allah will say to the person who will have the minimum punishment in the Fire on the Day of Resurrection, 'If you had things equal to whatever is on the earth, would you ransom yourself (from the punishment) with it?' He will reply, Yes. Allah will say, 'I asked you a much easier thing than this while you were in the backbone of Adam, that is, not to worship others besides Me, but you refused and insisted to worship others besides Me."'

Permalink

Sahih BukhariHadith 6073

Narrated by Hammad from 'Amr from Jabir

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ کَأَنَّهُمْ الثَّعَارِيرُ قُلْتُ مَا الثَّعَارِيرُ قَالَ الضَّغَابِيسُ وَکَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنْ النَّارِ قَالَ نَعَمْ

ابو النعمان، حماد، عمرو، جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شفاعت کے ذریعہ کچھ لوگ دوزخ سے نکلیں گے، اس طرح کہ وہ ثعاریر ہوں گے۔ میں نے پوچھا ثعاریر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ضغابیس ہے، ان کے منہ جھڑ گئے ہوں گے، حماد کا بیان ہے کہ میں نے عمرو بن دینا سے پوچھا کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لوگ شفاعت کے ذریعہ دوزخ سے نکلیں گے، انہوں نے کہا ہاں!۔

Narrated Hammad from 'Amr from Jabir: The Prophet said, "Some people will come out of the Fire through intercession looking like The Thaarir." I asked 'Amr, "What is the Thaarir?" He said, Ad Daghabis, and at that time he was toothless. Hammad added: I said to 'Amr bin Dinar, "O Abu Muhammad! Did you hear Jabir bin 'Abdullah saying, 'I heard the Prophet saying: 'Some people will come out of the Fire through intercession?" He said, "Yes. "

Permalink

Sahih BukhariHadith 6074

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بَعْدَ مَا مَسَّهُمْ مِنْهَا سَفْعٌ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ

ہدبہ بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ عذاب پانے کے بعد دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہوں گے اور جنت والے ان کو دوزخی پکاریں گے۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, "Some people will come out of the Fire after they have received a touch of the Fire, changing their color, and they will enter Paradise, and the people of Paradise will name them 'Al-Jahannamiyin' the (Hell) Fire people."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6075

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يَقُولُ اللَّهُ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيَخْرُجُونَ قَدْ امْتُحِشُوا وَعَادُوا حُمَمًا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَوْ قَالَ حَمِيَّةِ السَّيْلِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا أَنَّهَا تَنْبُتُ صَفْرَائَ مُلْتَوِيَةً

موسی ، وہیب، عمر بن یحیی ، یحیی ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو، اس کو دوزخ سے نکال لو، چنانچہ ان کو نکالا جائے گا تو وہ کوئلے کی مانند نکلیں گے، تو ان کو نہر حیات میں ڈال دیا جائیگا، اور وہ اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے جیسا کہ دریا کے کنارے کے کوڑے کرکٹ میں تروتازہ دانہ اگتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ دانہ لپٹا ہوا زرد نکلتا ہے۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: Allah's Apostle said, "When the people of Paradise have entered Paradise, and the people of the Fire have entered the Fire, Allah will say. 'Take out (of the Fire) whoever has got faith equal to a mustard seed in his heart.' They will come out, and by that time they would have burnt and became like coal, and then they will be thrown into the river of Al-Hayyat (life) and they will spring up just as a seed grows on the bank of a rainwater stream." The Prophet said, "Don't you see that the germinating seed comes out yellow and twisted?"

Permalink

Sahih BukhariHadith 6076

Narrated by An-Nu'man

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ

محمد بن بشار، غندر، شعبہ، ابواسحاق، نعمان، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا جس کے دونوں پاوں پر چنگاری رکھی ہوئی ہوگی اور اس سے اس کا دماغ کھولتا ہوگا جس طرح ہانڈی جوش مارتی ہے۔

Narrated An-Nu'man: I heard the Prophet saying, "The person who will have the least punishment from amongst the Hell Fire people on the Day of Resurrection, will be a man under whose arch of the feet a smoldering ember will be placed so that his brain will boil because of it."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6077

Narrated by An-Nu'man bin Bashir

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ عَلَی أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ کَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ

عبداللہ بن رجاء، اسر ائیل، ابواسحاق ، نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا جس کے دونوں پاؤں پر دو چنگاریاں رکھی ہوں گی اور ان دونوں کے سبب سے اس کا دماغ اس طرح جوش کھائے گا جس طرح ہانڈی یا گھڑا جوش کھاتا ہے۔

Narrated An-Nu'man bin Bashir: I heard the Prophet saying, "The least punished person of the (Hell) Fire people on the Day of Resurrection will be a man under whose arch of the feet two smoldering embers will be placed, because of which his brain will boil just like Al-Mirjal (copper vessel) or a Qum-qum (narrow-necked vessel) is boiling with water."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6078

Narrated by 'Adi bin Hatim

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا ثُمَّ ذَکَرَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ

سلیمان بن حرب، شعبہ، عمرو خیثمہ، عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا تو اپنا منہ پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی، پھر فرمایا کہ دوزخ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو، اور جس شخص کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی باتوں کے ذریعہ (اس سے بچے) ۔

Narrated 'Adi bin Hatim: The Prophet mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allah's protection from it, and then again he mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allah's protection from it and said, "Protect yourselves from the Hell-Fire, even if with one half of a date, and he who cannot afford that, then (let him do so) by (saying) a good, pleasant word."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6079

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ

ابراہیم بن حمزہ، ابن ابی حازم در اور دی، یزید، عبداللہ بن خباب، حضرت ابوسعید، خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت کام آئے کہ آگ ان کے ٹخنوں تک ہوگی اور اس سے ان کا دماغ کھو لتا ہوگا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: I heard Allah's Apostles when his uncle, Abu Talib had been mentioned in his presence, saying, "May be my intercession will help him (Abu Talib) on the Day of Resurrection so that he may be put in a shallow place in the Fire, with fire reaching his ankles and causing his brain to boil."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6080

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ وَيَقُولُ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا مُوسَی الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا عِيسَی فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ وَقُلْ يُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ثُمَّ أُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا مِثْلَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ حَتَّی مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَکَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ عِنْدَ هَذَا أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ

مسدد، ابوعوانہ، قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا تو لوگ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت اللہ کے دربار میں کرتا، تاکہ ہم اپنی اس جگہ سے نجات پاتے چنانچہ وہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے کہ آپ کو اللہ نے اہنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا چنانچہ انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تو آپ ہمارے پروردگار کی جناب میں ہماری سفارش کریں، آدم علیہ السلام فرمائیں گے میں اس لائق نہیں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے اور فرمائیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ نے معبوث کیا، چنانچہ لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جن کو اللہ نے خلیل بنایا، چنانچہ لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام فرمایا، لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے میں آج اس قابل نہیں اور اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، لوگ عیسیٰ علیہ السلام آئیں تو فرمائیں گے، میں آج اس قابل نہیں تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ہیں تو لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت طلب کروں گا جب میں اللہ کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا جب تک اللہ چاہیے گا مجھ کو (اسی حالت میں) چھوڑ دے گا، پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا اور کہو سنا جائے گا اور شفاعت کرو قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا جو اللہ مجھ کو سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو اللہ میرے لئے حد مقرر فرمائے گا، پھر میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا، پھر میں لوٹ کر آؤں گا اور سجدے میں اسی طرح گر پڑوں گا، تیسری یا چوتھی بار اسی طرح کروں گا، بجز اس کے جس کو قرآن نے روک رکھا ہوگا، اور قتادہ اس کی تفسیر بیان کرتے تھے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے ہمیشہ رہنے کا حکم (قرآن میں) بیان کیا گیا ہے۔

Narrated Anas: Allah's Apostle said, "Allah will gather all the people on the Day of Resurrection and they will say, 'Let us request someone to intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'You are the one whom Allah created with His Own Hands, and breathed in you of His soul, and ordered the angels to prostrate to you; so please intercede for us with our Lord.' Adam will reply, 'I am not fit for this undertaking, and will remember his sin, and will say, 'Go to Noah, the first Apostle sent by Allah' They will go to him and he will say, 'I am not fit for this undertaking', and will remember his sin and say, 'Go to Abraham whom Allah took as a Khalil. They will go to him (and request similarly). He will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and will remember his sin and say, 'Go to Moses to whom Allah spoke directly.' They will go to Moses and he will say, 'I am not fit for this undertaking,' and will remember his sin and say, 'Go to Jesus.' They will go to him, and he will say, 'I am not fit for this undertaking, go to Muhammad as Allah has forgiven his past and future sins.' They will come to me and I will ask my Lord's permission, and when I see Him, I will fall down in prostration to Him, and He will leave me in that state as long as (He) Allah will, and then I will be addressed. 'Raise up your head (O Muhammad)! Ask, and your request will be granted, and say, and your saying will be listened to; intercede, and your intercession will be accepted.' Then I will raise my head, and I will glorify and praise my Lord with a saying(i.e. invocation) He will teach me, and then I will intercede, Allah will fix a limit for me (i.e., certain type of people for whom I may intercede), and I will take them out of the (Hell) Fire and let them enter Paradise. Then I will come back (to Allah) and fall in prostration, and will do the same for the third and fourth times till no-one remains in the (Hell) Fire except those whom the Qur'an has imprisoned therein." (The sub-narrator, Qatada used to say at that point, "...those upon whom eternity (in Hell) has been imposed.") (See Hadith No. 3, Vol 6).

Permalink

Sahih BukhariHadith 6081

Narrated by 'Imran bin Husain

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ

مسدد، یحیی ، حسن بن ذکوان، ابورجاء عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کے ذریعہ سے ایک جماعت دوزخ سے نکلے گی پھر وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن کو (جنت کے رہنے والے) جہنمیوں کے نام سے بلائیں گے۔

Narrated 'Imran bin Husain: The Prophet said, "Some people will be taken out of the Fire through the intercession of Muhammad they will enter Paradise and will be called Al-Jahannamiyin (the Hell Fire people)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6082

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَکَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ غَرْبُ سَهْمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي فَإِنْ کَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْکِ عَلَيْهِ وَإِلَّا سَوْفَ تَرَی مَا أَصْنَعُ فَقَالَ لَهَا هَبِلْتِ أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ کَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَی

قتیبہ، اسماعیل بن جعفر، حمید، حضرت انس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت حارثہ کی والدہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت حارثہ جنگ میں ایک تیر سے شہید ہوگئے انہوں نے عرض کیا کہ رسول اللہ آپ حارثہ کا مقام میرے دل میں جانتے ہیں اگر وہ جنت میں ہوگا تو میں اس پر نہ روؤں گی ورنہ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے فرمایا کہ احمق کیا جنت ایک ہی ہے؟ جنتیں تو بہت سی ہیں وہ فردوس اعلی میں ہوگا۔

Narrated Anas: Um (the mother of) Haritha came to Allah's Apostle after Haritha had been martyred on the Day (of the battle) of Badr by an arrow thrown by an unknown person. She said, "O Allah's Apostle! You know the position of Haritha in my heart (i.e. how dear to me he was), so if he is in Paradise, I will not weep for him, or otherwise, you will see what I will do." The Prophet said, "Are you mad? Is there only one Paradise? There are many Paradises, and he is in the highest Paradise of Firdaus." The Prophet added, "A forenoon journey or an after noon journey in Allah's Cause is better than the whole world and whatever is in it; and a place equal to an arrow bow of anyone of you, or a place equal to a foot in Paradise is better than the whole world and whatever is in it; and if one of the women of Paradise looked at the earth, she would fill the whole space between them (the earth and the heaven) with light, and would fill whatever is in between them, with perfume, and the veil of her face is better than the whole world and whatever is in it."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6083

وَقَالَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَی الْأَرْضِ لَأَضَائَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا يَعْنِي الْخِمَارَ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

اور فرمایا کہ اللہ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اور جنت میں ایک قدم برابر یا کمان کے فاصلہ کے برابر جگہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر جنتی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا کی طرف جھانک کر دیکھے تو ساری زمین روشن ہوجائے، اور خوشبو بکھر جائے اور جنت کی اوڑھنی دنیا اور اس کے اندر کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 6084

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً

ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو شخص بھی داخل ہوگا دوزخ میں اس کا ٹھکانہ اس کو دکھلا دیا جائے گا اگر وہ برائی کرتا، تاکہ وہ زیادہ شکر کرے اور جو شخص بھی دوزخ میں داخل کیا جائے گا اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھلا دیا جائے گا اگر وہ نیکی کرتا تاکہ اس کو حسرت ہو۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "None will enter Paradise but will be shown the place he would have occupied in the (Hell) Fire if he had rejected faith, so that he may be more thankful; and none will enter the (Hell) Fire but will be shown the place he would have occupied in Paradise if he had faith, so that may be a cause of sorrow for him." Narrated Abu Huraira: I said, "O Allah's Apostle! Who will be the luckiest person who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" The Prophet said, "O Abu Huraira! I have thought that none will ask me about this Hadith before you, as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said, 'None has the right to be worshipped but Allah,' sincerely from the bottom of his heart."

Permalink

Sahih BukhariHadith 6085

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْکَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ

قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، عمرو، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون شخص حاصل کرے گا آپ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ میرا خیال تھا کہ کہ تم سے پہلے کوئی شخص مجھ سے اس بات کے متعلق سوال نہیں کرے گا۔ اس سبب سے کہ میں نے تم کو حدیث پر بہت زیادہ حریص دیکھا قیامت کے دن میری شفاعت کا سب سے زیادہ حق حاصل کرنے والا وہ شخص ہوگا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خلوص دل سے کہا ہو۔

-

Permalink

Sahih BukhariHadith 6086

Narrated by 'Abdullah

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ کَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَکَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ تَسْخَرُ مِنِّي أَوْ تَضْحَکُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِکُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَکَانَ يَقُولُ ذَاکَ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ آدمی ہوگا جو دوزخ سے اوندھے منہ نکلے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاو جنت میں داخل ہوجاو وہ جنت میں آئے گا اس کو خیال آئے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے چنانچہ وہ لوٹ کر آئے گا اور عرض کرے گا یا رب میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا وہ جنت میں جائیگا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے چنانچہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا یا رب میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا وہ جنت میں جائیگا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے چنانچہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا کہ میں نے اس کو بھرا ہوا پایا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جا جنت میں داخل ہوجا میں تیرے لیے دنیا کے برابر اور اس کے دس گنا ہے یا فرمایا کہ تیرے لیے دنیا کی مثل دس گنا ہے۔ وہ کہے گا کہ آپ مجھ سے مذاق کرتے ہیں یا ہنسی کرتے ہیں حالانکہ آپ بادشاہ ہیں۔ میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں کا ادنی مرتبہ ہے۔

Narrated 'Abdullah: The Prophet said, "I know the person who will be the last to come out of the (Hell) Fire, and the last to enter Paradise. He will be a man who will come out of the (Hell) Fire crawling, and Allah will say to him, 'Go and enter Paradise.' He will go to it, but he will imagine that it had been filled, and then he will return and say, 'O Lord, I have found it full.' Allah will say, 'Go and enter Paradise, and you will have what equals the world and ten times as much (or, you will have as much as ten times the like of the world).' On that, the man will say, 'Do you mock at me (or laugh at me) though You are the King?" I saw Allah's Apostle (while saying that) smiling that his premolar teeth became visible. It is said that will be the lowest in degree amongst the people of Paradise.

Permalink

Sahih BukhariHadith 6087

Narrated by 'Abbas

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ

مسدد، ابوعوانہ ، عبدالملک ، عبداللہ بن حارث بن نوفل ، حضرت عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطالب کو کچھ فائدہ پہنچایا۔

Narrated 'Abbas: that he said to the Prophet "Did you benefit Abu Talib with anything?"

Permalink

Sahih BukhariHadith 6088

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ وَعَطَائُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُولُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدُعَائُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهِ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ أَمَا رَأَيْتُمْ شَوْکَ السَّعْدَانِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهَا لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ مِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّی إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ عِبَادِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنْ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِمَّنْ کَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ الْمَلَائِکَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ مِنْ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَائٌ يُقَالُ لَهُ مَائُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَی رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَی النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَکَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ فَيَقُولُ لَعَلَّکَ إِنْ أَعْطَيْتُکَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِکَ يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَکَ ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُکَ ذَلِکَ تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ فَيُقَرِّبُهُ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا رَأَی مَا فِيهَا سَکَتَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ثُمَّ يَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَی خَلْقِکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّی يَضْحَکَ فَإِذَا ضَحِکَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا فَإِذَا دَخَلَ فِيهَا قِيلَ لَهُ تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَيَتَمَنَّی ثُمَّ يُقَالُ لَهُ تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَيَتَمَنَّی حَتَّی تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيَقُولُ لَهُ هَذَا لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِکَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا قَالَ عَطَائٌ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی قَوْلِهِ هَذَا لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَفِظْتُ مِثْلُهُ مَعَهُ

ابوالیمان، شعیب، زہری، سعید وعطا بن یزید، ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اپنے پروردگار کو قیامت کے دن دیکھیں گے آپ نے فرمایا کہ تمہیں آفتاب دیکھنے سے نقصان پہنچتا ہے جبکہ اس پر بادل نہ ہوں لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں چاند دیکھنے سے لیلۃ القدر میں تکلیف ہوتی ہے جبکہ اس پر بادل نہ ہوں لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اسی طرح دیکھو گے اللہ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اس کے ساتھ ہوجائے چنانچہ سورج کی عبادت کرنے والا سورج کے ساتھ اور چاند کی عبادت کرنے والا چاند کے ساتھ اور بتوں کی عبادت کرنے والا بتوں کے ساتھ اور یہ امت باقی رہ جائے گی جس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس کے علاوہ صورت میں آئے گا جس میں وہ جانتے تھے پھر اللہ فرمائے گا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم اسی جگہ رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار آۓ گا تو ہم لوگ اس کو پہچان لیں گے پھر اللہ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ جانتے تھے اور کہے گا میں تمہارا پروردگار ہوں وہ لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا پروردگار ہے اور وہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کا پل قائم کیا جائے گا سب سے پہلے میں گزروں گا اور تمام رسولوں کی دعا اس دن اللھم سلم سلم ہوگی اور اس کے ساتھ سعدان کے کانٹے ہوں کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھیں گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹے کی طرح ہوں گے مگر اس کی بڑائی کی مقدر اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ کانتے ان کو ان کے اعمال کے موافق اچک لیں گے ان میں سے بعض اپنے عمل کے باعث ہلاک ہونے والے ہوں گے اور بعض کے اعمال رائی کے برابر ہوں گے وہ نجات پائے گا یہاں تک کہ جب اللہ اپنے بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجائے گا اور لا الہ اللہ کی شہادت دینے والوں میں سے جو شخص کو نکالنا چاہے گا فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان کو جہنم سے نکالیں، فرشتے ان کو سجدے کے نشانات کے باعث پہچان لیں گے اور اللہ نے آگ کو حرام کردیا ہے کہ وہ مسلمان کے سجدے کے نشان کو کھائے۔چنانچہ فرشتے ان کو نکال لیں گے اس حال میں کہ وہ کوئلہ کی طرح ہوں گے پھر ان پر پانی بہایا جائے گا جسے ماء الحیات کہا جاتا ہے اور وہ اس طرح تروتازہ ہوجائیں گے کہ جس طرح کہ دریا کے کنارے کوڑے کرکٹ میں دانہ لگتا ہے ایک شخص دوزخ کی طرف رخ کرکے کھڑا رہے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار اس کی ہوا نے جھلسادیا ہے اور اس کی چمک نے جلادیا ہے اس لیے میراچہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے پس وہ اللہ سے دعار کرتا رہے گا اللہ فرمائیں گے کہ اگر میں تم کو یہ دیدوں تو مجھے امید ہے کہ تو اس کے علاوہ بھی مانگے گا وہ عرض کرے گا کہ تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا چنانچہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا پھر اس کے بعد عرض کرے گا کہ اے رب مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا اللہ فرمائیں گے کیا تو نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا اے آدم تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے عہد شکنی کی وہ اسی طرح دعا کرتا رہے گا اللہ فرمائے گا کہ مجھے امید ہے کہ اگر میں تجھ کو یہ دیدوں تو اس کے علاوہ تو مجھ سے سوال نہ کرے گا وہ شخص عرض کرے گا کہ تیری عزت کی قسم اب اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی سوال نہ کروں گا پھر اللہ سے عہدو پیمان باندھے گا کہ اس کے سوا کچھ نہیں سوال کرے گا پس اللہ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کردے گا پس جب اس چیز کو دیکھے گا جو جنت میں ہے تو جب تک اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا پھر عرض کیا یا رب مجھے جنت میں داخل کردے۔ پھر اللہ فرمائیں گے کہ تو نے نہیں کہا تھا کہ اب اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا افسوس اے ابن آدم۔ تو نے وعدہ خلاف کیا وہ عرض کرے یا رب مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہ بنا۔ وہ اسی طرح دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنسے گا جب اللہ ہنسے گا تو جنت میں داخل کردے گا جب وہ جنت میں داخل ہوجائے گا تو اللہ فرمائیں گے کہ اپنی آرزو بیان کر چنانچہ وہ آرزو بیان کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہوجائے گا تو اللہ اس سے فرمائے گا کہ یہ تیری آرزو ہے اور اتنا ہی اور بھی۔ ابوہریرہ نے کہا کہ یہ مرد جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والوں میں ہوگا۔ عطاء کا بیان ہے کہ ابوسعید خدری ابوہریرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حدیث میں کوئی اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ جب ھذالک ومثلہ معہ تک پہنچے تو ابوسعید نے کہا کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ھذا وعشر وامثالہ۔ ابوہریرہ نے کہا کہ میں نے مثلہ معہ کو یاد رکھا۔

Narrated Abu Huraira: Some people said, "O Allah's Apostle! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Apostle." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Apostle!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow it, and he who used to worship false deities will follow them; and then only this nation (i.e., Muslims) will remain, including their hypocrites. Allah will come to them in a shape other than they know and will say, 'I am your Lord.' They will say, 'We seek refuge with Allah from you. This is our place; (we will not follow you) till our Lord comes to us, and when our Lord comes to us, we will recognize Him. Then Allah will come to then in a shape they know and will say, "I am your Lord.' They will say, '(No doubt) You are our Lord,' and they will follow Him. Then a bridge will be laid over the (Hell) Fire." Allah's Apostle added, "I will be the first to cross it. And the invocation of the Apostles on that Day, will be 'Allahukka Sallim, Sallim (O Allah, save us, save us!),' and over that bridge there will be hooks Similar to the thorns of As Sa'dan (a thorny tree). Didn't you see the thorns of As-Sa'dan?" The companions said, "Yes, O Allah's Apostle." He added, "So the hooks over that bridge will be like the thorns of As-Sa-dan except that their greatness in size is only known to Allah. These hooks will snatch the people according to their deeds. Some people will be ruined because of their evil deeds, and some will be cut into pieces and fall down in Hell, but will be saved afterwards, when Allah has finished the judgments among His slaves, and intends to take out of the Fire whoever He wishes to take out from among those who used to testify that none had the right to be worshipped but Allah. We will order the angels to take them out and the angels will know them by the mark of the traces of prostration (on their foreheads) for Allah banned the f ire to consume the traces of prostration on the body of Adam's son. So they will take them out, and by then they would have burnt (as coal), and then water, called Maul Hayat (water of life) will be poured on them, and they will spring out like a seed springs out on the bank of a rainwater stream, and there will remain one man who will be facing the (Hell) Fire and will say, 'O Lord! It's (Hell's) vapor has Poisoned and smoked me and its flame has burnt me; please turn my face away from the Fire.' He will keep on invoking Allah till Allah says, 'Perhaps, if I give you what you want), you will ask for another thing?' The man will say, 'No, by Your Power, I will not ask You for anything else.' Then Allah will turn his face away from the Fire. The man will say after that, 'O Lord, bring me near the gate of Paradise.' Allah will say (to him), 'Didn't you promise not to ask for anything else? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' The man will keep on invoking Allah till Allah will say, 'But if I give you that, you may ask me for something else.' The man will say, 'No, by Your Power. I will not ask for anything else.' He will give Allah his covenant and promise not to ask for anything else after that. So Allah will bring him near to the gate of Paradise, and when he sees what is in it, he will remain silent as long as Allah will, and then he will say, 'O Lord! Let me enter Paradise.' Allah will say, 'Didn't you promise that you would not ask Me for anything other than that? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' On that, the man will say, 'O Lord! Do not make me the most wretched of Your creation,' and will keep on invoking Allah till Allah will smile and when Allah will smile because of him, then He will allow him to enter Paradise, and when he will enter Paradise, he will be addressed, 'Wish from so-and-so.' He will wish till all his wishes will be fulfilled, then Allah will say, All this (i.e. what you have wished for) and as much again therewith are for you.' " Abu Huraira added: That man will be the last of the people of Paradise to enter (Paradise). Narrated 'Ata (while Abu Huraira was narrating): Abu Said was sitting in the company of Abu Huraira and he did not deny anything of his narration till he reached his saying: "All this and as much again therewith are for you." Then Abu Sa'id said, "I heard Allah's Apostle saying, 'This is for you and ten times as much.' " Abu Huraira said, "In my memory it is 'as much again therewith.' "

Permalink