TrueHadith

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے زندگی گزارنے اور دنیا ( کی لذتوں) سے علیحدہ رہنے کا بیان ۔

Sahih BukhariHadith 5971

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ بِنَحْوٍ مِنْ نِصْفِ هَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ يَقُولُ أَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ کُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِکَبِدِي عَلَی الْأَرْضِ مِنْ الْجُوعِ وَإِنْ کُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِي مِنْ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَی طَرِيقِهِمْ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَمَرَّ أَبُو بَکْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي فَمَرَّ فَلَمْ يَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي وَمَا فِي وَجْهِي ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا هِرٍّ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْحَقْ وَمَضَی فَتَبِعْتُهُ فَدَخَلَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لِي فَدَخَلَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ قَالُوا أَهْدَاهُ لَکَ فُلَانٌ أَوْ فُلَانَةُ قَالَ أَبَا هِرٍّ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْحَقْ إِلَی أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي قَالَ وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَی أَهْلٍ وَلَا مَالٍ وَلَا عَلَی أَحَدٍ إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَکَهُمْ فِيهَا فَسَائَنِي ذَلِکَ فَقُلْتُ وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ کُنْتُ أَحَقُّ أَنَا أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّی بِهَا فَإِذَا جَائَ أَمَرَنِي فَکُنْتُ أَنَا أُعْطِيهِمْ وَمَا عَسَی أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ يَکُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنْ الْبَيْتِ قَالَ يَا أَبَا هِرٍّ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُذْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّی يَرْوَی ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ فَأُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّی يَرْوَی ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ فَيَشْرَبُ حَتَّی يَرْوَی ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ کُلُّهُمْ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَی يَدِهِ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ أَبَا هِرٍّ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ قُلْتُ صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْعُدْ فَاشْرَبْ فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ فَقَالَ اشْرَبْ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ اشْرَبْ حَتَّی قُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَکًا قَالَ فَأَرِنِي فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّی وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ

ابونعیم، عمر بن ذر، مجاہد، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور بھوک کے سبب سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، میں ایک دن اس راستہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے تو میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی اور میں نے صرف اس غرض سے پوچھا تھا کہ مجھ کو کھانا کھلا دیں، وہ گزر گئے اور انہوں نے نہیں کیا (یعنی نہیں کھلایا) پھر میرے پاس سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گزرے ان سے بھی کتاب اللہ کی آیت پوچھی، میں نے صرف اس غرض سے پوچھا تھا کہ مجھ کو کھانا کھلادیں، وہ بھی گزرگئے، اور مجھ کو کھانا نہیں کھلایا، پھر میرے پاس سے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے، جب آپ نے مجھ کو دیکھا تو مسکرائے اور میرے دل میں (جو بات تھی اسے میرے چہرے سے آپ نے پہچان لیا) پھر فرمایا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا ساتھ چلو، اور آپ آگے بڑھے، میں بھی آپ کے پیچھے ہولیا، آپ گھر میں داخل ہوئے، میں نے بھی داخل ہونے کی اجازت چاہی، مجھے بھی اجازت ملی، جب آپ اندر تشریف لے گئے تو آپ نے ایک پیالہ میں دودھ دیکھا تو دریافت فرمایا یہ کہاں سے آیا ہے، لوگوں نے بتایا کہ فلاں مرد یا فلاں عورت نے آپ کو ہدیہ بھیجا ہے، آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کیا، لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، وہ کسی گھر میں اور نہ کسی مال اور نہ کسی آدمی کے پاس جاتے تھے (یعنی رہنے اور کھانے کا کوئی وسیلہ نہیں تھا) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو آپ ان کے پاس بھیج دیتے، اور آپ اس میں سے کچھ بھی نہ لیتے، اور جب آپ کے پاس ہدیہ آتا تو آپ ان کے پاس بھی بھیجتے اور آپ بھی لیتے۔ اور ان کو اس میں شریک کرتے۔ مجھے برامعلوم ہوا اور اپنے جی میں کہا کہ اتنا دودھ اہل صفہ کو کس طرح کافی ہوگا میں اس کا زیادہ مستحق ہوں کہ اسے پیوں، تاکہ سیری حاصل ہو، جب اہل صفہ آئیں گے تو یہ دودھ انہیں دے دوں گا، اور، میرے لئے کچھ بھی نہیں بچے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا چنانچہ میں اصحاب صفہ کے پاس آیا۔ اور ان کو بلا لایا، ان لوگوں نے اجازت چاہی جب اجازت ملی تو اندر آکر اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا لو اور ان لوگوں میں تقسیم کردو، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے پیالہ لیا، ایک شخص کو دیا جب وہ سیر ہو کر پی چکا تو اس نے پیالہ مجھے دیدیا میں نے وہ پیالہ دوسرے کو دیا اس نے بھی خوب سیر ہو کر پیا، پھر پیالہ مجھے دیدیا (اس طرح سب پی چکے تو) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری آگئی تمام لوگ پی چکے تھے۔ آپ نے پیالہ لیا اور اپنے ہاتھ میں رکھا، میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اے ابوہریرہ میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا اب میں اور تم باقی رہ گئے میں نے کہا، آپ نے سچ فرمایا یا رسول اللہ ، آپ نے فرمایا بیٹھ اور پی، میں بیٹھ گیا اور پینے لگا، آپ فرماتے جاتے اور پی اور پی، یہاں تک کہ میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب گنجائش نہیں، آپ نے فرمایا پیالہ مجھے دکھاؤ میں نے وہ پیالہ آپ کو دیدیا،۔ آپ نے خدا کا شکر ادا کیا اور بسم اللہ کہہ کر بچے ہوئے دودھ کو پی گئے۔

Narrated Abu Huraira: By Allah except Whom none has the right to- be worshipped, (sometimes) I used to lay (sleep) on the ground on my liver (abdomen) because of hunger, and (sometimes) I used to bind a stone over my belly because of hunger. One day I sat by the way from where they (the Prophet and h is companions) used to come out. When Abu Bakr passed by, I asked him about a Verse from Allah's Book and I asked him only that he might satisfy my hunger, but he passed by and did not do so. Then Umar passed by me and I asked him about a Verse from Allah's Book, and I asked him only that he might satisfy my hunger, but he passed by without doing so. Finally Abu-l-Qasim (the Prophet ) passed by me and he smiled when he saw me, for he knew what was in my heart and on my face. He said, "O Aba Hirr (Abu Huraira)!" I replied, "Labbaik, O Allah's Apostle!" He said to me, "Follow me." He left and I followed him. Then he entered the house and I asked permission to enter and was admitted. He found milk in a bowl and said, "From where is this milk?" They said, "It has been presented to you by such-and-such man (or by such and such woman)." He said, "O Aba Hirr!" I said, "Labbaik, O Allah's Apostle!" He said, "Go and call the people of Suffa to me." These people of Suffa were the guests of Islam who had no families, nor money, nor anybody to depend upon, and whenever an object of charity was brought to the Prophet , he would send it to them and would not take anything from it, and whenever any present was given to him, he used to send some for them and take some of it for himself. The order off the Prophet upset me, and I said to myself, "How will this little milk be enough for the people of As-Suffa?" thought I was more entitled to drink from that milk in order to strengthen myself, but behold! The Prophet came to order me to give that milk to them. I wondered what will remain of that milk for me, but anyway, I could not but obey Allah and His Apostle so I went to the people of As-Suffa and called them, and they came and asked the Prophet's permission to enter. They were admitted and took their seats in the house. The Prophet said, "O Aba-Hirr!" I said, "Labbaik, O Allah's Apostle!" He said, "Take it and give it to them." So I took the bowl (of Milk) and started giving it to one man who would drink his fill and return it to me, whereupon I would give it to another man who, in his turn, would drink his fill and return it to me, and I would then offer it to another man who would drink his fill and return it to me. Finally, after the whole group had drunk their fill, I reached the Prophet who took the bowl and put it on his hand, looked at me and smiled and said. "O Aba Hirr!" I replied, "Labbaik, O Allah's Apostle!" He said, "There remain you and I." I said, "You have said the truth, O Allah's Apostle!" He said, "Sit down and drink." I sat down and drank. He said, "Drink," and I drank. He kept on telling me repeatedly to drink, till I said, "No. by Allah Who sent you with the Truth, I have no space for it (in my stomach)." He said, "Hand it over to me." When I gave him the bowl, he praised Allah and pronounced Allah's Name on it and drank the remaining milk.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5972

Narrated by Sa'd

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَی بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ کَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَی الْإِسْلَامِ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي

مسدد، یحیی، اسماعیل، قیس، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ عربوں میں سب سے پہلا شخص میں ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔ ہم جہاد کرتے تھے مگر ہمارے پاس حبلہ کے پتوں اور جھاؤ کے درخت کے سوا کوئی چیز کھانے کی نہ تھی، اور ہمارے آدمیوں کو بکری کی سی مینگنیاں آتی تھیں، پھر بنو اسد اسلام لائے اور اب مجھ کو اسلام پر ملامت کرنے لگے، گویا ہماری اسوقت کی کوشش رائیگاں گئی۔

Narrated Sa'd: I was the first man among the Arabs to throw an arrow for Allah's Cause. We used to fight in Allah's Cause while we had nothing to eat except the leaves of the Hubla and the Sumur trees (desert trees) so that we discharged excrement like that of sheep (i.e. unmixed droppings). Today the (people of the) tribe of Bani Asad teach me the laws of Islam. If so, then I am lost, and all my efforts of that hard time had gone in vain.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5973

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّی قُبِضَ

عثمان، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں، کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل نے سیر ہو کر تین رات متواتر گیہوں کی روٹی نہیں کھائی۔ جب سے کہ آپ مدینہ میں تشریف لائے، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔

Narrated 'Aisha: The family of Muhammad had never eaten their fill of wheat bread for three successive days since they had migrated to Medina till the death of the Prophet.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5974

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ الْأَزْرَقُ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ عَنْ هِلَالٍ الْوَزَّانِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا أَکَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْلَتَيْنِ فِي يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ

اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمن، اسحاق ازرق، مسعر بن کدام، ہلال، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا، جن کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی،

Narrated 'Aisha: The bed mattress of the Prophet was made of a leather case stuffed with palm fibres.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5975

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَائٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ وَحَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ

احمد بن رجاء، نضر، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ کا بستر چمڑے کا تھا، جن کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔

Narrated 'Aisha: The bed mattress of the Prophet was made of a leather case stuffed with palm fibres.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5976

Narrated by Qatada

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ کُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ وَقَالَ کُلُوا فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّی لَحِقَ بِاللَّهِ وَلَا رَأَی شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ

ہدبہ بن خالد، ہمام بن یحیی، حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا ب اور چی ان کے پاس کھڑا تھا، انہوں نے کہا کہ کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتلی روٹی دیکھی تھی، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جاملے اور نہ آپ نے اپنی آنکھوں سے بھنی ہوئی بکری کبھی دیکھی تھی

Narrated Qatada: We used to go to Anas bin Malik and see his baker standing (preparing the bread). Anas said, "Eat. I have not known that the Prophet ever saw a thin well-baked loaf of bread till he died, and he never saw a roasted sheep with his eyes."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5977

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نُوقِدُ فِيهِ نَارًا إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَائُ إِلَّا أَنْ نُؤْتَی بِاللُّحَيْمِ

محمد بن مثنی، یحیی، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگوں کو آگ جلائے ایک ایک مہینہ گزر جاتا تھا، صرف کھجوریں اور پانی استعمال کرتے تھے، مگر یہ کہ تھوڑا سا گوشت ہم لوگوں کے پاس آجاتا تھا تو اس کو پکا لیتے۔

Narrated 'Aisha: A complete month would pass by during which we would not make a fire (for cooking), and our food used to be only dates and water unless we were given a present of some meat.

Permalink

Sahih BukhariHadith 5978

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ ابْنَ أُخْتِي إِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ مَا کَانَ يُعِيشُکُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَائُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ لَهُمْ مَنَائِحُ وَکَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْيَاتِهِمْ فَيَسْقِينَاهُ

عبدالعزیزبن عبداللہ اویسی، ابن ابی حازم، ابوحازم ، یزید بن رومان، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عروہ سے کہا کہ اے میرے بھانجے ہم لوگ دو مہینوں میں تین چاند دیکھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں آگ ہی سلگتی تھی، عروہ کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا پھر زندگی کس طرح گزرتی تھی، انہوں نے کہا کہ چھوہارے اور پانی سے مگر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند انصاری پڑوسی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ (ہدیتہ) بھیجا کرتے تھے، اور آپ وہ ہم لوگوں کو پلا دیتے تھے۔

Narrated 'Aisha: that she said to Urwa, "O, the son of my sister! We used to see three crescents in two months, and no fire used to be made in the houses of Allah's Apostle (i.e. nothing used to be cooked)." 'Urwa said, "What used to sustain you?" 'Aisha said, "The two black things i.e. dates and water, except that Allah's Apostle had neighbors from the Ansar who had some milch she-camels, and they used to give the Prophet some milk from their house, and he used to make us drink it."

Permalink

Sahih BukhariHadith 5979

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْزُقْ آلَ مُحَمَّدٍ قُوتًا

عبداللہ بن محمد، محمد بن فضیل، فضیل، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ آل محمد کو قوت لایموت دے (یعنی صرف اتنا جس سے ان کا گزر ہوسکے) ۔

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "O Allah! Give food to the family of Muhammad."

Permalink