Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ لَهُمْ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي عَرَبِيَّةٍ مِنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوهَا بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا
ابو الیمان، شعیب، زہری، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعید بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ قرآن کو مصاحف میں لکھیں اور ان سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت میں قرآن کی عربیت میں اختلاف ہو تو اس کو قریش کی زبان میں لکھو اس لئے کہ قرآن ان کی زبان میں نازل ہوا ہے چنانچہ ان لوگوں نے اسی طرح کیا۔
Narrated Anas bin Malik: (The Caliph 'Uthman ordered Zaid bin Thabit, Said bin Al-As, 'Abdullah bin Az-Zubair and 'Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hisham to write the Quran in the form of a book (Mushafs) and said to them. "In case you disagree with Zaid bin Thabit (Al-Ansari) regarding any dialectic Arabic utterance of the Quran, then write it in the dialect of Quraish, for the Quran was revealed in this dialect." So they did it.
Narrated by Safwan bin Ya'la bin Umaiya
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ وَقَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ يَعْلَی کَانَ يَقُولُ لَيْتَنِي أَرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَلَمَّا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ عَلَيْهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَائَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَی يَعْلَی أَنْ تَعَالَ فَجَائَ يَعْلَی فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ کَذَلِکَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنْ الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيئَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِکَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّکَ
ابو نعیم، ہمام، عطاء، (دوسری سند) مسدد، یحیی ، ابن جریج عطار، صفوان بن یعلی بن امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ یعلی کہا کرتے تھے کاش میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تھے ایک کپڑا آپ کے اوپر تھا جو آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے اتنے میں ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جو خوشبو سے لتھڑا ہوا تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے جبہ میں حج کا احرام باندھا ہو اور وہ خوشبو سے لتھڑا ہوا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر انتظار کیا تو آپ پر وحی آئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یعلی کو اشارہ سے کہا کہ یہاں آؤ یعلی آئے اور اپنا سر اندر داخل کیا تو دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ سرخ تھا اور خر اٹے کی آواز نکل رہی تھی تھوڑی دیر تک آپ کی یہی حالت رہی پھر یہ کیفیت آپ سے دور ہوئی تو آپ نے فرمایا وہ آدمی کہاں ہے؟ جو ابھی عمرہ کے متعلق پوچھ رہا تھا ایک شخص نے اس کو ڈھونڈا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا آپ نے فرمایا کہ وہ خوشبو جو تجھ پر لگی ہوئی ہے اسے تین بار دھو دے اور جبہ کو اتار دے پھر عمرہ میں وہی افعال کر جو حج میں کرتا ہے۔
Narrated Safwan bin Ya'la bin Umaiya: Ya'la used to say, "I wish I could see Allah's Apostle at the time he is being inspired Divinely." When the Prophet was at Al-Ja'rana and was shaded by a garment hanging over him and some of his companions were with him, a man perfumed with scent came and said, "O Allah's Apostle! What is your opinion regarding a man who assumes Ihram and puts on a cloak after perfuming his body with scent?" The Prophet waited for a while, and then the Divine Inspiration descended upon him. 'Umar pointed out to Ya'la, telling him to come. Ya'la came and pushed his head (underneath the screen which was covering the Prophet ) and behold! The Prophet's face was red and he kept on breathing heavily for a while and then he was relieved. Thereupon he said, "Where is the questioner who asked me about 'Umra a while ago?" The man was sought and then was brought before the Prophet who said (to him), "As regards the scent which you perfumed your body with, you must wash it off thrice, and as for your cloak, you must take it off; and then perform in your 'Umra all those things which you perform in Hajj."