TrueHadith

چھپے ہوئے آدمی کی گواہی کا بیان اور اس کو عمرو بن حریث نے جائز کہا ہے اور کہا کہ جھوٹے اور دغا باز آدمی کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے شعبی ابن سیرین عطاء اور قتادہ نے کہا کہ سن لینا گواہی ہے اور حسن بصری نے کہا کہ وہ اس طرح کہے کہ ان لوگوں نے مجھے گواہ نہیں بنایا لیکن میں نے ایسا ایسا سنا ہے۔

Sahih BukhariHadith 2444

Narrated by Abdullah bin Umar

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّی إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ أَيْ صَافِ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَی ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ

ابو الیمان شعیب زہری سالم عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب انصاری اس باغ کے ارادہ سے روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ درختوں کی آڑ میں چھپ چھپ کر چلنے لگے تاکہ ابن صیاد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ نہ سکے اور اس کی بات سن لیں اور ابن صاید اپنے فرش پر ایک چادر میں اپنا منہ لپیٹے ہوئے لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا لیکن ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اس حال میں کہ آپ درختوں کی آڑ میں چلے آرہے تھے تو اس کی ماں نے پکار کر کہا کہ اے صاف! یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آگئے ابن صیاد یہ سن کر خاموش ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو حال معلوم ہوجاتا۔

Narrated Abdullah bin Umar: Allah's Apostle and Ubai bin Kab Al-Ansari went to the garden where Ibn Saiyad used to live. When Allah's Apostle entered (the garden), he (i.e. Allah's Apostle ) started hiding himself behind the datepalms as he wanted to hear secretly the talk of Ibn Saiyad before the latter saw him. Ibn Saiyad wrapped with a soft decorated sheet was lying on his bed murmuring. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet hiding behind the stems of the date-palms. She addressed Ibn Saiyad saying, "O Saf, this is Muhammad." Hearing that Ibn Saiyad stopped murmuring (or got cautious), the Prophet said, "If she had left him undisturbed, he would have revealed his reality." (See Hadith No. 290, Vol 4 for details)

Permalink

Sahih BukhariHadith 2445

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَائَتْ امْرَأَةُ رِفاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَقَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ وَأَبُو بَکْرٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَی هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن محمد سفیان زہری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رفاعہ قرضی کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی انہوں نے مجھے طلاق بتہ یعنی تین طلاقیں دے دیں پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا لیکن ان کے پاس کپڑے کے حاشیے کی طرح ہے (یعنی نامرد ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو رفاعہ کے پاس پھر جانا چاہتی ہے یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تو عبدالرحمن سے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص دروازے پر حاضری کی اجازت کے منتظر تھے خالد نے کہا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا تم اس عورت کی بات نہیں سنتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بآواز بلند بات کر رہی ہے۔

Narrated Aisha: The wife of Rifa'a Al-Qurazi came to the Prophet and said, "I was Rifa'a's wife, but he divorced me and it was a final irrevocable divorce. Then I married AbdurRahman bin Az-Zubair but he is impotent." The Prophet asked her 'Do you want to remarry Rifa'a? You cannot unless you had a complete sexual relation with your present husband." Abu Bakr was sitting with Allah's Apostle and Khalid bin Said bin Al-'As was at the door waiting to be admitted. He said, "O Abu Bakr! Do you hear what this (woman) is revealing frankly before the Prophet ?"

Permalink