TrueHadith

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الموت میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بغرض جہاد امیر لشکر بنا کر روانہ فرمانے کا بیان

Sahih BukhariHadith 4108

Narrated by Salim's father

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ فَقَالُوا فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّکُمْ قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ وَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ

ابو عاصم ضحاک بن مخلد، فضیل بن سلیمان موسیٰ بن عقبہ سالم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید کو سردار لشکر بنا کر جب ملک شام کی طرف روانہ کیا، تو لوگوں میں کچھ چرچا ہونے لگا، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں جانتا ہوں، جو تم کہہ رہے ہو، حالانکہ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ کو تم میں سب سے زیادہ پسند ہے۔

Narrated Salim's father: The Prophet appointed Usama as the commander of the troops (to be sent to Syria). The Muslims spoke about Usama (unfavorably ). The Prophet said, " I have been informed that you spoke about Usama. (Let it be known that ) he is the most beloved of all people to me."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4109

Narrated by Abdullah bin 'Umar

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ کُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ کَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ

اسماعیل مالک عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرداری میں روم کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس لشکر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے حضرات بھی شامل تھے، اسامہ کی سرداری پر بعض لوگوں نے چہ میوگوئیاں شروع کردیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ تمہاری یہ روش یعنی اسامہ بن زید پر اعتراض کوئی قابل تعجب نہیں ہے، تم اس سے پہلے اس کے باپ پر بھی اعتراض کر چکے ہو، خدا کی قسم! وہ سرداری کے لائق تھے اور مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے، اسی طرح اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مجھ کو پسند ہیں۔

Narrated Abdullah bin 'Umar: Allah's Apostle sent troops appointed Usama bin Zaid as their commander. The people criticized his leadership. Allah's Apostle got up and said, "If you (people) are criticizing his (i.e. Usama's) leadership you used to criticize the leadership of his father before. By Allah, he (i.e. Zaid) deserved the leadership indeed, and he used to be one of the most beloved persons to me, and now this (i.e. his son, Usama) is one of the most beloved persons to me after him."

Permalink