TrueHadith

غزوہ سیف البحر (ساحل سمندر) کا بیان اور وہ (اسی جنگ میں) قافلہ قریش کے منتظر تھے اور مسلمانوں کے امیر ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

Sahih BukhariHadith 4012

Narrated by Wahab bin Kaisan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ فَخَرَجْنَا وَکُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ فَجُمِعَ فَکَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ فَکَانَ يَقُوتُنَا کُلَّ يَوْمٍ قَلِيلٌ قَلِيلٌ حَتَّی فَنِيَ فَلَمْ يَکُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ فَقُلْتُ مَا تُغْنِي عَنْکُمْ تَمْرَةٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَی الْبَحْرِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ فَأَکَلَ مِنْهَا الْقَوْمُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا

اسماعیل، مالک، وہب بن کیسان، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر بنا کر تین سو آدمیوں کا ایک لشکر ساحل کی طرف بھیجا ہم چل پڑے ہم راستہ ہی میں تھے کہ زاد راہ ختم ہوگیا ابوعبیدہ نے تمام لشکر کے تو شے حکم دے کر جمع کر لیئے تو وہ کھجور کے دو تھیلے ہوئے ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں روز تھوڑا تھوڑا دیتے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگیا اب ہمیں ایک ایک کھجور ملنے لگی تو میں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا ایک کھجور سے کیا پیٹ بھرتا ہوگا جابر نے کہا اس ایک کھجور کے ملنے کی حقیقت جب معلوم ہوئی کہ جب وہ بھی ختم ہوگئی یہاں تک کہ ہم (ساحل) سمندر پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ ایک مچھلی پہاڑی کی طرح موجود ہے اس لشکر نے وہ مچھلی اٹھارہ دن تک کھائی پھر ابوعبیدہ (رضی اللہ عنہ) نے اس مچھلی کی دو پسلیاں کھڑی کرائیں اور ایک سواری کو اس کے نیچے سے گزارا تو بغیر اس کے لگے ہوئے سواری نیچے سے صاف نکل گئی۔

Narrated Wahab bin Kaisan: Jabir bin Abdullah said, "Allah's Apostle sent troops to the sea coast and appointed Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah as their commander, and they were 300 (men). We set out, and we had covered some distance on the way, when our journey food ran short. So Abu 'Ubaida ordered that all the food present with the troops be collected, and it was collected. Our journey food was dates, and Abu Ubaida kept on giving us our daily ration from it little by little (piecemeal) till it decreased to such an extent that we did not receive except a date each." I asked (Jabir), "How could one date benefit you?" He said, "We came to know its value when even that finished." Jabir added, "Then we reached the sea (coast) where we found a fish like a small mountain. The people (i.e. troops) ate of it for 18 nights (i.e. days). Then Abu 'Ubaida ordered that two of its ribs be fixed on the ground (in the form of an arch) and that a she-camel be ridden and passed under them. So it passed under them without touching them."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4013

Narrated by Jabir bin 'Abdullah

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاکِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّی أَکَلْنَا الْخَبَطَ فَسُمِّيَ ذَلِکَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ فَأَلْقَی لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَکَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَکِهِ حَتَّی ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَی أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ قَالَ جَابِرٌ وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ وَکَانَ عَمْرٌو يَقُولُ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ لِأَبِيهِ کُنْتُ فِي الْجَيْشِ فَجَاعُوا قَالَ انْحَرْ قَالَ نَحَرْتُ قَالَ ثُمَّ جَاعُوا قَالَ انْحَرْ قَالَ نَحَرْتُ قَالَ ثُمَّ جَاعُوا قَالَ انْحَرْ قَالَ نَحَرْتُ ثُمَّ جَاعُوا قَالَ انْحَرْ قَالَ نُهِيتُ

علی بن عبداللہ، سفیان، عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم تین سو سواروں پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر بنا کر قریش کے قافلہ کی گھات میں بھیجا تھا ہم ساحل پر پندرہ دن ٹھہرے وہاں سخت بھوک نے ہم پر غلبہ کیا یہاں تک کہ ہم نے پتے کھا کر گزارا کیا اسی لئے اسے جیش الخبط (پتوں والا لشکر) کہتے ہیں سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی باہر پھینک دی تو اسے ہم نے پندرہ دن تک کھایا اور ہمیں اس کی چربی ملی تو ہمارے جسم اپنی اصلی حالت (فربہی) پر آ گئے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کرائی سفیان نے کبھی ضلعاً من اضلاعہ روایت کیا، پھر اپنے ساتھیوں میں سب سے لمبے آدمی کو اونٹ پر بٹھا کر گزارا۔ تو وہ اس کے نیچے سے صاف گزر گیا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ لشکر کے ایک آدمی نے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین ذبح کئے پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے منع کردیا عمرو نے بواسطہ ابوصالح قیس بن سعد ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں بھی اس لشکر میں تھا جب سخت بھوک لگی تو حضرت سعد نے ان سے کہا کہ اونٹ ذبح کرو وہ کہتے ہیں کہ میں نے ذبح کردیا، جب پھر بھوک لگی تو انہوں نے پھر کہا کہ اونٹ ذبح کرو میں نے پھر ذبح کردیا، جب پھر بھوک لگی تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو میں نے پھر ذبح کردیا، پھر جب بھوک لگی تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو تو میں نے کہہ دیا کہ مجھے منع کردیا گیا ہے۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah: Allah's Apostle sent us who were three-hundred riders under the command of Abu Ubaida bin Al-Jarrah in order to watch the caravan of the Quraish pagans. We stayed at the seashore for half a month and were struck with such severe hunger that we ate even the Khabt (i.e. the leaves of the Salam, a thorny desert tree), and because of that, the army was known as Jaish-ul-Khabt. Then the sea threw out, an animal (i.e. a fish) called Al-'Anbar and we ate of that for half a month, and rubbed its fat on our bodies till our bodies returned to their original state (i.e. became strong and healthy). Abu Ubaida took one of its ribs, fixed it on the ground; then he went to the tallest man of his companions (to let him pass under the rib). Once Sufyan said, "He took a rib from its parts and fixed it, and then took a man and camel and they passed from underneath it (without touching it). " Jabir added: There was a man amongst the people who slaughtered three camels and then slaughtered another three camels and then slaughtered other three camels, and then Abu 'Ubaida forbade him to do so. Narrated Abu Salih: Qais bin Sad said to his father. "I was present in the army and the people were struck with severe hunger." He said, "You should have slaughtered (camels) (for them)." Qais said, "I did slaughter camels but they were hungry again. He said, "You should have slaughtered (camels) again." Qais said, "I did slaughter (camels) again but the people felt hungry again." He said, "You should have slaughtered (camels) again." Qais said, "I did slaughter (camels) again, but the people again felt hungry." He said, "You should have slaughtered (camels) again." Qais said, "But I was forbidden (by Abu 'Ubaida this time)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4014

Narrated by Jabir

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَی الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَأَکَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاکِبُ تَحْتَهُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ کُلُوا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَکَرْنَا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ أَطْعِمُونَا إِنْ کَانَ مَعَکُمْ فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ فَأَکَلَهُ

مسدد، یحیی ، ابن جریج، عمرو، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم جیش الخبط کے جہاد میں تھے اور ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے تو ہمیں سخت بھوک لگی تو سمندر نے ایک مری ہوئی مچھلی جسے عنبر کہتے ہیں باہر پھینک دی ہم نے اس جیسی مچھلی دیکھی ہی نہ تھی ہم نے اسے پندرہ دن تک کھایا حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک ہڈی لی تو ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا پھر ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت مجھے بتائی کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کھاؤ تو جب ہم مدینہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا بھیجا ہوا رزق ہے کھاؤ اگر تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لا کردیا تو آپ نے بھی کھایا۔

Narrated Jabir: We set out in the army of Al-Khabt and Abu Ubaida was the commander of the troops. We were struck with severe hunger and the sea threw out a dead fish the like of which we had never seen, and it was called Al-'Anbar. We ate of it for half a month. Abu Ubaida took (and fixed) one of its bones and a rider passed underneath it (without touching it). (Jabir added:) Abu 'Ubaida said (to us), "Eat (of that fish)." When we arrived at Medina, we informed the Prophet about that, and he said, "Eat, for it is food Allah has brought out for you, and feed us if you have some of it." So some of them gave him (of that fish) and he ate it.

Permalink