TrueHadith

یہود بنی نضیر کے پاس آنحضرت کا جانا دو آدمیوں کی دیت کے سلسلہ میں اور ان کا رسول خدا سے دغا کرنا زہری عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں ان کا بیان ہے کہ غزوہ بنی نضیر بدر سے چھ ماہ بعد اور احد سے پہلے ہوا اور اللہ تعالیٰ کا سورت حشر میں فرمانا ہوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتاب من دیارھم لاول الحشر وہی پروردگار ہے جس نے اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے نکالا یہ ان کا پہلا نکلنا تھا اور ابن اسحق نے بھی بنی نضیر کے بعد بیرمعونہ اور جنگ احد کا ذکر کیا ہے۔

Sahih BukhariHadith 3724

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَارَبَتْ النَّضِيرُ وَقُرَيْظَةُ فَأَجْلَی بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّی حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَائَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَی يَهُودَ الْمَدِينَةِ کُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَکُلَّ يَهُودِ الْمَدِينَةِ

اسحاق بن نصر، عبدالرزاق ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بنی نضیر اور بنی قریظہ نے جنگ کی، تو بنی نضیر کو جلا وطن کردیا گیا اور بنی قریظہ پر احسان کرکے ان کو رہنے دیا گیا لیکن انہوں نے دوبارہ آپ سے لڑائی کی تو مسلمانوں نے ان کے مردوں کو قتل کردیا اور عورتوں اور بچوں اور مال و اسباب کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا مگر جو لوگ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے یعنی مسلمان ہو گئے وہ باقی رہ گئے باقی مدینہ کے تمام یہودیوں کو جو بنی قینقاع یعنی عبداللہ بن سلام کی قوم والے تھے اور بنی حارثہ کے یہودیوں کو جو بھی یہودی مدینہ میں تھے سب کو نکال دیا۔

Narrated Ibn Umar: Bani An-Nadir and Bani Quraiza fought (against the Prophet violating their peace treaty), so the Prophet exiled Bani An-Nadir and allowed Bani Quraiza to remain at their places (in Medina) taking nothing from them till they fought against the Prophet again) . He then killed their men and distributed their women, children and property among the Muslims, but some of them came to the Prophet and he granted them safety, and they embraced Islam. He exiled all the Jews from Medina. They were the Jews of Bani Qainuqa', the tribe of 'Abdullah bin Salam and the Jews of Bani Haritha and all the other Jews of Medina.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3725

Narrated by Said bin Jubair

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِکٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ الْحَشْرِ قَالَ قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ تَابَعَهُ هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ

حسن بن مدرک، یحیی بن حماد، ابوعوانہ، ابوبشر، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے سورت حشرکاذ کر آیا تو انهوں نے فرمایا که سوره نضیر کهو! ابوعوانه کے ساتھ اس حدیث کو ہشیم نے بھی ابوبشر سے روایت کیا ہے ۔

Narrated Said bin Jubair: I mentioned to Ibn 'Abbas Surat-Hashr. He said, "Call it Surat-an-Nadir."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3726

Narrated by Anas bin Malik

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّی افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ فَکَانَ بَعْدَ ذَلِکَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ

عبداللہ بن اسود، معتمر بن سلیمان، اپنے والد سلیمان سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ آنحضرت کے لئے لوگوں نے کھجوروں کے درخت بطور تحفہ نامزد کردیئے تھے تاکہ آپ اس کے میوہ سے گزریں یہاں تک کہ آپ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر پر فتح پائی اور پھر آپ نے ان کو واپس کردیا۔

Narrated Anas bin Malik: Some people used to allot some date palm trees to the Prophet as gift till he conquered Banu Quraiza and Bani An-Nadir, where upon he started returning their date palms to them.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3727

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَنَزَلَتْ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ

آدم، لیث، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے درخت جلا دیئے بعض کٹوا دیئے جو بویرہ میں تھے چنانچہ اس وقت سورت حشر کی یه آیت اتری (ترجمه) یعنی جو درخت تم نے کاٹ دیئے یا ان کو انکی جڑوں کے ساتھ قائم رکھا سو یه الله کے حکم سے ہے ۔

Narrated Ibn Umar: Allah's Apostle had the date-palm trees of Bani Al-Nadir burnt and cut down at a place called Al-Buwaira. Allah then revealed: "What you cut down of the date-palm trees (of the enemy) Or you left them standing on their stems. It was by Allah's Permission." (59.5)

Permalink

Sahih BukhariHadith 3728

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ قَالَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَهَانَ عَلَی سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ قَالَ فَأَجَابَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ أَدَامَ اللَّهُ ذَلِکَ مِنْ صَنِيعٍ وَحَرَّقَ فِي نَوَاحِيهَا السَّعِيرُ سَتَعْلَمُ أَيُّنَا مِنْهَا بِنُزْهٍ وَتَعْلَمُ أَيُّ أَرْضَيْنَا تَضِيرُ

اسحاق، حبان، جویریہ بن اسماء، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجور کے درخت جلوا دیئے چنانچہ حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثابت نے یہ شعر کہا : یعنی بنی لوئی کے شریفوں پر ہوگیا آسان۔ لگی ہو آگ بویرہ میں سب طرف برابر۔ ابوسفیان بن حارث نے حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب میں کہا : یعنی خدا کرے کہ ہمیشہ یہ حال وہاں رہے، مدینہ کے چاروں طرف ہو آتش سوزاں، یہ جان لوگے تم عنقریب کون ہم میں رہے گا، محفوظ اور کون سا ملک اور اٹھائے گا نقصان۔

Narrated Ibn Umar: The Prophet burnt the date-palm trees of Bani An-Nadir. Hassan bin Thabit said the following poetic Verses about this event:-- "the terrible burning of Al-Buwaira Has been received indifferently By the nobles of Bani Luai (The masters and nobles of Quraish)." Abu Sufyan bin Al-Harith (i.e. the Prophet's cousin who was still a disbeliever then) replied to Hassan, saying in poetic verses:-- "May Allah bless that burning And set all its (i.e. Medina's) Parts on burning fire. You will see who is far from it (i.e. Al-Buwaira) And which of our lands will be Harmed by it (i.e. the burning of Al-Buwaira)."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3729

Narrated by Malik bin Aus Al-Hadathan An-Nasri

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَاهُ إِذْ جَائَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ فَقَالَ نَعَمْ فَأَدْخِلْهُمْ فَلَبِثَ قَلِيلًا ثُمَّ جَائَ فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ يَسْتَأْذِنَانِ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا دَخَلَا قَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي الَّذِي أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ فَاسْتَبَّ عَلِيٌّ وَعَبَّاسٌ فَقَالَ الرَّهْطُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدُوا أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ بِذَلِکَ نَفْسَهُ قَالُوا قَدْ قَالَ ذَلِکَ فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَی عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ ذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُحَدِّثُکُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ کَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْئِ بِشَيْئٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَقَالَ جَلَّ ذِکْرُهُ وَمَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ إِلَی قَوْلِهِ قَدِيرٌ فَکَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَکُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْکُمْ لَقَدْ أَعْطَاکُمُوهَا وَقَسَمَهَا فِيکُمْ حَتَّی بَقِيَ هَذَا الْمَالُ مِنْهَا فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَعَمِلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَهُ أَبُو بَکْرٍ فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ فَأَقْبَلَ عَلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ وَقَالَ تَذْکُرَانِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ فِيهِ کَمَا تَقُولَانِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تَوَفَّی اللَّهُ أَبَا بَکْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ فَقَبَضْتُهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي أَعْمَلُ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهِ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ جِئْتُمَانِي کِلَاکُمَا وَکَلِمَتُکُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُکُمَا جَمِيعٌ فَجِئْتَنِي يَعْنِي عَبَّاسًا فَقُلْتُ لَکُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْکُمَا قُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهُ إِلَيْکُمَا عَلَی أَنَّ عَلَيْکُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَمَا عَمِلْتُ فِيهِ مُنْذُ وَلِيتُ وَإِلَّا فَلَا تُکَلِّمَانِي فَقُلْتُمَا ادْفَعْهُ إِلَيْنَا بِذَلِکَ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْکُمَا أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَائً غَيْرَ ذَلِکَ فَوَاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ لَا أَقْضِي فِيهِ بِقَضَائٍ غَيْرِ ذَلِکَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهُ فَادْفَعَا إِلَيَّ فَأَنَا أَکْفِيکُمَاهُ قَالَ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ صَدَقَ مَالِکُ بْنُ أَوْسٍ أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکُنْتُ أَنَا أَرُدُّهُنَّ فَقُلْتُ لَهُنَّ أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ بِذَلِکَ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ فَانْتَهَی أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی مَا أَخْبَرَتْهُنَّ قَالَ فَکَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيٍّ مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ کَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ کِلَاهُمَا کَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا

ابوالیمان، شعیب زہری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا مجھے مالک بن اوس بن حدثان نصری نے خبر دی کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلایا کہ اتنے میں ان کے پاس یرفادربان نے آکر کہا آپ چاہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئیں آپ نے فرمایا آنے دو تھوڑی دیر کے بعد پھر یرفا نے کہا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آنا چاہتے ہیں فرمایا آنے دو پھر وہ آئے اور سلام کیا پھر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا امیرالمومنین! میرے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان اس جھگڑے کا فیصلہ کردیجئے جو اس مال کے متعلق ہے جو اللہ نے بلا لڑے ہوئے بنی نضیر سے اپنے رسول کو دلوایا ہے اور آپس میں سخت کلامی بھی ہوئی ہے تاکہ یہ رات دن کا جھگڑا ختم ہوجائے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ذرا ٹھہرو جلدی مت کرو! میں تم کو اس پروردگار کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں تم کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم لوگوں کا کوئی وارث نہں ہوتا، جو مال ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے انہوں نے کہا بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کیا تم کو معلوم ہے کہ رسول اکرم نے ایسا ہی فرمایا تھا انہوں نے کہا بے شک ایسا ہی فرمایا تھا اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اب تم کو معاملہ کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت میں ایک خاص حق دیا تھا جو دوسرے پیغمبروں کو نہیں دیا گیا، چنانچہ سورت حشر میں ارشاد فرماتاهے (ترجمه) جو مال الله نے اپنے رسول کے واسطے بنی نضیر کاغنیمت میں دیا تھا اس کے حاصل کرنے کیلئے تم نے اپنے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑای تھیں، لهذا اس قسم کے مال خاص آنحضرت صلی الله علیه وسلم کیلئے تھے مجاهدین کا اس پرکوئ حق نہیں تھا، مگر خدا کی قسم! آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے اس مال کو خاص اپنی ذات کے لئے محفوظ نہیں رکھا بلکه اپنی ذات پر خرچ کیا اور جو بچ گیا وه بانٹ دیا، جو باقی رهتا اس میں سے اپنی بیویوں کے لئے سال بھر کا خرچ نکالتے اور پھر جو بچتا اس کو الله کی راه میں خرچ کردیتے، اور آپ صلی الله علیه وسلم اپنی تمام زندگی ایساهی کرتے رهے جب آپ صلی الله علیه وسلم کی وفات ہوگء تو حضرت ابوبکر نے یه کہه کر میں رسول خدا کا جانشین ہوں اس پر قبضه کرلیا اور اس کو اسی طرح تقسیم اور خرچ کرتے رهے، اور تم اس وقت ان سے اس سلسله میں شکوه کرتے تھے، حالانکه خدا جانتا ہے که وه اپنے اس طرز عمل میں حق بجانب تھے، جب حضرت ابوبکر نے وفات پائی تو میں نے خود کو ان دونوں حضرات کا ولی اور جانشین سمجھتے ہوئے وهی کیا اور کررها ہوں جو حضرت ابوبکر کیا کرتے تھے، اور الله تعالیٰ جانتاهے که میں اس میں سچا اور حق کا پیروکار ہوں، پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور متفق الرائے تھے، پھر اے عباس تم میرے پاس آئے اور میں نے تم سے یهی کہاکه رسول اکرم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا ہے که ہمارا کوئی وارث نہیں ہے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وه صدقه ہے، پھر میں نے سوچا که تم دونوں کے سپرد اس کام کے انتظام کو کردوں، پھر میں نے آپ دونوں سے کہا که میں چاهتا ہوں که یه کام آپ دونوں کے سپرد کردوں بشرطیکه آپ خدا کے عهد وپیمان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو اسی طرح انجام دیتے رهو جس طرح رسول الله صلی الله علیه وسلم کرتے رهے، ابوبکر کرتے رهے، اور میں کررها ہوں، اگر تم کو یه شرط منظور نہیں ہے تو پھر کسی گفتگو کی ضرورت نهیں، تم نے اس کو منظور کرلیا، میں نے حواله کردیا اب اگر تم اس کے سوا کوئی فیصله چاهتے ہو تو قسم! اس پروردگار کی جس کے حکم سے آسمان وزمین قائم ہیں، میں قیامت تک کوئی دوسرا فیصله کرنے والانهیں، البته اگر تم سے اس مال کا انتظام نہیں ہوسکتا تو پھر میرے حواله کردو میں خود کرلیا کروں گا، زهری کهتے ہیں که میں نے اس حدیث کو عروه سے بیان کیا تو انهوں نے کہاکه مالک بن اوس نے سچ کہا! کیونکه میں نے حضرت عائشه آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی بیوی سے سناکه حضرت رسول اکرم کی بیویوں نے حضرت عثمان کو حضرت ابوبکر کے پاس بھیجا تاکه وه اس مال میں سے جو بنی نضیر سے ملا تھا، اپنا آٹھواں حصه حاصل کریں، لیکن میں نے ان کو منع کردیا، اور کہاکه تم کو خوف خدا نہیں ہے که رسول الله صلی الله علیه وسلم فرمایا کرتے تھے که پیغبروں کا کوئی وارث نہیں ہے ہم جو کچھ چھوڑیں وه صدقه ہے، آپ نے اس سے اپنی ذات مراد لی ۔ صرف آل محمد صلی الله علیه وسلم اس مال میں سے کھاسکتے ہیں اور گزارے کیلئے لے سکتے ہیں، یه سن کربیویاں ترکه مانگنے سے باز آگئیں، عروه نے کہا که یه مال حضرت علی کے قبضه میں رهے، انهوں نے حضرت عباس کو اس پر قبضه نه کرنے دیا ان کے بعد امام حسن، پھر امام حسین اور پھر زین العابدین اور حسن بن علی باری باری انتظام کرتے رهے، پھر زید بن حسن کے قبضه میں رها حالانکه رسول الله صلی الله علیه وسلم کا خالص صدقه تھا۔

Narrated Malik bin Aus Al-Hadathan An-Nasri: That once 'Umar bin Al-Khattab called him and while he was sitting with him, his gatekeeper, Yarfa came and said, "Will you admit 'Uthman, 'Abdur-Rahman bin Auf, AzZubair and Sad (bin Abi Waqqas) who are waiting for your permission?" 'Umar said, "Yes, let them come in." After a while, Yarfa- came again and said, "Will you admit 'Ali and 'Abbas who are asking your permission?" 'Umar said, "Yes." So, when the two entered, 'Abbas said, "O chief of the believers! Judge between me and this (i.e. 'Ali). "Both of them had a dispute regarding the property of Bani An-Nadir which Allah had given to His Apostle as Fai (i.e. booty gained without fighting), 'Ali and 'Abbas started reproaching each other. The (present) people (i.e. 'Uthman and his companions) said, "O chief of the believers! Give your verdict in their case and relieve each from) the other." 'Umar said, "Wait I beseech you, by Allah, by Whose Permission both the heaven and the earth stand fast! Do you know that Allah's Apostle said, 'We (Prophets) our properties are not to be inherited, and whatever we leave, is to be spent in charity,' and he said it about himself?" They (i.e. 'Uthman and his company) said, "He did say it. "'Umar then turned towards 'Ali and 'Abbas and said, "I beseech you both, by Allah! Do you know that Allah's Apostle said this?" They replied in the affirmative. He said, "Now I am talking to you about this matter. Allah the Glorified favored His Apostle with something of this Fai (i.e. booty won without fighting) which He did not give to anybody else. Allah said:-- "And what Allah gave to His Apostle ("Fai"" Booty) from them--For which you made no expedition With either Calvary or camelry. But Allah gives power to His Apostles Over whomsoever He will And Allah is able to do all things." (59.6) So this property was especially granted to Allah's Apostle . But by Allah, the Prophet neither took it all for himself only, nor deprived you of it, but he gave it to all of you and distributed it amongst you till only this remained out of it. And from this Allah's Apostle used to spend the yearly maintenance for his family, and whatever used to remain, he used to spend it where Allah's Property is spent (i.e. in charity), Allah's Apostle kept on acting like that during all his life, Then he died, and Abu Bakr said, 'I am the successor of Allah's Apostle.' So he (i.e. Abu Bakr) took charge of this property and disposed of it in the same manner as Allah's Apostle used to do, and all of you (at that time) knew all about it." Then 'Umar turned towards 'Ali and 'Abbas and said, "You both remember that Abu Bakr disposed of it in the way you have described and Allah knows that, in that matter, he was sincere, pious, rightly guided and the follower of the right. Then Allah caused Abu Bakr to die and I said, 'I am the successor of Allah's Apostle and Abu Bakr.' So I kept this property in my possession for the first two years of my rule (i.e. Caliphate and I used to dispose of it in the same wa as Allah's Apostle and Abu Bakr used to do; and Allah knows that I have been sincere, pious, rightly guided an the follower of the right (in this matte Later on both of you (i.e. 'Ali and Abbas) came to me, and the claim of you both was one and the same, O 'Abbas! You also came to me. So I told you both that Allah's Apostle said, "Our property is not inherited, but whatever we leave is to be given in charity.' Then when I thought that I should better hand over this property to you both or the condition that you will promise and pledge before Allah that you will dispose it off in the same way as Allah's Apostle and Abu Bakr did and as I have done since the beginning of my caliphate or else you should not speak to me (about it).' So, both of you said to me, 'Hand it over to us on this condition.' And on this condition I handed it over to you. Do you want me now to give a decision other than that (decision)? By Allah, with Whose Permission both the sky and the earth stand fast, I will never give any decision other than that (decision) till the Last Hour is established. But if you are unable to manage it (i.e. that property), then return it to me, and I will manage on your behalf." The sub-narrator said, "I told 'Urwa bin Az-Zubair of this Hadith and he said, 'Malik bin Aus has told the truth" I heard 'Aisha, the wife of the Prophet saying, 'The wives of the Prophet sent 'Uthman to Abu Bakr demanding from him their 1/8 of the Fai which Allah had granted to his Apostle. But I used to oppose them and say to them: Will you not fear Allah? Don't you know that the Prophet used to say: Our property is not inherited, but whatever we leave is to be given in charity? The Prophet mentioned that regarding himself. He added: 'The family of Muhammad can take their sustenance from this property. So the wives of the Prophet stopped demanding it when I told them of that.' So, this property (of Sadaqa) was in the hands of Ali who withheld it from 'Abbas and overpowered him. Then it came in the hands of Hasan bin 'Ali, then in the hands of Husain bin 'Ali, and then in the hands of Ali bin Husain and Hasan bin Hasan, and each of the last two used to manage it in turn, then it came in the hands of Zaid bin Hasan, and it was truly the Sadaqa of Allah's Apostle ."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3730

Narrated by 'Aisha

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا أَرْضَهُ مِنْ فَدَکٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي

ابراہیم بن موسی، ہشام، معمر، زہری، حضرت عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عباس اور حضرت فاطمہ الزہراء دونوں حضرت ابوبکر کے پاس آکر اپنا ترکہ زمین فدک اور آمدنی خیبر سے مانگنے لگے، حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ اپنی گزر کے لیے اس میں سے لے سکتے ہیں، رہا سلوک کرنا تو خدا کی قسم! میں رسول اکرم کے رشتہ داروں سے سلوک کرنے کو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔

Narrated 'Aisha: Fatima and Al'Abbas came to Abu Bakr, claiming their inheritance of the Prophet's land of Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr said, "I heard the Prophet saying, 'Our property is not inherited, and whatever we leave is to be given in charity. But the family of Muhammad can take their sustenance from this property.' By Allah, I would love to do good to the Kith and kin of Allah's Apostle rather than to my own Kith and kin."

Permalink