TrueHadith

قصہ قتل ابورافع عبداللہ بن ابی الحقیق بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کا نام سلام بن ابی الحقیق ہے اور وہ خیبر میں رہتا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ اپنے قلعہ واقع حجاز میں رہتا تھا زہری کا بیان ہے کہ ابورافع کو کعب بن اشرف کے بعد قتل کیا گیا ہے (رمضان ھ میں)

Sahih BukhariHadith 3732

Narrated by Al-Bara bin Azib

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا إِلَی أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيکٍ بَيْتَهُ لَيْلًا وَهُوَ نَائِمٌ فَقَتَلَهُ

اسحاق بن نصر، یحیی بن آدم، ابن ابی زائدہ، ابوزائدہ، ابواسحاق سبیعی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو ابورافع کے پاس بھیجا اس میں عبداللہ بن عتیک بھی تھے وہ رات کو اس کے گھر میں گھسے وہ سو رہا تھا اور انہوں نے اس کو اسی حالت میں قتل کردیا۔

Narrated Al-Bara bin Azib: Allah's Apostle sent a group of persons to Abu Rafi. Abdullah bin Atik entered his house at night, while he was sleeping, and killed him.

Permalink

Sahih BukhariHadith 3733

Narrated by Al-Bara bin Azib

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي رَافِعٍ الْيَهُودِيِّ رِجَالًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيکٍ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِينُ عَلَيْهِ وَکَانَ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُ وَقَدْ غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ اجْلِسُوا مَکَانَکُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ وَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ فَأَقْبَلَ حَتَّی دَنَا مِنْ الْبَابِ ثُمَّ تَقَنَّعَ بِثَوْبِهِ کَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ کُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ فَدَخَلْتُ فَکَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَغَالِيقَ عَلَی وَتَدٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَی الْأَقَالِيدِ فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ وَکَانَ فِي عَلَالِيَّ لَهُ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ کُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلٍ قُلْتُ إِنْ الْقَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوا إِلَيَّ حَتَّی أَقْتُلَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنْ الْبَيْتِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ قَالَ مَنْ هَذَا فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ وَأَنَا دَهِشٌ فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا وَصَاحَ فَخَرَجْتُ مِنْ الْبَيْتِ فَأَمْکُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ لِأُمِّکَ الْوَيْلُ إِنَّ رَجُلًا فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنَتْهُ وَلَمْ أَقْتُلْهُ ثُمَّ وَضَعْتُ ظِبَةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّی أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی دَرَجَةٍ لَهُ فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا أُرَی أَنِّي قَدْ انْتَهَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْکَسَرَتْ سَاقِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّی جَلَسْتُ عَلَی الْبَابِ فَقُلْتُ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّی أَعْلَمَ أَقَتَلْتُهُ فَلَمَّا صَاحَ الدِّيکُ قَامَ النَّاعِي عَلَی السُّورِ فَقَالَ أَنْعَی أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَهْلِ الْحِجَازِ فَانْطَلَقْتُ إِلَی أَصْحَابِي فَقُلْتُ النَّجَائَ فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ أَبَا رَافِعٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ ابْسُطْ رِجْلَکَ فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا فَکَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَکِهَا قَطُّ

یوسف بن موسی، عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، ابواسحاق، براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع کے پاس کئی انصاریوں کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سردار مقرر کیا ابورافع دشمن رسول تھا اور مخالفین رسول کی مدد کرتا تھا اس کا قلعہ حجاز میں تھا اور وہ اسی میں رہا کرتا تھا جب یہ لوگ اس کے قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج ڈوب گیا تھا اور لوگ اپنے جانوروں کو شام ہونے کی وجہ سے واپس لا رہے تھے عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساتھیوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی بہانہ کرکے اندر جانے کی کوشش کروں گا چنانچہ عبداللہ گئے اور دروازہ کے قریب پہنچ گئے پھر خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپایا جیسے کوئی رفع حاجت کے لئے بیٹھتا ہے قلعہ والے اندر جا چکے تھے دربان نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ خیال کرکے کہ ہمارا ہی آدمی ہے آواز دی اور کہا! اے اللہ کے بندے اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آ جا کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر اندر گیا اور چھپ رہا اور دربان نے دروازہ بند کرکے چابیاں کیل میں لٹکا دیں جب دربان سو گیا تو میں نے اٹھ کر چابیاں اتارلیں اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا تاکہ بھاگنے میں آسانی ہو ادھر ابورافع کے پاس رات کو داستان ہوتی تھی وہ اپنے بالا خانے پر بیٹھا داستان سن رہا تھا جب داستان کہنے والے تمام چلے گئے اور ابورافع سو گیا تو میں بالا خانہ پر چڑھا اور جس دروازہ میں داخل ہوتا تھا اس کو اندر سے بند کرلیتا تھا اور اس سے میری یہ غرض تھی کہ اگر لوگوں کو میری خبر ہوجائے تو ان کے پہنچنے تک میں ابورافع کا کام تمام کردوں غرض میں ابورافع تک پہنچا وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے بچوں کے ساتھ سو رہا تھا میں اس کی جگہ کو اچھی طرح معلوم نہ کر سکا اور ابورافع کہہ کر پکارا اس نے کہا کون ہے؟ میں نے آواز پر بڑھ کر تلوار کا ہاتھ مارا میرا دل دھڑک رہا تھا مگر یہ وار خالی گیا اور وہ چلایا میں کوٹھڑی سے باہر آ گیا اور پھر فورا ہی اندر جا کر پوچھا کہ اے ابورافع تم کیوں چلائے؟ اس نے مجھے اپنا آدمی سمجھا اور کہا تیری ماں تجھے روئے ابھی کسی نے مجھ سے تلوار سے وار کیا ہے یہ سنتے ہی میں نے ایک ضرب اور لگائی اور زخم اگرچہ گہرا لگا لیکن مرا نہیں آخر میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھ دی اور زور سے دبائی وہ چیرتی ہوئی پیٹھ تک پہنچ گئی اب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ہلاک ہوگیا پھر میں واپس لوٹا اور ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا اور سیڑھیوں سے اترتا جاتا تھا میں سمجھا کہ زمین آگئی ہے چاند نی رات تھی میں گر پڑا اور پنڈلی ٹوٹ گئی میں نے اپنے عمامہ سے پنڈلی کو باندھ لیا اور قلعہ سے باہر آکر دروازہ پر بیٹھ گیا اور دل میں طے کرلیا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کے مرنے کا یقین نہ ہوجائے آخر صبح ہوئی مرغ نے اذان دی اور قلعہ کے اوپر دیوار پر کھڑے ہو کر ایک شخص نے کہا کہ لوگو! ابورافع حجاز کا سوداگر مر گیا میں یہ سنتے ہی اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا اور ان سے آکر کہا اب جلدی چلو یہاں سے اللہ نے ابورافع کو ہلاک کرا دیا اس کے بعد ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر خوشخبری سنائی آپ نے میرے پیر کو دیکھا اور فرمایا کہ اپنا پاؤ پھیلاؤ میں نے پھیلایا آپ نے دست مبارک پھیر دیا بس ایسا معلوم ہوا کہ اس پیر کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔

Narrated Al-Bara bin Azib: Allah's Apostle sent some men from the Ansar to ((kill) Abu Rafi, the Jew, and appointed 'Abdullah bin Atik as their leader. Abu Rafi used to hurt Allah's Apostle and help his enemies against him. He lived in his castle in the land of Hijaz. When those men approached (the castle) after the sun had set and the people had brought back their livestock to their homes. Abdullah (bin Atik) said to his companions, "Sit down at your places. I am going, and I will try to play a trick on the gate-keeper so that I may enter (the castle)." So 'Abdullah proceeded towards the castle, and when he approached the gate, he covered himself with his clothes, pretending to answer the call of nature. The people had gone in, and the gate-keeper (considered 'Abdullah as one of the castle's servants) addressing him saying, "O Allah's Servant! Enter if you wish, for I want to close the gate." 'Abdullah added in his story, "So I went in (the castle) and hid myself. When the people got inside, the gate-keeper closed the gate and hung the keys on a fixed wooden peg. I got up and took the keys and opened the gate. Some people were staying late at night with Abu Rafi for a pleasant night chat in a room of his. When his companions of nightly entertainment went away, I ascended to him, and whenever I opened a door, I closed it from inside. I said to myself, 'Should these people discover my presence, they will not be able to catch me till I have killed him.' So I reached him and found him sleeping in a dark house amidst his family, I could not recognize his location in the house. So I shouted, 'O Abu Rafi!' Abu Rafi said, 'Who is it?' I proceeded towards the source of the voice and hit him with the sword, and because of my perplexity, I could not kill him. He cried loudly, and I came out of the house and waited for a while, and then went to him again and said, 'What is this voice, O Abu Rafi?' He said, 'Woe to your mother! A man in my house has hit me with a sword! I again hit him severely but I did not kill him. Then I drove the point of the sword into his belly (and pressed it through) till it touched his back, and I realized that I have killed him. I then opened the doors one by one till I reached the staircase, and thinking that I had reached the ground, I stepped out and fell down and got my leg broken in a moonlit night. I tied my leg with a turban and proceeded on till I sat at the gate, and said, 'I will not go out tonight till I know that I have killed him.' So, when (early in the morning) the cock crowed, the announcer of the casualty stood on the wall saying, 'I announce the death of Abu Rafi, the merchant of Hijaz. Thereupon I went to my companions and said, 'Let us save ourselves, for Allah has killed Abu Rafi,' So I (along with my companions proceeded and) went to the Prophet and described the whole story to him. "He said, 'Stretch out your (broken) leg. I stretched it out and he rubbed it and it became All right as if I had never had any ailment whatsoever."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3734

Narrated by Al-Bara

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا شُرَيْحٌ هُوَ ابْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي رَافِعٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيکٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ فِي نَاسٍ مَعَهُمْ فَانْطَلَقُوا حَتَّی دَنَوْا مِنْ الْحِصْنِ فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيکٍ امْکُثُوا أَنْتُمْ حَتَّی أَنْطَلِقَ أَنَا فَأَنْظُرَ قَالَ فَتَلَطَّفْتُ أَنْ أَدْخُلَ الْحِصْنَ فَفَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ قَالَ فَخَرَجُوا بِقَبَسٍ يَطْلُبُونَهُ قَالَ فَخَشِيتُ أَنْ أُعْرَفَ قَالَ فَغَطَّيْتُ رَأْسِي وَجَلَسْتُ کَأَنِّي أَقْضِي حَاجَةً ثُمَّ نَادَی صَاحِبُ الْبَابِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ فَلْيَدْخُلْ قَبْلَ أَنْ أُغْلِقَهُ فَدَخَلْتُ ثُمَّ اخْتَبَأْتُ فِي مَرْبِطِ حِمَارٍ عِنْدَ بَابِ الْحِصْنِ فَتَعَشَّوْا عِنْدَ أَبِي رَافِعٍ وَتَحَدَّثُوا حَتَّی ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی بُيُوتِهِمْ فَلَمَّا هَدَأَتْ الْأَصْوَاتُ وَلَا أَسْمَعُ حَرَکَةً خَرَجْتُ قَالَ وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْبَابِ حَيْثُ وَضَعَ مِفْتَاحَ الْحِصْنِ فِي کَوَّةٍ فَأَخَذْتُهُ فَفَتَحْتُ بِهِ بَابَ الْحِصْنِ قَالَ قُلْتُ إِنْ نَذِرَ بِي الْقَوْمُ انْطَلَقْتُ عَلَی مَهَلٍ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَی أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ فَغَلَّقْتُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ ظَاهِرٍ ثُمَّ صَعِدْتُ إِلَی أَبِي رَافِعٍ فِي سُلَّمٍ فَإِذَا الْبَيْتُ مُظْلِمٌ قَدْ طَفِئَ سِرَاجُهُ فَلَمْ أَدْرِ أَيْنَ الرَّجُلُ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ فَعَمَدْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ وَصَاحَ فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ جِئْتُ کَأَنِّي أُغِيثُهُ فَقُلْتُ مَا لَکَ يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي فَقَالَ أَلَا أُعْجِبُکَ لِأُمِّکَ الْوَيْلُ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ فَضَرَبَنِي بِالسَّيْفِ قَالَ فَعَمَدْتُ لَهُ أَيْضًا فَأَضْرِبُهُ أُخْرَی فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا فَصَاحَ وَقَامَ أَهْلُهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي کَهَيْئَةِ الْمُغِيثِ فَإِذَا هُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَی ظَهْرِهِ فَأَضَعُ السَّيْفَ فِي بَطْنِهِ ثُمَّ أَنْکَفِئُ عَلَيْهِ حَتَّی سَمِعْتُ صَوْتَ الْعَظْمِ ثُمَّ خَرَجْتُ دَهِشًا حَتَّی أَتَيْتُ السُّلَّمَ أُرِيدُ أَنْ أَنْزِلَ فَأَسْقُطُ مِنْهُ فَانْخَلَعَتْ رِجْلِي فَعَصَبْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي أَحْجُلُ فَقُلْتُ انْطَلِقُوا فَبَشِّرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَا أَبْرَحُ حَتَّی أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ فَلَمَّا کَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ صَعِدَ النَّاعِيَةُ فَقَالَ أَنْعَی أَبَا رَافِعٍ قَالَ فَقُمْتُ أَمْشِي مَا بِي قَلَبَةٌ فَأَدْرَکْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ أَنْ يَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشَّرْتُهُ

احمد بن عثمان، شریح بن مسلمہ، ابراہیم بن یوسف اپنے والد یوسف بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت براء بن عازب کو کہتے ہوئے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع کے مارنے کے لئے عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کئی آدمیوں کو روانہ فرمایا یہ لوگ جب اس قلعہ کے قریب پہنچے تو ابن عتیک نے ساتھیوں سے کہا کہ تم سب یہیں ٹھہرو میں جا کر موقعہ دیکھتا ہوں ابن عتیک کہتے ہیں کہ میں گیا اور دربان کو ملنے کی تدبیر کر رہا تھا کہ اتنے میں قلعہ والوں کا گدھا گم ہوگیا اور وہ اسے روشنی لے کر تلاش کرنے نکلے میں ڈرا کہ کہیں مجھ کو پہچان نہ لیں لہذا میں نے اپنا سر چھپا لیا اور اس طرح بیٹھ گیا جس طرح کوئی رفع حاجت کے لئے بیٹھتا ہے اتنے میں دربان نے آواز دی کہ دروازہ بند ہوتا ہے جو اندر آنا چاہے آجائے چنانچہ میں جلدی سے اندر داخل ہوگیا اور گدھوں کے باندھنے کی جگہ چھپ گیا قلعہ والوں نے ابورافع کے ساتھ کھانا کھایا اور پھر کچھ رات گئے تک باتیں کرتے رہے جب سب چلے گئے اور ہر طرف سناٹا چھا گیا میں نکلا اور دربان نے جہاں دروازہ کی چابی رکھی تھی اٹھالی اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا تاکہ آسانی سے بھاگ سکوں اس کے بعد میں قلعہ میں جو مکانات تھے ان کے پاس گیا اور باہر سے سب کی زنجیر لگا دی اس کے بعد میں ابورافع کی سیڑھیوں پر چڑھا کیا دیکھتا ہوں کہ کمرے میں اندھیرا ہے مجھے اس کا مقام معلوم نہ ہو سکا آخر میں نے ابورافع کہہ کر پکارا اس نے پوچھا کون ہے؟ میں نے بڑھ کر آواز پر تلوار کا ہاتھ مارا وہ چیخا مگر وار اوچھا پڑا میں تھوڑی دیر ٹھہر کر قریب گیا اور دریافت کیا کہ اے ابورافع کیا بات ہے! اس نے سمجھا کہ شاید میرا کوئی آدمی میری مدد کو آیا ہے اس لئے اس نے کہا : ارے تیری ماں مرے کسی نے میرے اوپر تلوار سے وار کیا ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے پھر وار کیا مگر ہلکا لگا اس کی بیوی بھاگی اور وہ چیخا میں نے پھر آواز بدل دی اور مددگار کی حیثیت سے اس کے قریب گیا وہ چت پڑا تھا میں نے تلوار پیٹ پر رکھ کر زور سے دبا دی اب ہڈیاں کو کھنے کی آواز میں نے سنی اب میں اس کا کام تمام کرکے ڈرتا ہوا گھبراہٹ میں چاہتا تھا کہ نیچے اتروں مگر جلدی میں گر پڑا اور پاؤں کا جوڑ نکل گیا میں نے پیر کو کپڑے سے باندھ لیا اور پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے ساتھیوں سے آکر کہا کہ تم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے قتل کی خبر سناؤ میں اس کی موت کی یقینی خبر سننے تک یہیں رہتا ہوں آخر صبح کے قریب ایک شخص نے دیوار پر چڑھ کر کہا کہ لوگو! میں ابورافع کی موت کی خبر سناتا ہوں ابن عتیک کہتے ہیں کہ میں چلنے کے لئے اٹھا مگر خوشی کی وجہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں کی میں تیزی سے چلا اور ساتھیوں کے رسول خدا کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی ان کو پکڑ لیا اور پھر خود ہی آپ کو یہ خوشخبری سنائی آپ نے پنڈلی پر ہاتھ پھیرا اور میں بالکل تندرست ہوگیا۔

Narrated Al-Bara: Allah's Apostle sent 'Abdullah bin 'Atik and 'Abdullah bin 'Utba with a group of men to Abu Rafi (to kill him). They proceeded till they approached his castle, whereupon 'Abdullah bin Atik said to them, "Wait (here), and in the meantime I will go and see." 'Abdullah said later on, "I played a trick in order to enter the castle. By chance, they lost a donkey of theirs and came out carrying a flaming light to search for it. I was afraid that they would recognize me, so I covered my head and legs and pretended to answer the call to nature. The gatekeeper called, 'Whoever wants to come in, should come in before I close the gate.' So I went in and hid myself in a stall of a donkey near the gate of the castle. They took their supper with Abu Rafi and had a chat till late at night. Then they went back to their homes. When the voices vanished and I no longer detected any movement, I came out. I had seen where the gate-keeper had kept the key of the castle in a hole in the wall. I took it and unlocked the gate of the castle, saying to myself, 'If these people should notice me, I will run away easily.' Then I locked all the doors of their houses from outside while they were inside, and ascended to Abu Rafi by a staircase. I saw the house in complete darkness with its light off, and I could not know where the man was. So I called, 'O Abu Rafi!' He replied, 'Who is it?' I proceeded towards the voice and hit him. He cried loudly but my blow was futile. Then I came to him, pretending to help him, saying with a different tone of my voice, ' What is wrong with you, O Abu Rafi?' He said, 'Are you not surprised? Woe on your mother! A man has come to me and hit me with a sword!' So again I aimed at him and hit him, but the blow proved futile again, and on that Abu Rafi cried loudly and his wife got up. I came again and changed my voice as if I were a helper, and found Abu Rafi lying straight on his back, so I drove the sword into his belly and bent on it till I heard the sound of a bone break. Then I came out, filled with astonishment and went to the staircase to descend, but I fell down from it and got my leg dislocated. I bandaged it and went to my companions limping. I said (to them), 'Go and tell Allah's Apostle of this good news, but I will not leave (this place) till I hear the news of his (i.e. Abu Rafi's) death.' When dawn broke, an announcer of death got over the wall and announced, 'I convey to you the news of Abu Rafi's death.' I got up and proceeded without feeling any pain till I caught up with my companions before they reached the Prophet to whom I conveyed the good news."

Permalink